اسلامی حل
Al-Risala, June 1992, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوؤں کے پڑھے لکھے طبقہ میں آج کل کثرت سے یہ سوچا جارہا ہے کہ کیا ہندو ازم میں "ریفارم" کی ضرورت ہے۔ اس کا اظہار اکثر اخبارات ورسائل میں ہوتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ٹائمس آف انڈیا (۲۴اپریل ۱۹۹۱) میں مسٹر روندر کمار کا ایک مفصل مضمون چھپا ہے جس میں انھوں نے اس جدید رجحان کا جائزہ لیا ہے جس کو انھوں نے ہندو ازم کو سامی بنانا (Semitisation of Hinduism) قرار اس مضمون کا عنوان ہے :
Contemporary Hinduism: Existential or Instrumental Religion اسی طرح ٹائمس آف انڈیا (۱۳ مئی ۱۹۹۱) میں مسٹر سو اپن داس گپتا کا مضمون چھپا ہے۔ عنوان کے الفاظ یہ ہیں کہ ہندو ازم کو سامی مذاہب کے مطابق بنا دینا چاہیے : Hinduism Should be Semitised مضمون نگار لکھتے ہیں کہ ہندوؤں میں مختلف تجدیدی تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ کی تحریک تھی ، پھر سیکولرائزیشن کی تحریک چلی، اور اب سیمیٹائزیشن کی تحریک چل رہی ہے : First it was modernisation, then it was secularisation, and now it is semitisation. مضمون نگار نے اگرچہ اس قسم کی تحریکوں کو "اینٹی ہندو" تحریک قرار دیا ہے۔ تاہم انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہندو ازم میں بہت سے ایسے مسائل ہیں جو سامی مذاہب میں نہیں ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال ، ان کے نزدیک ، ذات پات کا نظام (casteism) ہے جس کا ہندو ازم کے ڈھانچہ میں کوئی البتہ ہندوؤں کے ذات پات کے غیر مساوی نظام کو سامی مذاہب (مثلاً اسلام) کے مساوات پر مبنی سماجی نظام کی مدد سے ختم کیا جاسکتا ہے۔
سوامی ویویکانند نے پچھلی صدی کے آخر میں اپنے ایک مطبوعہ خط مورخہ ۱۰ جون ۱۸۹۸ میں یہ اعتراف کیا تھا کہ ہندو ازم میں ادویت واد کا نظریہ تمام چیزوں میں کامل یکتائی کو مانتا ہے مگر عملی ادویت واد (Practical Advaitism) کبھی ہندوؤں میں پیدا نہ ہوسکی۔ اگر کسی مذہب نے
تاریخ میں کبھی عملی ادویت داد اور مساوات (equality) کو بالفعل انسانی سماج میں قائم کیا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے۔ سوامی ویویکانند کی یہ تاریخی تحریر ہر درد مند ہندوستانی کے لیے بے حد قابلِ غور ہے۔
سوامی ویویکانند نے مذکورہ خط میں اپنا یہ قطعی خیال ظاہر کیا ہے کہ پریکٹیکل اسلام کی مدد کے بغیر ویدانت کے نظریات بالکل بے قیمت ہیں۔ وسیع انسانیت کے لیے ان نظریات کا کوئی فائدہ نہیں۔ سوامی ویویکانند نے مزید لکھا ہے کہ ہمارے مادرِ وطن کے لیے واحد امید یہ ہے کہ یہاں دونوں مذہبوں ہندوازم اور اسلام کا میل ہو سکے مستقبل کا معیاری ہندوستان اس طرح وجود میں آسکتا ہے کہ یہاں ویدانت برین کے ساتھ اسلام باڈی کو شامل کیا جائے اور دونوں کی مدد سے سماج کی تشکیل کی جائے : Letters of Swami Vivekananda, Calcutta, pp. 379-80 میں کہوں گا کہ خرابیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک عملی، اور دوسری نظریاتی۔ اگر کوئی جزئی نوعیت کی عملی خرابی ہو تو ایسی حالت میں جوڑ اور پیوند کار آمد ہو سکتا ہے۔ مگر جہاں مسئلہ فکری اور نظریاتی ہو، وہاں اس قسم کا جوڑ کا طریقہ کار آمد نہیں۔ جو عملی خرابی کسی فکری خامی کا نتیجہ ہو، اس کو فکری خامی کی اصلاح کے بغیر درست نہیں کہا جا سکتا۔
ہندوازم میں ذات پات کا نظام صرف ایک عملی خرابی کی بات نہیں، وہ عین ہند و فکر اور ہند و فلسفہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں خود اس کے فلسفہ پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ سادہ طور پر صرف عملی اصلاح کی کوشش اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اپر کاسٹ کے ہندوؤں نے ایک پولیس کو توال امبا داس ساڈ نے (۳۰ سال) کو پتھروں اور لاٹھیوں سے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ پر بھنی کے ایک گاؤں میں ١٦ اگست ١٩٩١ کو ہوا۔ امبا داس ساڈ نے کا قصور یہ تھا کہ وہ لور کاسٹ سے تعلق رکھتا تھا اور بارش سے بچنے کے لیے مقامی ہنومان مندر کی سیڑھیوں پر چڑھ گیا تھا (ٹائمس آف انڈیا ۲۹ اگست ١٩٩١) جو لوگ نچلے طبقہ کے خلاف اس قسم کا وحشیانہ سلوک کرتے ہیں وہ اپنے اُس یقین کے تحت کرتے ہیں جو اپنے مذہبی عقیدہ کی رو سے انہیں حاصل ہے۔ اس لیے جب تک مذہبی عقیدہ کی اصلاح نہ ہو اس برائی کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ اور یہ مقصد صرف عقیدہ توحید کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے