He is our super-guru.
Al-Risala, June 1992, pp. 33–46
By Maulana Wahiduddin Khan
ایڈورڈ ڈس ڈیمنگ ایک ماہر شماریات (statistician) کا نام ہے۔ صنعت کی ترقی کے لئے کوالٹی کنٹرول کا نظریہ پیش کیا اور اس کے اصول وضع کئے۔ جاپانیوں نے فوراً اس کو لے لیا اور اس کو اپنی ترقی کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا۔ معاملہ میں انھوں نے اپنی قوم کو اتنا باشعور بنایا کہ پوری قوم کے لئے کوالٹی کی حیثیت ایک طریق زندگی (way of life) کی ہوگئی۔ حتی کہ انھوں نے اپنی صنعتی پیداوار کو زیرو ڈیفیکٹ (zero defect) کے مرحلہ میں پہنچا دیا۔
جاپانیوں کو امریکہ سے سخت چوٹ پہنچی تھی، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ امریکیوں کو دشمن بتا کر ان کے خلاف الفاظ کا طوفان جاری کر دیں۔ اس کے بجائے انھوں نے امریکیوں سے سیکھنے کی کوشش کی۔ انھوں نے دشمن کے اندر سے بھی اپنے موافق باتیں نکال لیں۔ یہی اس دنیا میں زندگی کا راز ہے، اور ایسے ہی لوگ اس دنیا میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ جاپان میں قیام کے لئے میرے پاس دو ہفتہ کا ویزا تھا۔ مگر بعض اسباب کی بنا پر میں دو دن ہی یہاں ٹھہر سکا۔ ٹوکیو میں ایک اسلامک سنٹر ہے۔ یہ ۱۹۶۵ میں قائم ہوا ۔ ۱۹۸۲ میں اس کی مستقل عمارت بنائی گئی۔ اس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر عبد الرحمن صدیقی کا ٹیلیفون امریکہ میں آیا تھا۔ چاہتے تھے کہ اسلامک سنٹر میں میرا پرو گرام رکھیں۔ اس سے پہلے دہلی میں ڈاکٹر اسکندر احمد چودھری (مقیم ٹوکیو) کا خط ملا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ آپ کی آمد کے موقع پر ہم چاہتے ہیں کہ جاپانی مسلمانوں کا ایک اجتماع ٹوکیو کے اسلامک سنٹر میں رکھیں۔
میرے مختصر قیام کی وجہ سے اس قسم کا کوئی پرو گرام تو نہیں بنا، البتہ اپنے مختصر قیام کو میں نے زیادہ سے زیادہ اس مقصد کے لئے استعمال کیا کہ میں جاپان کو سمجھوں۔ ایک بار بس میں میری
ملاقات ایک جاپانی سے ہوئی۔ وہ انگریزی جانتا تھا ، بات چیت کے دوران اس نے اپنے بیگ سے ایک کارڈ نکالا۔ اس پر لکھا ہوا تھا ـــــ جاپان اٹھ، دنیا کو تیری ضرورت ہے : Stand up, Japan, the world needs you. اس سے گفتگو کر کے اندازہ ہوا کہ جاپانیوں میں ایک نیا گر وہ ابھر رہا ہے۔ صورت حال پر مطمئن نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ صرف عمدہ سامان تیار کر کے دنیا میں بھیجنا یا قوموں کو مالی مدد دینا کافی نہیں۔ دنیا میں امن کا دور لانے کے لئے ہمیں کچھ اور کرنا چاہئے۔ جاپانیوں کی اکثریت زیادہ تر اقتصادی انداز میں سوچتی ہے :
the Japanese have grown used to thinking of decisions only in terms of economics. اس نے کہا کہ جاپانیوں میں نیا ذہن بنانے کے لئے نصف صدی کی مدت درکار ہوگی تاکہ ان میں یہ سوچ ختم ہو کہ محض دعا کرنے سے امن آسکتا ہے :
It could take half a century to re-educate the Japanese so that they stop thinking that merely praying for peace will bring peace. جاپان کو اپنے مزید حوصلوں کی تکمیل کے لئے ایک ”آئیڈیالوجی“ کی ضرورت ہے۔ مگر جاپان کے پاس کوئی مکمل آئیڈیالوجی نہیں۔ یہی جدید جاپان کی سب سے بڑی کمی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔
جلد ہی ۲۲ نومبر ۱۹۹۰ء کو جاپان کے بادشاہ اکی ہیتو (Akihito) کی تخت نشینی کی رسم ٹوکیو میں ادا کی گئی ہے۔ وہ ۱۹۳۳ء میں پیدا ہوئے اور وہ جاپان کے ۱۲۵ ویں شہنشاہ ہیں۔ ہیرو ہیتو کے انتقال (۷ جنوری ۱۹۸۹) کے بعد انھیں یہ عہدہ ملا تھا۔ تاہم محل کے آداب کے مطابق ان کی باقاعدہ تخت نشینی پچھلے ہفتہ کو انجام پائی ہے۔ میں نے ایک جاپانی سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کے عقیدہ کے مطابق، جاپانی شہنشاہ آسمان کا خدائی بیٹا ہے : Is the Japanese Emperor the divine Son of Heaven? اس نے کہا کہ پہلے جاپانی ایسا سمجھتے تھے۔ مگر اب وہ ایسا خیال نہیں کرتے۔ اس نے بتایا کہ دوسری
