Al-Risala · June 1992

فطرت کی آواز

Al-Risala, June 1992, pp. 29–33

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد اسرائیل صاحب بی ایس سی (۴۲ سال) الور کے رہنے والے ہیں۔ ان سے ۴ جنوری ۱۹۹۲ کو دہلی میں وہ الرسالہ کے قاری ہیں اور دوسروں کو بھی الرسالہ پڑھاتے رہتے ہیں۔ انھوں نے کئی سبق آموز واقعات بتائے۔

انھوں نے کہا کہ الور کے گورنمنٹ کالج میں ۱۹۹۰ میں وہ اور مسٹر مدن لال قریب قریب رہتے تھے۔ مسٹر مدن لال وہاں ایم اے ہسٹری کے طالب علم تھے۔ اسرائیل صاحب نے ان کو الرسالہ انگریزی کا ایک شمارہ پڑھنے کے لیے دیا۔ چند دن کے بعد انھوں نے کہا کہ میں نے اس میگزین کو پڑھ لیا۔ تاثر پوچھنے پر انھوں نے کہا : اس کو پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی رائٹر نہیں بول رہا ہے بلکہ انسان کا نیچر بول رہا ہے۔

یہ بلاشبہ صحیح ترین تبصرہ ہے۔ الرسالہ میں اسلام کا پیغام ہوتا ہے۔ اور اسلام کی بات جب بے آمیز صورت میں پیش کر دی جائے تو وہ عین انسانی نیچر کی بات بن جاتی ہے۔ کیوں کہ اسلام دین فطرت اسلام فطرت انسانی کا مثنیٰ ہے۔ اسلام انسان کا خود اپنا مطلوب ہے۔

قدیم زمانہ میں مذہبی تعصب بہت زیادہ پھیلا ہوا تھا۔ یہی مذہبی تعصب پیغمبروں کی بات کو سمجھنے اور ماننے میں رکاوٹ بنتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں جدید افکار اور جدید تعلیم نے مذہبی تعصب کو ختم کر دیا اب انسانی فطرت سے وہ مصنوعی پردہ ہٹ گیا ہے جو قدیم زمانہ میں ہوا کرتا تھا۔ اس لیے اسلام اب انسان کے لیے عملاً اتنا ہی قابل قبول بن چکا ہے جتنا پانی کسی پیاسے آدمی کے لیے۔ اب اہل اسلام کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ایسی ہر کارروائی سے بچیں جو ان کے اور غیرمسلموں کے درمیان نفرت کی فضا پیدا کرنے والی ہو۔ اور پھر اسلام کو اس کی سادہ صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کر دیں۔ اس کے بعد غیر مسلم قومیں اسلام کو خود اپنے دل کی آواز سمجھ کر اس کی طرف دوڑ

اسلام کی نفی کرنا خود اپنی نفی کرنا ہے۔ اور کون ہے جو خود اپنی نفی کرنے کی قیمت پر کسی چیز کا انکار کرے۔

یہاں سنگاپور کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ بزنس منیجر تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ جاپان کس لئے آئے؟ انھوں نے کہا کہ صرف سیکھنے کے لئے۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ جاپان کی کس بات نے آپ کو اتنا متاثر کیا کہ آپ صرف سیکھنے کے لئے یہاں آگئے۔ انھوں نے کہا کہ میں جاپان کی صنعتی ترقی کے بارہ میں بہت کچھ سنتا اور پڑھتا تھا۔ مگر ایک واقعہ میں نے پڑھا۔ نے مجھے تڑپا دیا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھ کو جاپان جا کر وہاں سے کچھ حاصل کرنا ہے۔ پوچھا کہ وہ واقعہ کیا تھا۔ انھوں نے اپنا بریف کیس کھولا اور ایک انگریزی میگزین نکالا۔ حسب ذیل واقعہ چھپا ہوا تھا:

سویڈن کے ایک ماہر کا قصہ بتایا جاتا ہے۔ وہ جاپان گیا تاکہ انتظام میں کارکنوں کی شرکت کا مطالعہ کرے ۔ ایک کارخانہ میں وہ ایک کارکن سے بات کر رہا تھا۔ وہ اس وقت بہت متاثر ہوا جب اس نے دیکھا کہ اس کے ایک سوال پر جاپانی کارکن بے اختیار رو پڑا۔ جب اس کو کارکن کی طرف سے اپنے سوال کا جواب نہیں ملا تو اس نے سپر وائزر سے اس کی بابت پوچھا۔ سپر وائزر نے کہا کہ جو کچھ آپ نے اس سے کہا ہے وہ سب مجھے بتائیے۔ پورا قصہ سننے کے بعد سپر وائزر نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب آپ نے کارکن کو بتایا کہ تمہاری کمپنی آجکل بر آمدی فرمائشوں کی تعمیل پہلے کی طرح نہیں کر رہی ہے تو وہ سخت پریشان ہو گیا۔ اس نے کہا کہ جاپانی کارکن کو اس کا بہت زیادہ خیال رہتا ہے کہ اگر بر آمد گھٹ گئی تو اس سے

پوری قوم کا نقصان ہوگا۔ اس کے خیال کے مطابق اس کو جاپانی کار کردگی کا معیار گھٹنے سے تعبیر کیا جائے گا۔

