Al-Risala · June 1992

وسط ایشیا

Al-Risala, June 1992, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

سمرقند وسط ایشیا (سنٹرل ایشیا) کا ایک قدیم مسلم شہر ہے۔ ۱۹۲۸ میں کمیونسٹ فوجوں نے یہاں کے مسلم نواب کو شکست دے کر اس پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد ایک روسی لیڈر نے کتاب لکھی۔ انگریزی ترجمہ اسی زمانہ میں "سمرقند کے اوپر صبح" کے نام سے شائع ہو چکا ہے : Dawn over Samarkand اس کتاب میں کمیونسٹ مصنف نے فخر کے ساتھ لکھا تھا کہ ۔ سمرقند کا ملا چیختارہا۔ مگر ہماری توپوں کے گولے اس کی چیخ پر بھاری ثابت ہوئے اور ہم نے اس مسلم شہر پر قبضہ کر لیا۔ اس واقعہ کے ساٹھ سال بعد اشتراکی ایمپائر کی حربی طاقت بہت زیادہ بڑھ گئی۔ اب اس کے پاس روایتی توپوں کے بجائے ۳۰ ہزار کی تعداد میں ایٹم بم موجود تھے۔ مگر وہ اتنابے بس ہوا کہ اپنے بموں کو استعمال کرنے کی طاقت بھی اس کے اندر نہ رہی۔ ایٹم بموں اور دوسرے جدید ہتھیاروں کی کثرت کے باوجود اُس کا پورا ڈھانچہ تاش کے پتوں کی طرح ڈھ پڑا۔

CIS Oil Regions

اشتراکى صبح نہ صرف سمر قند کے لیے بلکہ پورے سوویت یونین کے لیے صرف اندھیرا ثابت ہوئی۔ ۱۹۹۱ میں سوویت یونین اپنی بدترین کمزوریوں کا شکار ہو کر ٹوٹا تو اسی کے ساتھ نہ صرف سمرقند بلکہ وسط ایشیا کی نصف درجن مسلم ریاستیں (آذربائیجان، قازقستان، کرغیزیہ، تا جکستان ترکمانستان، ازبکستان) بھی اچانک آزاد ہو گئیں۔ ۱۹۹۱ سے پہلے جہاں سرخ پرچم لہرارہا تھا وہاں اب ایک وسیع علاقہ میں ایک طاقت ور مسلم بلاک وجود میں آگیا ہے۔

سوویت یونین کے غلبہ کے زمانہ میں حکومت نے ہر طرح اس علاقہ میں روسی زبان کو رائج کرنے (Cultural supremacy) کی کوشش کی تھی۔ سرکاری طور پر روسی زبان کو ثقافتی برتری دینے کی تمام تدبیریں کی گئیں۔ مگر یہ تدبیریں ناکام رہیں۔ مجھے اپنے سفر روس (جولائی ۱۹۹۰) میں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہاں کے مسلمان روسی کے ساتھ ترکی اور فارسی زبانیں بھی جانتے ہیں اور آپس میں ان زبانوں کو بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کمیونسٹ قبضہ کے بعد روسی تہذیب کو پورے علاقہ میں غالب کرنے کی کوشش کی گئی۔ کوشش کو عام طور پر سلاونائزیشن (Slavonisation) کہا جاتا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت مسلمانوں کے اسلامی نام بدلے گئے۔ مثلاً نیاز کو نیازوف، نظر کو نظر بائیوف سلطان کو سلطانوف وغیرہ۔ سنٹرل ایشیا کے ماہر ڈاکٹر ڈینیل پائپس (Daniel Pipes) نے لکھا ہے کہ روسی سیاست اور روسی کلچر کی اس توسیع کی بنا پر مغربی علماء وسط ایشیا کو یورپ کی آخری بڑی کالونی (Last great colony) کہنے لگے تھے۔

لندن اور قاہرہ کے درمیان جو فاصلہ ہے وہی فاصلہ ماسکو اور تاشقند کے درمیان ہے۔ روسی حکمران ۱۵۵۲ سے ہی اس علاقہ میں سیاسی مداخلت کرنے لگے تھے۔ ۱۹۱۷ میں اشتراکی انقلاب کے بعد یہ تدخل زیادہ بڑھا۔ یہاں تک کہ ۱۹۲۸ کے بعد یہاں حدیدی نظم (Iron discipline) قائم کر دیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق، ۱۹۳۹ میں پورے سوویت یونین میں مسلم آبادی کا تناسب فی صد نے کچھ زیادہ (Per cent 8.7) تھا۔ اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا رہا۔ ۱۹۹۰ میں مسلمانوں کی تعداد ۱۹ فی صد سے زیادہ (Per cent 19.9) ہو گئی۔ اس مدت میں غیر مسلم آبادی میں اضافہ کی

شرح تقریباً ۵ فی صد تھی۔ جب کہ مسلم آبادی میں اضافہ کی شرح ۲۷ فی صد تک پہنچ گئی۔ سوویت یونین اگر باقی رہتا تو عنقریب سوویت فوج میں ہر تین فوجی میں سے ایک مسلمان ہوتا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کرغیز یہ کی راجدھانی اوش (Osh) کو دوسرا مکہ کہا جاتا ہے۔ آذر بائیجان میں شیعوں کی اکثریت ہے۔ مگر مجموعی طور پر اس علاقہ کے مسلمان زیادہ ترسنی ہیں ۔

وسط ایشیا کی ان آزاد مسلم ریاستوں کی واحد کمی یہ ہے کہ وہ سمندری ساحل سے محروم (Land locked) ہیں۔ یہ کمی پڑوسی مسلم ملکوں (ترکی، ایران، پاکستان) کے ذریعہ پوری ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ترکی سب سے پہلا ملک تھا جس نے الما آتا (Alma Ata) کے فیصلہ کے بعد ان ریاستوں کو آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ ایران نے اپنی سرحد تک ریلوے لائن بچھانے میں مدد دینے کی پیش کش پاکستان نے فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے راستہ سے پاکستان کی بندر گاہوں تک خشک راستہ (Land route) دینا منظور کیا ہے ۔ ان ریاستوں کے لیے ترکی کے راستہ سے میڈی ٹرینین تک پہنچنا بہت آسان ہے۔

ایک مبصر کے الفاظ میں، یہ علاقہ امکانات سے بھرا ہوا ہے :

Printed page