عالمی جنگ سے پہلے جاپانیوں کا عام خیال یہ تھا کہ شہنشاہ زندہ خدا (living god) ہے، اور وہ ان کا محافظ ہے۔ مگر دوسری عالمی جنگ میں جب جاپان کو شکست ہوئی تو ان کا یہ عقیدہ متزلزل ہو گیا۔ مزید یہ کہ خود شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے یہ اعلان کر دیا کہ میں خدا یا خدا کا بیٹا نہیں ہوں۔ جاپانی اگر چہ اب بھی اپنے بادشاہ کو کامی (Kami) کھتے ہیں جس کے معنی خدا کے ہوتے ہیں۔ مگر اب یہ لفظ صرف علامتی معنی میں بولا جاتا ہے نہ کہ حقیقی معنی میں۔ میں نے کہا کہ پہلے آپ لوگ اپنا حقیقی خدا ر کہتے تھے، اب آپ لوگوں کے پاس صرف علامتی اس کے جواب میں وہ مسکرا کر رہ گیا، اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ۶ اگست ۱۹۸۹ کو دہلی میں میری ملاقات ایک جاپانی صحافی کونیو نیشی (Kunio Nishi) سے ہوئی تھی۔ وہ ٹوکیو کے روزنامہ سیکائی نیپو (Sekai Nippo) کے رپورٹر کے طور پر دہلی آئے تھے اور مجھ سے ملے تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے جاپانی شہنشاہ اور خدا کے عقیدہ کی بابت انھوں نے جو کچھ کہا، اس کا خلاصہ خود ان کے الفاظ میں یہ تھا : The Emperor was "God" and respected by Japanese people before world war II. He was the supreme head in the old Japanese constitution. In the name of the Emperor the war against America and Britain was fought. But after the defeat in the war, Japanese people have been changed into behaving that the Emperor is simply a man. The New Con- stitution puts him as the symbolic head of Japan. Now the Emperor has no political power. رسالہ مارچ ۱۹۷۷ میں جاپان کی تاریخ کا ایک صفحہ نقل کیا گیا تھا۔ یہ بے حد عبرت ناک ۱۸۹۱ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت جاپان میں شہنشاہ میجی (Meiji) کی حکومت تھی۔ استعمار کے زیر اثر جاپان میں میجیت پھیلنے لگی۔ مقامی مذہب میں اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ مسیحی نے مسیحیت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے چاہا کہ وہاں مسلمانوں کو بلائے۔ ترکی کے سلطان عبد الحمید ثانی کو خط لکھا کہ آپ کچھ مسلم علماء کو جاپان بھیجیں تاکہ وہ مسیحی مبلغین سے مناظرہ کریں اور یہاں کے لوگوں کے سامنے اپنا مذہب پیش کریں۔
سلطان عبد الحمید ثانی نے ترکی کے علماء (بشمول سید جمال الدین افغانی) کو دربار میں بلایا اور مشورہ کیا۔ مگر کسی بھی عالم نے اس پیش کش کو اہمیت نہ دی وہ غیر ضروری بحثیں کرتے رہے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی ایک عالم یا مبلغ بھی جاپان بھیجا نہ جاسکا۔
اس واقعہ پر اب ایک سو سال گزر چکے ہیں۔ اگر اس وقت کے علماء نے جاپان کے بادشاہ کی اس پیش کش کو فوراً قبول کر لیا ہوتا اور جاپان کے لئے اسلامی مبلغ بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا تو ایک سو سال پورا ہونے کے بعد اب جاپان میں اسلام کا کیا حال ہوتا، اس کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔
معروف افراد کی سطح پر تو یہ کام نہ ہوسکا۔ تاہم غیر معروف افراد کے ذریعہ جاپان میں تبلیغی کام کچھ نہ کچھ ہوتا رہا ہے۔ اس کی ایک مثال الرحلۃ الیابانیۃ ہے۔ یہ ایک مصری مسلمان علی احمد الجرجاوی کی کتاب انھوں نے ۱۹۰۶ء (۱۳۲۵ھ) میں جاپان کا سفر کیا۔ واپسی کے بعد یہ کتاب لکھی جو اسی زمانہ میں قاہرہ سے شائع ہوئی۔ اس کا ایک نسخہ قاہرہ کے المکتبۃ الازهریۃمیں موجود ہے۔ قطر کے عربی ماہنامہ الامۃ کے شمارہ شوال ۱۴۰۶ھ (جون ۱۹۸۶ء) میں اس پر چار صفحہ کا تعارف چھپا ہے۔
