Al-Risala · May 1992

دنیا انتظار میں ہے

Al-Risala, May 1992, pp. 48–50

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور انگریز مورخ آرنلڈ ٹوائن بی کی ۲۶۳ صفحات کی ایک کتاب ہے جس کا نام تہذیب کا امتحان ہے ۔ مصنف کے الفاظ میں یہ کتاب انسان کے حال اور مستقبل کے بارہ میں ایک مورخ کے کو بیان کرتی ہے : (Standpoint of a historian)

Arnold J. Toynbee. Civilization on Trial, London 1948 کتاب میں مصنف نے ایک بات یہ لکھی ہے کہ جدید تہذیب نے مادی اعتبار سے انسان کو بہت کچھ دیا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے بہت سے مسائل بھی پیدا کئے ہیں جن کا حل بظاہر اس کے ان مسائل میں سے دو چیزیں ــــ نسلی امتیاز اور شراب ہیں۔ مصنف نے اعتراف کیا ہے کہ ان دونوں برائیوں کو ختم کرنے میں مغربی تہذیب ناکام ہو چکی ہے، اور اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے دونوں برائیوں کو ختم کرنے میں پوری کامیابی حاصل کی۔ ہم اسلام میں کچھ ایسے اصول پاسکتے ہیں جو کہ اگر نئے سماج کے اندر رائج کئے جائیں تو ان کا نہایت مفید اثر قریب مستقبل میں ظاہر ہو سکتا ہے ۔ ہمارے موجودہ سماجی تعلقات میں دو کھلے ہوئے خطرے موجود ہیں ، ایک نفسیاتی اور دوسرا مادی ۔ یہ خطرے ہماری موجودہ مغربی سوسائٹی کے اہم اجزاء بن گئے ہیں۔ وہ ہیں ــــــــ شراب اور نسلی امتیاز ۔ ان دونوں برائیوں کو ختم کرنے کے لئے اسلام اہم خدمت انجام دے سکتا ہے۔ اگر یہاں اسلام کو اختیار کر لیا جائے تو وہ اخلاقی اور سماجی اعتبار سے نہایت مفید ثابت ہوگا ۔ مسلمانوں میں نسلی امتیاز کا ختم ہو جانا اسلام کا عظیم اخلاقی کارنامہ ہے۔ اور آج کی دنیا میں اسلام کے ان اصولوں کی تبلیغ شدید ضرورت بن گئی ہے (صفحہ ۲۰۵) We can, however, discern certain principle of Islam which, if brought to bear on the social life of the new cosmopolitan proletariat, might have important salutary effects on 'the great society' in a nearer future. Two conspicuous sources of danger - one psychological and the other material - in the present relations of this cosmopolitan proletariat with the dominant element in our modern Western society are race con- sciousness and alcohol; and in the struggle with each of these evils the Islamic spirit nas a service to render which might prove, if it were accepted, to be of high moral and The extinction of race consciousness as between Muslims is one of the outstanding moral achievements of Islam, and in the contemporary world there is, as it happens, crying need for the propagation of this Islamic virtue. (p. 205)

شراب کی ثابت شدہ خرابیوں کی بنا پر ۱۹۱۹ میں امریکہ کے دستور میں ۱۸ ویں ترمیم منظور اس کے مطابق ، شراب کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا۔ مگر حکومت کے تمام ذرائع کو استعمال کرنے کے باوجود ملک سے شراب ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ غیر قانونی شراب کا کاروبار بہت بڑے پیمانے پر سارے ملک میں پھیل گیا۔ آخر کار حکومت نے ہار مان لی۔ ۱۹۳۳ میں دستور میں ۲۱ ویں ترمیم اس کے مطابق شراب کو دوبارہ ملک میں جائز قرار دے دیا گیا۔ اس کے برعکس اسلام میں جب ہجرت کے بعد شراب کی باقاعدہ حرمت کا حکم (المائدہ ۹۰) آیا اور مدینہ میں اس حکم کی منادی کی گئی تو فوراً ہی لوگوں نے شراب چھوڑ دی۔ کے پاس شراب کا ذخیرہ تھا اس کو اس نے زمین میں بہا دیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں اس تاریخی واقعہ کا اعتراف اس طرح کیا گیا ہے کہ اسلام میں ساتویں صدی میں شراب پر مذہبی کنٹرول کا بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا گیا۔ قرآن نے سادہ طور پر شراب کی مذمت کی اور اس کا نتیجہ محمد کے پیروؤں پر ایک مؤثر پابندی کی صورت میں ظاہر ہوا ، عرب میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی :

