Al-Risala · June 1992

مذہب کی طرف

Al-Risala, June 1992, pp. 18–22

By Maulana Wahiduddin Khan

انیسویں صدی مذہب سے انکار کی صدی تھی۔ مگر بیسویں صدی کے آتے ہی تاریخ بدل گئی موجودہ صدی میں، خاص طور پر، دو واقعات ایسے پیش آئے جس کے بعد مذہب دوبارہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ انسانی زندگی میں واپس آگیا ہے، اگرچہ بالفعل کم ، مگر بالقوہ مکمل طور پر۔ سائنس سے عدم اطمینان فطرت کی سطح پر مذہبی احساس کا ختم نہ ہونا۔

ایک سو سال پہلے یہ حال تھا کہ سائنس کے خلاف سوچنا بھی جہالت سمجھا جاتا تھا۔ صدی کے آخر میں ایک مشہور سائنس داں نے کہا تھا کہ میں کسی چیز کو اس وقت تک سمجھ نہیں سکتا جب تک کہ میں اس کا سائنٹفک ماڈل نہیں بنا لیتا مگر اب ، کم از کم علمی سطح پر ، سائنس کی افادیت کے بارے میں انسان کا یہ یقین متزلزل ہو چکا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس سلسلہ میں کافی لٹریچر شائع ہو چکا ہے۔

انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا (۱۹۸۴) میں تاریخ سائنس کا مختصر مقالہ ان الفاظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے :

ابھی حال تک سائنس کی تاریخ فتح کی تاریخ تھی۔ علم کے اضافہ سے سائنس کی کامیابیاں، توہمات اور نا واقفیت پر سائنس کی فتوحات نے لوگوں کو مسحور کر رکھا تھا۔ سائنس کے ذریعہ دریافتوں کا سیلاب جاری ہوا جس نے انسانی ترقی کو آگے بڑھایا۔

مگر حال میں یہ محسوس کیا گیا ہے کہ خود سائنس گہرے اخلاقی سوالات سے دوچار ہے ۔ خارجی طاقتیں اور اس کے ترقیاتی عمل کو لاحق ہونے والی رکاوٹیں اور ٹیکنالوجی کے لامحدود استعمال کے خطرات تاریخ دانوں کو چیلنج کر رہے ہیں کہ وہ سائنس کے بارہ میں سابقہ سادہ عقیدہ کا دوبارہ تنقیدی جائزہ لیں (16/366)

جدید سائنس نے انسان کو بہت سی سہولتیں دی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے انسان کے لئے اتنا بڑا خطرہ بھی پیدا کر دیا جو اس کے تمام عقلیات کو بے معنی قرار دے دیتا ہے۔ یہ تیسری عالمی جنگ کا

اگر یہ جنگ چھڑی تو وہ ایک انتہائی خوفناک جوہری جنگ (nuclear war) ہوگی جو اکثر بڑے شہروں کو چند گھنٹوں کے اندر کھنڈر بنا دے گی۔ مزید یہ کہ اس جنگ کے بعد فضا میں نہایت گہرا دھواں چھا جائے گا جو سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے نہ دے گا۔ ایک ہولناک قسم کا جوہری جاڑا (nuclear winter) شروع ہو گا جو زمین پر نباتات، حیوانات اور انسان کو بد ترین موت کے کنارے پہنچا دے گا۔ سائنس کے پیدا کردہ مسائل میں سے ایک سنگین مسئلہ وہ ہے جس کو فضائی کثافت (Air Pollution) کہا جاتا ہے۔ سائنس نے ٹکنالوجی پیدا کی۔ ٹکنالوجی نے مشینیں ایجاد کیں۔ ابتداءً جب لوگوں نے سڑکوں پر کاروں کو دوڑتے ہوئے دیکھا اور یہ دیکھا کہ کار خانے ان کے لئے ہر قسم کا سامان تیار کر رہے ہیں تو وہ بہت خوش ہو گئے۔ مگر جلد ہی انہیں معلوم ہوا کہ یہ ترقی انہیں اس قیمت پر ملی ہے کہ اس نے مضر گیسیں بکھیر کر ہوا کو اس قابل نہیں رکھا کہ انسان اس میں مفید طور پر سانس لے سکے۔ چنانچہ ایک مغربی مفکر نے لکھا ہے کہ موجودہ انسان کو جو سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے وہ ہوائی کثافت ہے۔ اس کے الفاظ میں انسانی نسل جس مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ تمام انسان صنعتی تہذیب کے پیدا کردہ کثیف پنجرہ (Polluted cage) میں بند ہو کر رہ جائیں۔