علی احمد الجرجاوی نے اخبار میں پڑھا کہ جاپان کے بادشاہ میکادو کے حکم سے جاپان میں ایک مذہبی کانفرنس ہورہی ہے۔ اس میں ہر مذہب کے نمائندے شریک ہوں گے۔ انھوں نے اپنے جریدہ الارشاد میں لکھا کہ مصر سے مسلمانوں کا ایک وفد جاپان کی اس کانفرنس میں شرکت کرے۔ مگر کسی کو اس سے دلچسپی نہ ہوئی۔ آخر کار وہ کلکتہ کی جامع مسجد کے امام احمد موسیٰ المصری اور تیونس کے ایک شخص کو لے کر ٹوکیو کے لیے روانہ یہ بحری سفر کا زمانہ تھا۔ وہ اسکندریہ، تونس، مراکش، اٹلی، جدہ، عدن، بمبئی، کولمبو، سنگاپور، ہانگ کانگ، یوکا ہاما ہوتے ہوئے ٹوکیو پہنچے۔ مصر سے جاپان تک ۱۲ ہزار میل سے زیادہ کا سفر کیا۔ ٹوکیو میں معلوم ہوا کہ ہندوستان سے سید حسین عبد المنعم بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ ان چار آدمیوں نے ٹوکیو میں ایک مکان کرایہ پر لیا۔ مالک مکان کا نام موسیوجازنیف تھا۔ سید حسین عبد المنعم انگریزی سے واقف تھے۔ وہی مترجم کا کام کرتے تھے۔ مالک مکان نے ان لوگوں سے اسلام کی تعلیمات کے بارے میں انھوں نے اس کے سامنے اسلام کا تعارف کرایا۔ جاپانی نے اسی مجلس میں اسلام قبول کر لیا اور کہا کہ آج سے مجھے مسلمانوں میں سے سمجھو (اعتبرونی من الان فی عداد المسلمین)
موسیوجازنیف نے اسلام کی تبلیغ کے معاملہ میں ان لوگوں کی ہر طرح مدد کی۔ یہاں تک کہ چند مہینے کی کوشش سے تقریباً ۱۰ ہزار جاپانی مسلمان ہو گئے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ جاپانیوں میں اسلام کی اشاعت کے سلسلے
میں جو چیز معاون ہوئی وہ یہ کہ جاپانی ایسے لوگ ہیں جن کے اندر فطری طور پر یہ استعداد ہے کہ وہ ہر اس چیز کو قبول کر لیں جو عقل کے موافق ہو، لا انہم قوم عندهم استعداد طبیعی لقبول كل ما يوافق العقل) صفحہ ۵۳ مسلم رہنما ہر جگہ صلیبیت اور صہیونیت اور عرب قومیت کو عالم اسلام کا سب سے بڑا خطرہ بتا رہے ہیں۔ مگر وہ تبلیغی اسلام کی تیزی طاقت سے بالکل بے خبر ہیں۔ " سب سے بڑا خطرہ" کا انکشاف کرنے والے بہت ہیں مگر " سب سے بڑا امکان" کا اعلان کرنے والا کوئی نہیں۔ سوویت روس کی مشرقی سرحد پر جزیروں کا ایک سلسلہ ہے۔ ان جزیروں کو کور یل جزیرے (Kuril Island) کہا جاتا ہے۔ یہ جزیرے پہلے جاپان کا حصہ تھے۔ یہ جزیرے ایک ہزار کیلو میٹر سے زیادہ رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ زیادہ تر غیر آباد ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے آخر میں یالٹا کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ، سوویت روس نے کچھ جزیروں پر قبضہ کر لیا۔ ۱۹۴۵ کا ہے۔
روس اور جاپان کے درمیان یہ ایک مستقل نزاع کا باعث تھا۔ جاپان کی بار بار کوشش کے باوجود روس ان جزیروں کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ مگر جاپان کی غیر معمولی ٹیکنکل ترقی کے بعد یہ خود روس کی ایک ضرورت بن گئی۔ کیوں کہ سوویت روس جاپان کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ مگر جاپان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارے جزیروں کو ہمارے حوالے کرو، اس کے بعد ہمارے اور تمہارے درمیان ٹیکنکل تعاون کا آغاز ہو سکتا ہے۔
موجودہ نزاع عملاً چار جزیروں پر ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ سوویت یونین اس پر راضی ہو گیا ہے کہ وہ اس میں سے دو خاص جزیروں کو جاپان کے حوالے کر دے۔ جاپان کی حکمراں پارٹی کے لیڈر شنٹار و آبے (Shintaro Abe) نے سوویت یونین کے پروپوزل کو بہت اہم (very important) قرار دیا۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو میری زبان سے نکلا۔ جاپان نے جنگ کے ذریعہ کھویا تھا، اور امن کے ذریعہ دوبارہ حاصل کر لیا۔ جزائر کور یل کی واپسی کا مسئلہ جب تک صرف جاپان کا مسئلہ تھا، روس اس کی واپسی سے انکار کرتا رہا۔ مگر جب ان جزائر کی واپسی سے خود روس کا انٹرسٹ وابستہ ہو گیا تو اس نے اپنی سابقہ پالیسی بدل دی۔ اگر آپ حریف کی ضرورت بن جائیں تو آپ کسی لڑائی
کے بغیر اپنے حریف کو جھکانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
