رسول کی خلاف ورزی
Al-Risala, June 1992, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۲۴ کے آخر میں رسول کی اطاعت کی اہمیت بیان ہوئی ہے اور اس کو دنیا اور آخرت کی سعادت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے : لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم تم لوگ اپنے اندر رسول کے بلانے کو اس طرح بعضم قد يعلم الله الذين يتسلنون کا بلانا نہ سمجھو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے منكم لواذا. فليحذر الذين يخالفون کو بلاتے۔ اللہ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے عن امره ان تصيبهم فتنة او يصيبهم جو ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے چلے عذاب اليم (النور (۶۳) جاتے ہیں۔ پس جو لوگ رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں، ان کو ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو درد ناک عذاب پکڑلے۔
اس آیت میں "دعاء" کا مطلب وہی ہے جو سورہ الانفال (آیت ۲۴ میں دعاء کا مطلب ہے۔ یعنی پیغام ۔ شاہ عبدالقادر دہلوی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں : حضرت کے بلانے سے فرض ہوتا تھا حاضر ہونا جس کام کو بلائیں۔
اس آیت میں ایک ابدی حکم دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے کامیابی کا طریقہ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے، اپنے ہر معاملہ میں رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کو اختیار کرنا۔ انھوں نے ایسا نہ کیا تو اندیشہ ہے کہ وہ دنیا میں کسی سخت مصیبت میں پھنس جائیں اور آخرت میں بھی باز پرس سے دوچار ہوں۔
رسول نے جہاں اقدام کی تلقین کی ہو وہاں کسی مصلحت کی بنا پر اقدام نہ کرنا، جہاں آپ نے صبر اور اعراض کا حکم دیا ہو وہاں بے صبری اور ٹکراؤ کا مظاہرہ کرنا، جہاں آپ نے داخلی اصلاح کی تاکید کی ہو وہاں خارجی اصلاح کے ہنگامے کھڑے کرنا، جہاں آپ نے سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرنے پر زور دیا ہو وہاں غیر ذمہ داری اور جذباتیت کا انداز اختیار کرنا، یہ سب اس میں شامل اس قسم کی ہر روش سے مسلمانوں کے لیے اسی خرابی کا اندیشہ ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا۔