ٹائمس آف انڈیا (۲۲ جون ۱۹۸۹) میں امریکی حکومت کے شائع کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا گیا تھا کہ امریکہ کے صنعتی کارخانے ہر سال ۱۶۳ ملین کلوگرام کے بقدر ایسا دھواں فضا میں انڈیل رہے ہیں جو کینسر پیدا کرنے والا ہے۔ صرف ۳۰ بڑے امریکی کارخانے جو ہوائی کثافت پیدا کر رہے ہیں وہ فی کارخانہ ساڑھے چار لاکھ کلوگرام سے زیادہ ہے: US industrial plants are spouting 163 million Kg of suspected cancer- causing chemicals into the air annually, with releases from each of the 30 biggest polluters exceeding 450,000 kilograms, reports AP, quoting امریکہ میں ۱۹۷۰ میں ہوا کی صفائی کا قانون (Clean Air Act) پاس کیا گیا تھا۔ فضائی کثافت میں پچھلے ۲۰ سال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کے فضائی حفاظت کے ادارہ

(U.S. Environmental Protection Agency) کے مطابق، امریکہ اس وقت ۳۰ ہزار ملین ڈالر سالانہ صرف فضائی کثافت کو کنٹرول کرنے پر خرچ کر رہا ہے۔ مگر موجودہ کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں، اس لئے اب تجویز کیا گیا ہے کہ زیادہ مؤثر ذرائع اختیار کرنے کے لئے اس رقم کو دگنا کر دیا جائے (اسپان، اگست ۱۹۸۹)

سائنس کی ترقی نے صرف مادی مسائل ہی پیدا نہیں کئے بلکہ اسی کے ساتھ نہایت سنگین قسم کے ذہنی اور روحانی مسائل بھی پیدا کر دئے ۔

سائنس اور سائنسی ذرائع نے انسانی علم کو بے حد وسیع کر دیا تھا۔ اس نے انسان کو نہ صرف خورد بین اور دور بین دی جس سے وہ ان چیزوں کو دیکھ لے جواب تک دیکھی نہیں جاسکی بلکہ بے شمار نئے ذرائع انسان پر کھول دئے جس سے ہر میدان میں معلومات کا بے پناہ اضافہ ممکن ہو گیا ۔

اس کی وجہ سے انسان کے اندر یہ خود اعتمادی پیدا ہو گئی کہ وہ کسی اور سہارے کے بغیر صرف اپنی سائنس کے ذریعہ آخری حقیقت تک پہنچ سکتا ہے، مگر علم کے اضافے نے انسان کو صرف یہ بتایا کہ وہ لا علمی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ ایک سائنس داں کے الفاظ میں، ہم صرف یہ کر رہے ہیں کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں: We are knowing more and more about less and less. ۱۹ ویں صدی کے آخر تک سائنس داں یہ سوچتے تھے کہ وہ علم کے اضافے کے ساتھ آخری حقیقت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مگر بیسویں صدی کے نصف اول میں جو تحقیقات ہوئی ہیں انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان آخری حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ انسان کی محدودیتیں (LIMITATIONS) فیصلہ کن طور پر آخری حقیقت تک پہنچنے میں حائل ہیں۔ اہل سائنس کے درمیان اب مسلمہ طور پر یہ بات مان لی گئی ہے کہ سائنس ہم کو حقیقت کا صرف جزئی علم

Science gives us but a partial knowledge of reality. جدید سائنس کے ظہور کے بعد اہل علم کے درمیان یہ ایک فیشن بن گیا تھا کہ کائنات