Quite a different kind of religious control was adopted later in Islam: the Qur'an simply condemned wine, and the result was an effective pro- hibition wherever the devout followers of Muhammad in Arabia and other lands prevailed. (1/441-42)

انسانوں میں بظاہر رنگ اور نسل وغیرہ کا فرق پایا جاتا ہے۔ تاریخ کے پچھلے زمانوں سے اب تک بہت سے لوگوں نے اس فرق کو امتیاز کے ہم معنی سمجھ لیا اس کے نتیجہ میں اعلیٰ نسل اور ادنی نسل کا تصور پیدا قرآن میں اس تصور کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ مختلف انسانی گروہوں میں فرق کا سبب امتیاز نہیں ہے بلکہ اس کا سبب تعارف (الحجرات ۱۳) ہے۔ اسی کے ساتھ اسلام نے عملی طور پر بے امتیاز سماج کا اعلیٰ نمونہ قائم کیا۔ مثلاً نماز کے لئے اذان پکارنے کا کام حبشی بلال کے سپرد کیا گیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۵ / ۳۶۱) میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اسلام نے جب مختلف ممالک افریقہ وغیرہ) فتح کئے تو کسی بھی مسلم ملک میں نسل کی بنیاد پر ذات پات کا نظام قائم نہ ہوسکا : None of the Muslim countries ever developed a racial caste system.

اسلام کی مذکورہ حیثیت اتنی واضح ہے کہ غیر مسلم مفکرین اور مورخین بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور تاہم اس کو موجودہ زمانہ میں واقعہ بنانے کی محنت ابھی باقی ہے۔ آرنلڈ ٹوائن بی (۱۸۸۹ء ۔ ۱۹۷۵ء) کی مذکورہ کتاب پہلی بار ۱۹۴۸ء میں چھپی۔ گویا یورپ کے اس ممتاز مورخ نے یہ بات بیسویں صدی کے وسط میں کہی تھی۔ اب بیسویں صدی ختم ہورہی ہے۔ ۵۰ سال گزر گئے، مگر مسلمان اب تک اس پکار کے لئے نہیں اٹھے۔ البتہ اسی مدت میں سیاسی ہنگاموں، قومی جھگڑوں اور گولی اور بم کے دھماکوں کے لئے وہ بار بار نہایت جوش وخروش کے ساتھ اٹھتے رہے ہیں۔

یہ بلاشبہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اور موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنما اور دانش ور کسی ایک یا دوسری صورت میں یہی جرم کر رہے ہیں۔ دنیا ان سے امن مانگ رہی ہے اور وہ اس کو جنگ دے رہے ہیں۔ دنیا رحمت کی طالب ہے اور وہ اس کو مصیبت پیش کر رہے ہیں۔ دنیا محبت کے انتظار میں ہے اور وہ اس کو نفرت کی خوراک دینا چاہتے ہیں۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوسری قوموں سے چوٹ پہنچی۔ اس چوٹ کو وہ سہہ نہ سکے۔ وہ رد عمل میں مبتلا ہو کر ان کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ مگر مسلمانوں کو جاننا چاہئے کہ اس چوٹ کو سہنا ہی دعوت الی اللہ کی قیمت ہے۔ جو لوگ مدعو کی زیادتیوں پر صبر نہ کر سکیں وہ کبھی دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگ اگر دعوت اور داعی کا نام لیتے ہیں تو یہ بات ان کے جرم کے خانہ میں لکھی جانے والی ہے نہ کہ انعام کے خانہ میں۔ جن لوگوں نے دعوت کی قیمت ہی ادا نہ کی ہو وہ دعوت کا انعام آخر کس طرح پا سکتے ہیں۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، ٹوائن بی (Arnold J. Toynbee) نے اپنی کتاب تہذیب کی آزمائش (Civilization on Trial) میں لکھا ہے کہ جدید دنیا، اپنی تمام مادی ترقیوں کے باوجود دو سنگین برائیوں میں مبتلا ہے جن سے چھٹکارا پانے کی کوئی صورت اسے نظر نہیں آتی۔ برائیاں ، شراب اور نسلی امتیاز ہیں۔ مگر اسلام کے پاس اس کا حل موجود ہے اور اسلام نے عملاً ان برائیوں کا خاتمہ کر کے اس کو تاریخی طور پر ثابت کر دیا ہے۔ آج کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ دنیا کو اسلام کے اس روشن پہلو سے واقف کرایا جائے۔

Printed page