Al-Risala · June 1992

Mine is a case of missed opportunities.

Al-Risala, June 1992, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے سوچا کہ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت میں انسان کا ہونے والا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان کے لیے مواقع ہیں۔ وہ ان کو استعمال کرکے کے آخرت میں اپنا شاندار مستقبل بنا سکتا ہے۔ مگر آج ہر آدمی دوسری دوسری چیزوں میں گم ہے ۔ ہر آدمی اپنے قیمتی مواقع کو کھو رہا ہے ۔ انسان اسی طرح عمل کے بہترین مواقع کو کھوتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس کی مہلت عمر پوری ہو جاتی ہے ۔ وہ دنیا سے اٹھا کر آخرت میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔

آدمی جب آخرت کے عالم میں پہنچے گا اور وہاں دیکھے گا کہ وہ بالکل بے سروسامان ہے۔ وقت اچانک اس پر کھلے گا کہ میں نے کتنے قیمتی مواقع کو کھو دیا۔ جب کہ وہ مواقع صرف ایک بار ملے تھے، اب وہ مواقع دوبارہ ملنے والے نہیں ۔ اس وقت ہر آدمی چیخ اٹھے گا _________ میرا معاملہ مواقع کو کھو دینے کا معاملہ ہے ۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ اس مسئلہ پر غور کرے ، کیوں کہ دنیا میں کھونا وقتی مدت کے لیے ہوتا ہے اور آخرت کا کھونا ایسا ہے جو ابدی طور پر جاری رہے گا ۔

عمل کا موقع جو کچھ ہے صرف آج ہے ، کل کسی کے لیے عمل کا موقع نہ ہوگا ۔ کل کے دن صرف بھگتنا ہے نہ کہ کرنا ۔ بلاشبہ یہ انسانی زندگی کی سنگین ترین حقیقت ہے ، مگر اسی سب سے زیادہ سنگین حقیقت کو انسان سب سے زیادہ بھولا ہوا ہے ۔

Printed page