علم کی اہمیت
Al-Risala, January 1992, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
جیفرسن (Thomas Jefferson) امریکہ کا تیسرا صدر تھا۔ وہ ۱۷۴۳ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۲۶ء میں اس کی وفات ہوئی ۔ وہ ۱۸۰۱ء سے لے کر ۱۸۰۹ء تک امریکہ کا صدر رہا۔ جیفرسن نہایت قابل آدمی تھا۔ وہ انگریزی، لاطینی، یونانی، فرانسیسی، ہسپینی، اطالوی اور اینگلو سیکسن زبانیں جانتا تھا۔ مورخین اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی غیر معمولی قسم کا صاحب علم آدمی تھا : He was an extraordinary learned man (10/130). اس نے اپنی طویل عمر میں فلسفہ اور سائنس سے لے کر مذہب تک تقریباً تمام علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ آخر عمر میں اس نے یہ کوشش کی کہ وہ انجیل کا تجزیہ کرے اور یہ معلوم کرے کہ حضرت مسیح نے واقعہ کیا کہا تھا اور بیان کرنے والوں نے ان کے بارے میں کیا بیان کیا :
He attempted an analysis of the New Testament in order to discover what Jesus really said as distinguished from what he was reported to جیفرسن نے آخر عمر میں یہ وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر جو کتبہ لگایا جائے اس میں یہ نہ لکھا جائے کہ وہ امریکہ کا صدر تھا۔ بلکہ یہ لکھا جائے کہ وہ ورجینیا یونیورسٹی کا بانی تھا۔ چنانچہ اس کی وصیت کے مطابق اس کی قبر (Monticello) پر جو کتبہ لگا ہوا ہے اس میں یہ الفاظ درج ہیں : Here was buried Thomas Jefferson ..... father of the University of Verginia (10/131). حقیقت یہ ہے کہ علم سب سے بڑی دولت ہے۔ جو لوگ علم کی اہمیت کو جان لیں، ان کو امریکہ کی صدارت بھی ہیچ معلوم ہوگی۔
علم سب سے بڑی دولت ہے۔ علم ہی وہ واحد چیز ہے جس سے آدمی کبھی نہیں اکتاتا، جس کی حد بھی کسی کے لیے نہیں آتی۔ علم ہر معاملہ میں کار آمد ہے ۔ وہ ہر میدان میں کامیابی کا زینہ علم سے آدمی کو وہ شعور ملتا ہے جس سے وہ دنیا کو جانے ۔ جس سے وہ باتوں کو ان کی گہرائی تک سمجھ سکے ۔ علم ایسا سکہ ہے جس سے آپ دنیا کی ہر چیز خرید سکتے ہیں۔
علم ہر قسم کی ترقی کا راز ہے ، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی، جس کے پاس علم ہو اس کے پاس گویا ہر چیز موجود ہے۔
جناب عبد الرحمن انتولے (بیریسٹر اٹ لاء، اور سابق چیف منسٹر مہاراشٹر) نے ۵ فروری ۱۹۸۷ کی ملاقات میں ایک واقعہ بتایا۔ غالباً ۱۹۵۱ کی بات ہے۔ اس وقت وہ لندن کی کونسل آف لیگل ایجوکیشن میں قانون کے طالب علم تھے۔ ایک لکچر کے دوران ایک قانونی مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے انگریز پروفیسر نے انھیں یہ واقعہ سنایا تھا۔ پروفیسر نے بتایا کہ ایک بڑا صنعتی کارخانہ چلتے چلتے اچانک بند ہو گیا۔ کارخانے کے انجینئر اس کو دوبارہ چلانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ آخر ایک بڑے ایکسپرٹ کو بلایا گیا۔ آیا تو اس نے کارخانے کا ایک راونڈ لیا۔ اس نے اس کی مشینیں دیکھیں ۔ اس کے بعد وہ ایک جگہ اس نے کہا کہ ایک ہتھوڑا لے آؤ۔ ہتھوڑا لایا گیا تو اس نے ایک مقام پر ہتھوڑے سے مارا ۔ اس کے بعد مشین حرکت میں آگئی اور کارخانہ چلنے لگا۔
مذکورہ ایکسپرٹ نے واپس جاکر ایک سو پونڈ کا بل بھیج دیا۔ کارخانے کے منیجر کو یہ بل بہت زیادہ معلوم ہوا۔ اس نے ایکسپرٹ کے نام اپنے خط میں لکھا کہ آپ نے تو کوئی کام کیا نہیں، یہاں اگر آپ نے صرف ایک ہتھوڑا مار دیا۔ اس کے لیے ایک سو پونڈ کا بل ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ براہِ کرم آپ ہمارے نمائندہ کو مزید اور زیادہ بہتر تفصیلات عطا فرمائیں: Please furnish my client with further and better particulars. اس کے جواب میں مذکورہ ایکسپرٹ نے لکھا کہ میں نے جو بل روانہ کیا تھا وہ بالکل صحیح اصل یہ ہے کہ ۹۹ پونڈ اور ۱۹ شلنگ تو یہ جاننے کے لیے ہیں کہ مشین میں غلطی کیا ہے اور کہاں ہے ۔ اور ایک شلنگ ہتھوڑا اٹھا کر مارنے کے لیے :
£ 99.19 to diagnose the disease and one shilling to pick up the hammer and to strike at the right spot. اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمت علم کی ہے۔ سو میں ایک اگر محنت کی قیمت ہو تو سو میں ننانوے علم کی قیمت قرار پائے گی۔