کی تعبیر خدا کے بغیر کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ ہر معاملہ میں ایسی تشریح کرنے کی کوشش کی گئی جس سے یہ ثابت ہو کہ کائنات کے پیچھے کوئی ذہن یا شعور نہیں۔ مگر کائنات کی غیر خدائی تشریح کی ہر کوشش ناکام ہو گئی۔ ہندوستان کے مشہور سائنس داں ڈاکٹر سبرامنیم چندر شیکھر جن کو ۱۹۸۳ میں فزکس کا مشترکہ نوبیل پرائز ملا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ملحد (atheist) کہتے ہیں۔ انھوں نے اس معاملہ میں سائنس کی موجودہ پوزیشن کا خلاصہ چند لفظوں میں اس طرح بتایا ہے:

کائنات میں ایسے پہلو ہیں جن کا سمجھنا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ آئن سٹائن اور دوسرے سائنس دانوں نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔ شرو ڈنگر کے الفاظ میں فطرت کے متعلق سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے۔ ایسا کیوں کر ہے کہ انسانی دماغ جو کائنات کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹا ہے اور فلکیاتی وقت کے مقابلہ میں جس کی مدت بہت ہی کم ہے، وہ حقیقت کو ایسے خیالات کے ذریعہ سمجھتا ہے جو انسانی دماغ کی پیداوار ہیں۔ اس سوال نے کیپلر سے لے کر اب تک بہت سے لوگوں کو سراسیمہ کر رکھا ہے۔ کیوں یہ ضروری ہے کہ ریاضیاتی تشریحات بالکل درست ہوں۔ تشریح ایک ایسی چیز ہے جس کو انسانی دماغ نے ایجاد کیا ہے۔ پھر کیوں وہ خارجی فطرت کے مطابق ہو جاتی ہے۔ ہم ان سوالات کا جواب نہیں جانتے۔ اس کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا میں نظم ہے اس لئے اس کا کوئی ناظم ہونا چاہئے ۔ مگر کیوں ایسا ہے کہ ہم کائنات کو ان اصطلاحوں میں سمجھتے ہیں جن کو ہم نے خود وضع کیا ہے۔

ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) نے کہا تھا کہ وہ حکمت کہاں ہے جو ہم نے علم میں کھودی ۔ کہاں ہے جس کو ہم نے معلومات میں کھو دیا :

Where is the wisdom that we have lost in knowledge? Where is the knowledge that we have lost in information? ۱۹۸۹ میں خاص اسی موضوع پ ایک خاتون مصنف کی کتاب چھپی ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Wisdom, Information and Wonder, by Dr Mary Midgley ان چیزوں نے ۲۰ ویں صدی کے نصف آخر میں انسان کے اندر نیاز ہن پیدا کیا ہے۔ صرف "آزاد دنیا" میں بلکہ کمیونسٹ ملکوں میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ اس تبدیلی کی خبریں اخبارات میں اور رسائل میں مسلسل دیکھی جاسکتی ہیں۔

امریکہ میں پروفیسر کاکس (Harvey R. Cox) کی ایک کتاب ۱۹۶۵ میں چھپی تھی ۔ اس کا نام تھا سیکولر شہر (The Secular City) اس میں مصنف نے دکھایا تھا کہ اب لوگوں نے مذہب میں اپنی دل چسپی کھودی ہے۔ مگر اسی مصنف کی دوسری کتاب ۱۹۸۴ میں چھپی ہے جس کا نام ہے سیکولر شہر میں مذہب (Religion in the Secular City) یہ دوسری کتاب بتاتی ہے کہ امریکہ ر اور اسی طرح دوسرے مغربی ممالک میں مذہب از سر نو زندہ ہورہا ہے۔ حال میں اس موضوع پر کثرت سے کتابیں شائع ہوئی ہیں ، ان کتابوں کا ایک خلاصہ امریکی میگزین اسپان (Span) کے شمارہ دسمبر ۱۹۸۴ میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کے مصنف فران شو مر (Fran Schumer) ہیں اور اس کا عنوان ہے :

Printed page