۲۲ جون ۱۹۹۰ کو سان فرانسسکو میں جاپان کے وزیر خارجہ اور امریکہ کے وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں جاپانی وزیر نے امریکہ کے ایک مطالبہ کو ماننے سے انکار کر دیا جس کو اخبارات نے ایک بہت بڑا نہیں (very big no) سے تعبیر کیا ہے۔ مطالبہ یہ تھا کہ جاپان اگلے دس برسوں (۲۰۰۰ - ۱۹۹۱) کے درمیان اپنی آمدنی کا دسواں حصہ (چار ٹریلین ڈالر) عوامی سہولت (public amenities) اور سماجی کاموں (social infrastructure) پر خرچ کرے۔ یعنی پارک ، سڑکوں اور سیور لائن وغیرہ کا نظام بہتر بنانے پر۔
جاپان کے لوگ دنیا کے بہترین لوگ ہیں۔ نیز جاپان ایک انتہائی دولت مند ملک مگر جاپان کا سیاح حیرت انگیز طور پر دیکھتا ہے کہ جاپان میں تمدنی سہولتیں اس اعلیٰ درجہ کی نہیں ہیں جو امریکہ یا مغربی جرمنی جیسے ملک میں نظر آتی ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جاپان ان مدوں میں اپنی جمع شدہ دولت کا ایک معقول حصہ خرچ کرے۔ مگر جاپان ابھی تک اس کے لئے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں جاپان اس قدیم تجارتی اصول پر قائم ہے ـــــ گھوڑا پکڑا ، کاروبار کرو پلکا۔
اس سلسلہ میں ایک لطیفہ قابل ذکر ہے ، لندن کے ایک اخبار دی انڈپینڈنٹ (The Independent) میں حال میں ایک خط چھپا ہے۔ مکتوب نگار لکھتے ہیں کہ جنت وہ ہے جہاں آدمی کو انگلش مکان ، چینی باورچی ، امریکی تنخواہ اور جاپانی بیوی حاصل ہو۔ اس کے برعکس جہنم وہ ہے جہاں کسی کو جاپانی مکان ، انگلش باورچی ، چینی تنخواہ اور امریکی بیوی دے دی جائے :
Heaven consists of an English house, a Chinese cook, an American salary and a Japanese wife. On the other hand, a Chinese salary and an American wife. جاپان کے ایک ممتاز لیڈر شنتارو اشی ہارا (Shintaro Ashiharo) کا ایک آرٹیکل 38 الهلال، جون ۱۹۹۲
لاس اینجلس ٹائمز (Los Angeles Times Syndicate) میں چھپا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ اور جاپان کے درمیان ۱۹۶۰ میں جس سیکورٹی ٹریٹی معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے، وہ اب مکمل طور پر فرسودہ (obsolete) ہو چکا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت جاپان نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ وہ جاپان میں مقیم امریکی فوجوں کا ۴۰ فیصد خرچ ادا کرے گا۔ مگر اب بدلے ہوئے حالات میں ہم کو نہ اپنے دفاع کے لئے امریکی فوجوں کی ضرورت ہے اور نہ اس کا خرچ ادا کرنے کی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ جاپان اپنے مائیکرو چپ کارڈ کو استعمال کرنے پر غور کرے تاکہ امریکہ کو ہوش میں لایا جا سکے :
It is time for Japan to consider the possibility of playing our microchip card in order to bring the US to its senses. اس کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ ہندوستان میں اور جاپان میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ ہمارے لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ کمیونل کارڈ، ہندو کارڈ، مسلم کارڈ کھیلتے ہیں۔ کا لیڈر اپنے سیاسی مقصد کے لئے بھی یہ سوچ رہا ہے کہ اس کو مائیکرو چپ کارڈ کھیلنا چاہئے۔ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستان میں تخریبی سیاست چلائی جاتی ہے اور جاپان میں تعمیری سیاست۔
جدید صنعتی انقلاب نے تمام پرانے معانی کو بالکل بدل دیا ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ اکقوبر ۱۹۹۰ میں شری لال کرشن ایڈوانی نے سومناتھ سے ایودھیا تک ۱۰ ہزار میل کی جو رتھ یا ترا کی، اس رتھ کا نام " رام رتھ " رکھا گیا تھا۔ مگر حقیقتاً وہ " جاپان رتھ " تھا، کیوں کہ وہ رام کی قدیم بیل گاڑی کی نقل نہ تھا۔ یہ دراصل ایک ایئر کنڈیشنڈ جاپانی وین تھی جس کو اوپر سے رتھ کی صورت دیدی گئی تھی۔
