From confrontation to integration
Al-Risala, July 1992, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آرٹیکل کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کے موجودہ فرقہ وارانہ اختلافات کا حل تمام مذاہب کے اتحاد (harmony of religions) کا نظریہ ہے جو ہندو ازم کی اصل بنیاد ہے۔ اور جس کو شنکر اچاریہ اور دوسرے لوگوں نے پیش کیا ہے۔
مگر صحیح بات یہ ہے کہ مذاہب کے درمیان رواداری کا نظریہ ہمارے مسئلے کا حل ہے نہ کہ مذاہب کے درمیان اتحاد کا نظریہ۔ ایک لفظ میں ، ہارمنی آف ریلیجنز نہیں بلکہ ہارمنی بٹوین کمیونٹیز وہ چیز ہے جو ملک میں یک جہتی اور ایکتا کا ماحول پیدا کر سکتی ہے۔
مذہب کے دائرے سے باہر آج بھی اسی اصول پر سماج کا پورا نظام قائم ہے۔ ایک کمیونٹی کے افراد دنیوی معاملات میں الگ الگ ذوق رکھتے ہیں۔ اسی طرح ملک میں مختلف سیاسی ہر ایک کا سیاسی نقطہ نظر الگ الگ ہے۔ اس کے باوجود سب مل کر رہتے ہیں۔ ملاپ فرق کو مٹا کر قائم نہیں ہوا ہے بلکہ فرق کو برداشت کرنے پر قائم ہوا ہے۔ ٹھیک یہی تدبیر مذہب کے معاملے میں بھی کارآمد ہے۔ یہاں بھی اس کی ضرورت نہیں کہ مذہبوں کے فرق کو مٹایا جائے یا یہ ثابت کیا جائے کہ ایک مذہب اور دوسرے مذہب میں کوئی فرق نہیں۔ اس قسم کی غیر ضروری کوشش کے بجائے کرنے کا کام یہ ہے کہ لوگوں میں رواداری (tolerance) کا مزاج پیدا کیا جائے۔ دوسرے شعبوں میں رواداری کی بنیاد پر اتحاد قائم ہے۔ اسی تجربہ کو ہمیں مذہب کے دائرہ میں بھی اختیار کرنا ہے۔
مذاہب کی وحدت کا نظریہ نہ فطری ہے اور نہ قابلِ عمل۔ جب کہ اہل مذاہب کے درمیان رواداری کا نظریہ فطری بھی ہے اور قابل عمل بھی۔ عقل مندی یہ ہے کہ بے فائدہ کوشش سے بچا جائے اور وہ کوشش کی جائے جس سے مطلوبہ نتیجہ نکل سکتا ہو۔