Al-Risala · January 1992

خون کے بجائے پانی

Al-Risala, January 1992, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد افضل لادی والا (۳۵ سال) بمبئی کے رہنے والے ہیں۔ ہم ۴ فروری ۱۹۹۱ء کی ملاقات میں انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ ۲۲ جنوری ۱۹۹۱ء کو رنگ بھون (دھوبی تلاؤ) میں ایک کلچرل پروگرام تھا۔ نے اس میں شرکت کی۔ ساڑھے گیارہ بجے رات کو یہ پروگرام ختم کہوا۔ اس سے فارغ ہو کر وہ بمبئی وی ٹی پر آئے اور ٹرین کے ذریعہ کرلا پہنچے۔ اس وقت تقریباً ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ اسٹیشن سے رہائش گاہ (ہلاؤ پل) تک تقریباً دو کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ انھوں نے چاہا کہ تھری وہیلر کے ذریعہ گھر کے لیے روانہ ہوں۔ تھری وہیلر کے انتظار میں وہ سڑک پر کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں ایک تھری وہیلر آتا ہوا دکھائی دیا۔ اس وقت ان کے منہ میں پان تھا۔ تھری وہیلر کو آواز دینے کے لیے انھوں نے جلدی میں پان کو تھوکا۔ اتفاق سے عین اسی وقت ایک مسافر سائم میں آگیا اور افضل صاحب کا پان پورا کا پورا اس کے پاؤں پر جا گرا۔ مسافر فوراً آگ بگولا ہو گیا۔ طیش میں آکر اس نے کہا کہ پان کھاتے ہو اور پان کھانے کی تمیز بھی نہیں۔ مگر افضل صاحب، جو الرسالہ کے مستقل قاری ہیں، انھوں نے گرم الفاظ کا جواب ٹھنڈے الفاظ سے انھوں نے کہا کہ میں اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہوں۔ پان کھانا بھی غلط، اور پان کھا کر میں نے جو کچھ کیا وہ بھی وہ آدمی تیز ہوٹا گیا۔ مگر افضل صاحب نے اس کی اشتعال انگیز باتوں کا جواب دینے کے بجائے کہا کہ مجھے معاف کیجئے۔ اس نے کہا کہ یہ اچھا ہے کہ کسی کے ساتھ کچھ بھی کر دو، اس کے بعد ہو کہ معاف کر دو۔ افضل صاحب نے کہا کہ بھائی میں رسمی معافی نہیں مانگ رہا ہوں۔ میں دل سے معافی مانگ رہا ہوں۔ اب آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے پاؤں دھوؤں۔ افضل صاحب نے جب پاؤں دھونے کی بات کہی تو آدمی کچھ نرم پڑا کچھ اور باتوں کے بعد آخر کار وہ راضی ہوا کہ افضل صاحب اس کا پاؤں دھو دیں۔ ہی ایک چائے وغیرہ کا ہوٹل تھا۔ افضل صاحب فوراً اس کے پاس گئے اور کہا کہ "چچا، ایک گلاس پانی دینا" افضل صاحب گلاس لے کر آئے تو آدمی بالکل ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اس نے کہا کہ مجھ کو دیجیے میں خود اپنے ہاتھ سے دھو لیتا ہوں۔

آدمی نے اپنے ہاتھ میں گلاس لے کر دھویا۔ ایک گلاس سے پوری صفائی نہیں ہوئی تو افضل صاحب دوڑ کر گئے اور ایک گلاس مزید پانی لے آئے۔ یہاں تک کہ اس کا پاؤں پوری طرح صاف ہو گیا۔

ریلوے اسٹیشن کے باہر پیش آیا۔ گفتگو کے دوران افضل صاحب نے اس آدمی سے کہا: بھائی صاحب، آپ تو "میم" ہیں، اگر آپ "کاف" ہوتے تب بھی مجھے یہی کرنا تھا، کیوں کہ اسلام نے ہم کو ایسا ہی حکم دیا ہے یہ سن کر وہ آدمی افضل صاحب سے لپٹ گیا۔ اس نے کہا کہ بھائی صاحب، میں کاف ہی ہوں ۔ اور آپ جیسا مسلمان مجھے اپنی زندگی میں پہلی بار ملا ہے۔ اور اگر دوسرے مسلمان بھی آپ جیسے ہو جائیں تو سارا جھگڑا ختم

اب وہ آدمی بالکل بدل گیا۔ پہلے اس کے اندر غصہ اور انتقام بھڑک اٹھا تھا۔ اب وہ شرمندہ ہو کر افضل صاحب سے کہنے لگا کہ بھائی، مجھ کو معاف کرنا۔ آپ کو میں نے بڑی تکلیف دی۔ میری وجہ سے آپ کو پانی آپ کا قتری و صیلہ بھی چھوٹ گیا۔ افضل صاحب نے کہا کہ مجھ کو شرمندہ نہ کیجئے۔ اس معاملہ میں اصل غلطی تو میری تھی۔ اور میں جو پانی لایا، وہ میرا فرض تھا جو میں نے کیا۔ واقعہ کے شروع میں جو آدمی دوسرے کو غلط بتا رہا تھا۔ واقعہ کے آخر میں وہ خود اپنی غلطی مان کر شرمندہ ہو گیا اور معافی مانگنے لگا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا، اس وقت بمبئی کے علاقہ جوگیشوری میں زبردست فرقہ وارانہ کشیدگی موجود تھی۔ یہ مقام کرلا سے تقریباً ۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ ان حالات میں اگر افضل صاحب اشتعال کے جواب میں اشتعال کا انداز اختیار کرتے تو وہی ہوتا جو اس طرح کے مواقع پر دوسری بہت سی جگہوں میں ہو چکا ہے۔ یعنی فرقہ وارانہ فساد اور جان و مال کی تباہی۔ اس کے بعد شاید ایسا ہوتا کہ افضل صاحب خدا نخواستہ گھر پہنچنے کے بجائے اسپتال لے جائے جاتے اور علاقہ میں ہندو مسلم فساد برپا ہو کر سیکڑوں خاندانوں کو برباد

افضل صاحب نے یہ واقعہ بتانے کے بعد کہا : اس وقت مجھے الرسالہ کی بات یاد آئی۔ یہ الرسالہ کے دیے ہوئے ذہن کا نتیجہ تھا کہ میں اشتعال کے موقع پر مشتعل ہونے سے بچ گیا، اور نتیجہ اس کے برے انجام میرے گلاس بھر پانی نے سیکڑوں لوگوں کو اس بھیانک انجام سے بچا لیا کہ ان کا خون سڑکوں پر بہایا جائے ۔ ایک قسم کے الفاظ بول کر آپ آدمی کے ذہن کو غصہ کا تنور بنا سکتے ہیں۔ اور دوسرے قسم کے الفاظ بول کر آدمی کے بھڑکتے ہوئے غصہ کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔ الفاظ آگ کا کام بھی کرتے ہیں اور برف کا کام بھی۔ یہ بولنے والے کے اپنے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کس چیز کا اپنے لیے انتخاب کرتا ہے۔

Printed page