عباسی خلیفہ ہارون رشید نے فضا میں بادل کے ٹکڑے کو چلتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا کہ جہاں چاہے جا کر برس، تیرا خراج میرے ہی پاس آئے گا (أمطري حيث شئت فسيأتيني خراجك) آج کی ترقی یافتہ تو میں اگر دنیا والوں سے کہیں کہ تم خواہ جو بھی سرگرمی دکھاؤ، اس کا مالی فائدہ ہم کو ہی ملے گا تو غلط نہ ہوگا۔
پرانا لطیفہ ہے "عقل بڑی کہ بھینس" مگر موجودہ زمانہ میں جاپان نے اس میں ایک اور اضافہ کیا ہے۔ اس نے عملی طور پر ثابت کیا ہے علم بڑا نہ کہ ہتھیار۔ اس نے اس کو ایک ٹھوس حقیقت بنا کر دکھا دیا ہے۔ ایک امریکی مبصر کے الفاظ میں جاپان نے ثابت کیا ہے کہ آتشیں طاقت (firepower) کے مقابلہ میں دماغی طاقت (brainpower) زیادہ بڑی اور زیادہ
جاپان نے یہ برتر طاقت علم کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ جاپان نے اپنی علمی ترقی کے ذریعہ ٹکنالوجی میں نئی بلندیاں حاصل کیں۔ مثال کے طور پر سب سے اعلیٰ سیمی کنڈکٹر جاپان میں تیار ہوتا ہے جو کہ کمپیوٹر کی صحت کارکردگی کی ضمانت ہے۔ جاپان کی دو اعلیٰ شخصیتوں کی تیار کی ہوئی ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کا نام معنی خیز طور پر یہ ہے جاپان جو کہہ سکتا ہے کہ نہیں (The Japan that Can Say No) اس کے مصنفین نے جاپان کو مشورہ دیا ہے کہ امریکہ اگر جاپان سے اپنے مطالبات بند نہیں کرتا تو جاپان کو یہ کہہ دینا چاہئے کہ وہ اپنے سیمی کنڈکٹر کی جانکاری (expertise) سوویت روس کو دیدے گا۔ اس پر کچھ امریکی مبصرین نے لکھا ہے کہ اس کتاب کی اشاعت امریکہ کے لئے "پرل ہاربر" کے برابر ہے۔ جاپان نے اپنی موجودہ صنعتی اور اقتصادی ترقی علم کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ بین اقوامی سطح پر امریکی طلبہ میں صنعتی قوموں میں دسویں نمبر ہیں۔ جاپانیوں کی اسی بڑھی ہوئی معیار پسندی کا یہ نتیجہ تھا کہ انھوں نے اپنی مصنوعات کو بے نقص (zero defect) کے معیار تک پہنچا دیا۔ جاپانیوں کے اس مزاج کے متعلق میں نے ایک آرٹیکل پڑھا اس میں لکھا تھا کہ زیر و ڈیفیکٹ کے معاملہ میں ان کا شوق اتنا بڑھا ہوا ہے کہ معمولی جاپانی کارکن بھی اپنی کارکردگی کا تقابل جرمنوں اور امریکیوں سے کرتے ہیں۔ کے طور پر، اگر دوسرے لوگ پرزوں کوفی بلین کی سطح سے جانتے ہیں تو جاپانی یہ چاہتا ہے کہ اس کو فی ملین کی سطح سے جانچے :
So relentless are they in their zeal for 'zero defect', that even the ordinary Japanese workers are said to compare their performance with that of the Germans and Americans: If, for instance, others control parts at the per-million level, the Japanese want to do it at the per-
جاپانی رہنماؤں نے اپنے افراد کے اندر معیاری پسندی کا ذہن پیدا کیا۔ اس کے برعکس موجودہ مسلم رہنما اپنی قوم کے افراد میں شکایت پسندی کا ذہن پیدا کر رہے ہیں۔ کی سوچ یہ ہے کہ دوسرے لوگ اگر اچھا کام کر کے آگے بڑھے ہیں تو ہم اور زیادہ اچھا کام کر کے ان سے آگے نکل جائیں۔ جب کہ نام نہاد رہنماؤں نے موجودہ مسلمانوں کے اندر جو ذہن پیدا کیا ہے وہ یہ کہ دوسرے لوگ جس چیز کو لیاقت کی بنیاد پر حاصل کر رہے ہیں۔ اس کو تم مطالبہ کی بنیاد پر حاصل کرنے کی کوشش کرو، اور جب مطالبہ اور ڈیمانڈ کی بنیاد پر وہ چیز تم کو نہ ملے تو اس کو تعصب کا نتیجہ بتا کر شکایت اور احتجاج کا لفظی طوفان جاری کر دو۔ ٹوکیو میں ۱۹۰۸ء میں اسکول آف فارن لینگویجز قائم ہوا۔ اس میں اردو زبان کا بھی ایک شعبہ تھا۔ اس کے تحت غالباً پہلی بار پانچ جاپانی طالب علموں نے اردو پڑھنا شروع کیا۔ ۱۹۱۱ میں اس شعبہ کو ترقی دی گئی تو طلبہ کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ ۱۹۰۹ میں مولا نا برکت اللہ صاحب بھوپالی اس شعبہ کے استاد مقرر ہوئے۔ وہ مولانا محمود حسن صاحب کی تحریک آزادی کے پروگرام کے تحت انگلینڈ اور امریکہ ہوتے ہوئے جاپان پہنچے تھے۔ اور یہاں ٹوکیو کے مذکورہ اسکول میں اردو کے استاد مقرر ہو گئے ۔