اس واقعہ کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ جاپان کا ایک انسان اپنی قوم کے بارہ میں اتنا حساس ہے کہ وہ برداشت نہیں کرتا کہ اس کی کسی کوتاہی سے اس کی قوم پر حرف آئے۔ موجودہ مسلمان اپنے دین کے بارے میں اس طرح حساس نہیں۔ وہ مسلسل غلطیاں اور نادانیاں کر رہے ہیں۔ مگر یہ احساس ان کو نہیں پڑتا کہ اس کی وجہ سے ان کا دین دوسری قوموں کی نظر میں بد نام ہو جائے گا۔

مجھے اپنے بچپن کے زمانہ کی بات یاد ہے۔ یہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے کا زمانہ تھا۔ ”میڈ ان جاپان“ کے معنی ہوتے تھے معمولی اور کمزور چیز۔ اس زمانہ میں عام طور پر کھلونے وغیرہ جاپان سے آتے تھے اور سستی قیمت پر بازار میں بکتے تھے۔ یہاں میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ جاپان اپنے قدیم دور سے جدید دور تک کیسے پہنچا جب کہ ماضی کے برعکس ”میڈ ان جاپان“ کا لفظ معیاری مصنوعات کا عنوان بن گیا ہے۔

بعض جاپانیوں سے بات کرنے کے بعد ایک بالکل نئی چیز میرے علم میں آئی۔ وہ تعلیم کے سال (education years) کا لفظ تھا۔ معلوم ہوا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان میں تعمیر شعور کی ایک مستقل تحریک چل پڑی اور اس نے قومی تحریک (national movement) کی صورت اختیار کر لی۔ اس تحریک کا مقصد تصور (outlook) کو بدلنا تھا۔

تعلیم کے سال (ایجوکیشن ایئرس) کا مرحلہ (fifties & sixties (خمسینات اور ستینات) کے دوران تقریباً ۱۵ سال تک جاری رہا۔

قوم کے اندر تعمیری شعور پیدا کرنے کے بعد دوبارہ تقریباً ۵۰ سال تک حصول معیار (pursuit of quality) کا دور گزرے رہے۔ یہ دوسرا دور ستینات اور سبعینات (sixties & seventies) کے زمانہ میں جاری رہا۔ اس طرح تیس سالہ فکری جدوجہد کا نتیجہ وہ عملی ترقی ہے جو آج جاپان کو حاصل ہوئی ہے۔

جاپان نے تعمیر شعور کے محاذ پر ۳۰ سال صرف کئے۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلم

رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے افراد قوم کی شعوری تعمیر پر ٣٠ دن بھی صرف نہیں کئے۔ حتی کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ تعمیر شعور بھی کوئی کرنے کا کام ہے ۔ اس کے باوجود وہ اپنا حق سمجھتے ہیں کہ وہ اور ان کی پوری قوم پوری زمین تو کیا پوری کائنات کی صدر نشین بن جائے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا ، دوسری عالمی جنگ تک جاپانی مصنوعات کو غیر معیاری (substandard) سمجھا جاتا تھا ۔ مگر آج معاملہ الٹا ہے ۔ آج میڈ ان جاپان کا مطلب ہوتا ہے سب سے اچھا اور سب سے زیادہ قابل اعتماد سامان ۔ چنانچہ آج تمام لوگوں کی زبان پر یہ سوال ہے کہ جاپانی کیسے ایس کرتے ہیں اور اتنا عمدہ کرتے ہیں : How they do it and do it so well. دنیا کے مختلف ملکوں سے خاص اس مقصد کے لئے لوگ جاپان آتے ہیں تاکہ اس راز کا پتہ اس قسم کے ایک صاحب ، جو یورپ کے ایک ملک سے آئے تھے ، ان سے ٹوکیو ائیر پورٹ پر میری ملاقات ہوئی۔ گفت گو شروع ہوئی تو میں نے کہا کہ جس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے آپ جاپان آئے ، میں خود بھی اسی سوال سے دوچار ہوں ۔ اس لئے آپ مجھے اپنی دریافت سے

انھوں نے کہا کہ اس کا راز میرے خیال میں یہ ہے کہ جاپانی لوگ بہت زیادہ معیار پسند (highly quality consious) ہوتے ہیں ۔ ہر جاپانی کے اندر زبردست طور پر یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ جو کام بھی کرے بہتر طور پر کرے۔ یہ خواہش اتنی گہری ہے کہ اس کی خاطر وہ ہر دوسری چیز حتی کہ خاندانی زندگی کو چھوڑ دیتا ہے :

Every Japanese possesses very strong desire to do well, whatever bit he does. This desire is so intense that he forfeits even family life in pursuit of perfecting it. جاپان کے افراد کا یہ مزاج جاپان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں بدقسمتی سے یہ مزاج نہیں ۔ یہی ہماری سب سے بڑی کمی ہے جس نے ہمیں عالمی سطح پر پیچھے کر رکھا ہے۔

یہاں مجھے ایک جاپانی آفس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک تصویر

خصوصی اہتمام کے ساتھ دیوار پر لگی ہوئی ہے۔ اس پر لکھا ہوا تھا: ایڈورڈ ڈس ڈیمنگ (Edwards Deming) میں نے کہا کہ یہ تو ایک امریکی ہے، آپ کی حریف قوم کا ایک فرد۔ آپ نے اس کی تصویر اپنے یہاں کیوں لگا رکھی ہے۔ دفتر کے ذمہ دار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ تو ہمارے سب سے بڑے گرو ہیں:

Printed page