مولانا برکت اللہ بھوپالی کئی زبانیں جانتے تھے۔ وہ نہایت متحرک آدمی تھے۔ اپنے زمانہ قیام میں ٹوکیو میں اسلامک فریٹرنٹی (Islamic Fraternity) کے نام سے ایک انجمن قائم کی اور اسی نام سے ایک انگریزی اخبار بھی جاری کیا۔ یہ اخبار جلد ہی بند ہو گیا۔ اس کے بعد انھوں نے دوسرا پرچہ الاسلام (Al-Islam) کے نام سے نکالا۔ ان پرچوں کا نام اگر چہ اسلامی تھامگر عملاً یہ دونوں پرچے سیاسی پرچے تھے۔ حکومت جاپان کو مولا نا برکت اللہ بھوپالی کی سیاسی سرگر میاں پسند نہیں آئیں۔ ۱۹۱۴ میں ان کو اسکول کی ملازمت سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ جاپان سے واپس چلے گئے۔
۸۰ سال پہلے مولانا برکت اللہ بھوپالی کو جاپان میں کام کے جو مواقع ملے تھے اس کو اگر وہ اشاعت اسلام کے لئے استعمال کرتے تو آج شاید جاپان کی تاریخ دوسری تاریخ ہوتی۔ موجودہ زمانہ میں زبان ، جغرافیہ، تاریخ ، کلچر وغیرہ موضوعات کے تحت ساری دنیا میں
مختلف ادارے قائم کئے گئے ہیں۔ ان اداروں کے تحت مسلمانوں کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ اس سے وابستہ ہوکر دنیا کے ہر ملک میں قیام کر سکیں۔ اس جدید امکان کے تحت بیسویں صدی میں لاکھوں مسلمانوں کو ساری دنیا میں رہنے اور کام کرنے کے مواقع حاصل ہوئے۔ میں دعوتی ذہن ہوتا تو یہ مواقع موجودہ زمانہ میں اسلام کی عالمی اشاعت کا ذریعہ بن جاتے۔ مگر دعوتی ذہن نہ ہونے کی بنا پر یہ مواقع اشاعتِ اسلام کے حق میں استعمال نہ ہوسکے۔ سب سے بڑا اسلامی نقصان ہے جو موجودہ زمانہ میں ہمیں پیش آیا ہے۔
ٹوکیو کے مذکورہ لسانی اسکول کے ایک اردو ٹیچر مسٹر بدر الاسلام ففضلی تھے، وہ دسمبر ۱۹۳۳ میں جاپان پہنچے اور ڈیڑھ سال تک وہاں رہے۔ ہندوستان واپس آکر انھوں نے "حقیقت جاپان" کے نام سے اپنا مفصل سفر نامہ لکھا تھا جو انجمن ترقی اردو دہلی سے ۱۹۳۴ میں شائع ہوا۔ اس جاپانی سفر نامہ کا ایک جُز، الرسالہ دسمبر ۱۹۷۶ میں شائع کیا جا چکا ہے۔ آج جاپان کی کئی یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبے قائم ہیں۔ جاپانی لغت بھی شائع کیا جا چکا ہے۔ اردو سے متعلق اور بہت سے کام ہو رہے ہیں۔ اسکی تفصیل ہفت روزہ ہماری زبان (نئی دہلی) کے شمارہ ۸ جنوری ۱۹۹۱ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
شومی اوکاوا (Shumi Okawa) غالباً پہلے جاپانی عالم ہیں جنھوں نے براہِ راست عربی سے قرآن کا ترجمہ جاپانی زبان میں کیا۔ جاپان کی کئی یونیورسٹیوں میں اردو، عربی اور اسلامیات کی تعلیم کے شعبے ہیں۔ ان کی وجہ سے اسلام کی اشاعت میں مدد ملتی ہے۔ تبلیغی جماعت کے لوگوں نے بھی جاپان میں اسلام کی اشاعت کا کام کیا ہے۔
۱۹۷۳ میں جب شاہ فیصل نے تیل کی سپلائی جزئی طور پر بند کی تو اچانک دنیا کو معلوم ہوا کہ جدید صنعتی دور میں تیل کو انتہائی اہم حیثیت حاصل ہے۔ اس کے نتیجہ میں عرب دنیا نے نئی اہمیت حاصل کرلی اور نتیجہ مسلم کلچر اور اسلامی علوم کا مطالعہ شروع ہوگیا۔ اس سے پہلے جاپان کے اہلِ علم اسلام کے معاملہ میں یورپ اور امریکہ کی کتابوں پر انحصار کرتے تھے، اب ان کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ وہ براہِ راست طور پر اسلام کا مطالعہ کرکے مسلم دنیا سے واقفیت حاصل
۱۹۷۵ میں باقاعدہ طور پر جاپان کی یونیورسٹیوں میں اسلامک اسٹڈیز کے شعبے قائم کرنے کا کام شروع ہوا۔ ۱۹۸۵ میں ایک بہت بڑا شعبہ قائم ہوا جس کا انگریزی نام (The Institute of Middle Eastern Studies) ہے ۔ اسی طرح ٹوکیو یونیورسٹی میں (Institute of Oriental Culture) قائم ہے۔ پچھلے برسوں میں جاپان میں اسلام کے موضوع پر کئی سیمینار ہو چکے ہیں۔ مذکورہ انسٹیٹیوٹ ایک سہ ماہی مجلہ چھاپتا ہے جس کا نام میدان (Maydan) ہے ۔ اس میں جاپانی اور انگریزی زبان میں مضامین ہوتے ہیں ۔ ایک اخبار میں جاپان میں آنے والے روبوٹ انقلاب (robot revolution) کا ذکر اس کا پہلا جملہ یہ تھا آجکل جو لوگ جاپان آتے ہیں وہ اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ کس طرح جاپان میں ہر صنعتی شعبہ میں روبوٹ مشینیں کام کر رہی ہیں : Recent visitors to Japan are awe-struck at the proliferation of robots in every field of industrial activity. مضمون میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں جتنے روبوٹ استعمال ہوتے ہیں ، اتنے جاپان میں تنہا استعمال ہو رہے ہیں ۔ آگ بجھانا ، گھر کی صفائی کرنا، سمندر کی تہوں میں سامان لے جانا، کارخانوں میں سخت محنت والے کام کرنا ، سرنگوں میں داخل ہونا وغیرہ ، وغیرہ روبوٹ کی سائنس کو روبوٹکس (Robotics) کہا جاتا ہے ۔ اب روبوٹکس کی تحقیق خلائی روبوٹ بنانے کی طرف متوجہ ہے ۔ ایسے روبوٹ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو خلائی کارخانوں میں کام کر سکیں ۔ مضمون میں مستقبل کے روبوٹ کے بارہ میں بہت سی انوکھی باتیں درج تھیں ۔ میں نے ایک ہم سفر سے اس کا ذکر کیا ۔ وہ انجینئر تھا۔ اس نے کہا کہ آج جب یہ باتیں کی جاتی ہیں تو وہ لوگوں کو سائنسی افسانہ معلوم ہوتی ہیں مگر اس صدی کے خاتمہ تک یہ سب عام بات ہو چکی ہوگی :
We seem to be talking the stuff of science fiction but by the turn of the century all this may sound commonplace. میں نے سوچا کہ عین یہی بات آخرت کے معاملہ میں بھی ہے ۔ آج جب لوگوں سے جنت اور
دوزخ کی بات کی جائے تو لوگوں کو اس کی صحت پر یقین نہیں آتا۔ حتیٰ کہ آخرت کا اقرار کرنے والے بھی اس کو شعور کی سطح پر سمجھ نہیں پاتے۔ مگر موجودہ زندگی کے ختم ہوتے ہی جنت اور دوزخ ایسے واقعہ کی صورت میں سامنے آجائے گی کہ لوگ محسوس کریں گے کہ یہ تو اتنی بڑی حقیقت تھی کہ اس سے بڑی حقیقت اور کوئی نہیں۔
۹ دسمبر کو ظہر کی نماز کے بعد ہوٹل سے ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ یہاں کے قاعدہ کے مطابق درمیان میں بس روکی گئی ۔ جاپانی پولیس نے تمام مسافروں کو مع سامان اتار کر ان کے پاسپورٹ اور ان کے سامان کی جانچ کی۔ میری باری آئی تو مجھ کو دیکھتے ہی میز کی دوسری طرف کھڑے ہوئے آدمی نے کہا ” آپ مسلمان ہیں" میں نے کہا ، ہاں۔ اس کے بعد ابتدائی انگریزی اور اس کے بعد عربی میں گفتگو ہوئی۔ اس نے بتایا کہ میں تین سال تک خرطوم میں رہا ہوں اور " شو یا " عربی جانتا ہوں ۔ اس قافلہ میں میں اکیلا مسلمان تھا۔ سب کی باقاعدہ چیکنگ کی۔ مجھ کو صرف ایک مسکرا ہٹ کے ساتھ چھوڑ دیا۔ قیامت کے دن جو لوگ ایمان و اسلام کے ساتھ پہنچیں گے ، وہ اسی طرح سرسری طور پر دیکھ کر آگے بڑھا دئے جائیں گے۔ مگر جن لوگوں کے پاس ایمان و اسلام کا سرمایہ نہ ہوگا ، ان کا سخت حساب ہوگا اور حدیث میں آیا ہے کہ من نوفش فقد هلك ۔ اللہ اس دن کی ہولنا کی سے بچائے۔
جاپانی قوم اول و آخر ایک تجارتی قوم ہے۔ اس کا اخلاق بھی اس کے تجارتی مفاد کے تابع ہے۔ مثلاً اکثر ملکوں میں ( خود دہلی میں بھی ) ائیر پورٹ یا ائیر پورٹ ہوٹل سے مقامی ٹیلیفون مفت کیا جا سکتا ہے مگر جاپان میں اس کی سہولت نہیں ۔ اکثر ملکوں میں ٹرانزٹ مسافر کے لئے ائیر پورٹ ٹیکس نہیں ہوتا مگر جاپان میں ٹرانزٹ مسافر سے بھی ۱۶ ڈالر ائیر پورٹ ٹیکس کے طور پر وصول کئے جاتے ہیں۔ ہندوستانی انسان بھی مفاد پسند ہے اور جاپانی انسان بھی مفاد پسند ۔ تاہم دونوں میں ایک فرق ہے۔ ہندوستانی انسان کے نزدیک مفاد پرستی کا مطلب ایکسپلائٹیشن ہے۔ سامان بیچ کر اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر جاپانی انسان کی مفاد پرستی اس کو یہ سکھاتی
ہے کہ بہتر سے بہتر سامان تیار کرو تاکہ ساری دنیا تمہارا سامان خریدنے پر مجبور ہو جائے۔ انسان کا تجارتی مذہب دھوکا ہے ، جاپانی انسان کا تجارتی مذہب اعلیٰ کوالٹی ۔ اس فرق کا مزید نتیجہ یہ ہے کہ جاپان میں اس قسم کے دنگے کبھی نہیں ہوتے جیسے کہ ہندستان میں ہر روز ہوتے رہتے ہیں ۔ کیوں کہ " کوالٹی " کا مزاج آدمی کو امن پسند بناتا ہے اور " دھوکے “ کا مزاج فساد پسند ۔ لاس اینجلیز سے ٹوکیو تک کا سفر نہایت پرسکون گزرا تھا۔ کیوں کہ اس میں بیشتر جاپانی مسافر تھے ۔ چند ہندستانی مسافر بھی تھے ۔ ان کے مزاج کا سب سے پہلا مظاہرہ ایرپورٹ پر گیٹ نمبر ۱ کے ویٹنگ ہال میں ہوا۔ یہاں ہندستانی لوگ آدھ گھنٹہ کے لئے جمع ہوئے تھے ۔ یہاں سے اٹھے تو میں نے دیکھا کہ جگہ جگہ کوڑا پڑا ہوا تھا۔ جہاز کے اندر ایک ہندستانی مسافر نے کافی شراب پی لی۔ اس کے بعد وہ مدہوش ہو کر چلانے لگے ۔ جہاز کا عملہ بڑی مشکل سے ان کو اٹھا کر پیچھے کی سیٹ پر لے گیا ۔
میری سیٹ کے قریب ایک امریکی خاتون (Rebecca Becky Medcalf) تھیں ۔ سیاح کے طور پر ہندستان جارہی تھیں ۔ انھوں نے بتایا کہ میں خدا پر عقیدہ رکھتی ہوں ، مگر کسی مذہب کو نہیں مانتی :
I believe in God, but not in any particular religion. انھوں نے " مسلم ریلیجن " کا کوئی مطالعہ نہیں کیا تھا ۔ البتہ مختصر طور پر عیسائیت اور یہودیت کو پڑھا تھا ، مگر وہ اس سے متاثر نہ ہو سکیں ۔
اس قسم کے لوگ مغرب میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ (اسلام کے علاوہ ) )مذاہب تحریف کی بنا پر انسانی عقل کو اپیل نہیں کرتے ۔ مگر خدا کی معرفت انسان کی فطرت میں پیوست ہے ۔ آدمی کسی خارجی مذہب کا انکار کر سکتا ہے مگر وہ خود اپنی فطرت کا انکار نہیں کر سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ جو مذہب کو نہیں مانتے ، وہ عین اسی وقت گہرائی کے ساتھ خدا کے وجود کے معترف ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو غیر محرف مذہب ( اسلام ) مل جائے تو وہ خدا کو بھی ماننے لگیں گے اور خدا کے بھیجے ہوئے سچے مذہب کو بھی ۔
درمیان میں جہاز بینکاک میں اترا ۔ یہاں کا وقت انڈیا کے مقابلہ میں ڈیڑھ گھنٹہ آگے
نے اپنی گھڑی میں تبدیل نہیں کی تھی۔ چنانچہ ملک ملک کے اعتبار سے میری گھڑی کا وقت بدلتا رہا۔ امریکہ میں ساڑھے دس گھنٹے کا فرق تھا ، جاپان میں ساڑھے تین گھنٹہ کا، بینکاک میں ڈیڑھ گھنٹہ کا، کراچی میں یہ فرق آدھ گھنٹہ رہے گا اور دہلی پہنچ کر ملک کا وقت اور میری گھڑی کا وقت یکساں ہو جائے یہی وہ آفاقی حقیقت ہے جو قرآن میں رب المشارق و المغارب کے لفظوں میں بیان کی
بینکاک ایئر پورٹ کی دیوار پر یہ لکھا ہوا نظر آیا کہ بینکاک کا مطلب ہے فرشتوں کا شہر: Bangkok means – the city of angels. قدیم زمانہ میں ہر قوم نے اسی طرح اپنے شہر، اپنی زبان ، اپنے پہاڑ ، اپنے دریا ، اپنے درخت ، غرض ہر نمایاں چیز کو خصوصی اہمیت کا حامل سمجھ کر ان کا ایک مقدس نام دے رکھا تھا۔ مشر کا نہ تو ہمات کا نتیجہ تھا۔ اس دور کو اسلام کے موحدانہ انقلاب نے ختم کیا۔ اب مشر کا نہ تو ہمات اگر کہیں باقی ہیں تو تاریخی آثار کے طور پر باقی ہیں نہ کہ زندہ عقیدہ کے طور پر۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۹۰ کی صبح کو دہلی واپس پہنچا۔ واپسی کے بعد مختلف لوگوں کے خط اور پیغام ملے۔ ان سے ان کے تاثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں صرف ایک تاثر نقل کیا جاتا ہے۔ خاں صاحب اپنے خط مورخہ ۱۴ دسمبر ۱۹۹۰ میں لکھتے ہیں :
It was indeed a pleasure and heart warming occasion for us to listen to you during your recent trip to the USA. ڈاکٹر صاحب موصوف بلا معاوضہ خدمت کے طور پر ایک ادارہ چلا رہے ہیں۔ اس ادارہ کا مقصد امریکہ اور کناڈا میں مقیم مسلم خاندانوں کو مناسب رشتہ نکاح کی تلاش میں مدد دینا ہے۔ خاص دائرہ عمل وہ لوگ ہیں جو برصغیر ہند سے جاکر امریکہ اور کناڈا میں آباد ہوگئے، ضرورت مند لوگ حسب ذیل پتہ پر رابطہ قائم کرسکتے ہیں :
Dr. Abdul Hameed Khan, Islamic Marriage Bureau, P.O. Box 472, Atwood, California 92601, U.S.A.