Al-Risala · July 1992

ناامیدی

Al-Risala, July 1992, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوم افیرس کے منسٹر آف اسٹیٹ ایم ایم جیکب نے راجیہ میں بتایا کہ یکم جنوری ۱۹۸۸ سے لے کر ۳۰ جون ۱۹۹۱ تک ساڑھے تین سال میں صرف دہلی میں جن لوگوں نے خود کشی کی ان کی تعداد ۲۰۰۷ خود کشی کے اقدام کا بنیادی سبب انتہائی مایوس (extreme frustration) تھا (ہندوستان ٹائمز یکم اگست ۱۹۹۱)

واقعات بتاتے ہیں کہ خود کشی کرنے والے زیادہ تر غیر معذور لوگ ہوتے ہیں۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی معذور اور لاچار آدمی اپنے آپ کو ہلاک کر کے خود کشی کرلے۔ ایک شخص نے بی اے پاس کر لیا تھا مگر ایم اے میں اس کو داخلہ نہیں ملا اس لیے اس نے خود کشی کرلی۔ ایک شخص نے اپنی ڈگری کی تعلیم مکمل کر لی مگر اس کے بعد اس کو ملازمت نہیں ملی اس لیے اس نے خود کشی کر لی۔ ایک شخص کا پروموشن دس سال تک رکارہا اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔ شخص اپنی پسندیدہ عورت سے شادی نہ کر سکا اس لیے اس نے زہر کھا کر اپنا خاتمہ کر لیا۔ خود کشی کرنے والے افراد کا معاملہ زیادہ تر یہ تھا کہ وہ تندرست تھے۔ ان کو کھانا کپڑا بھی مل بقَدَرِ ضرورت اسباب حیات انہیں حاصل تھے۔ مگر وہ اپنی ایک مطلوب چیز کو پائے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس بنا پر وہ شدید محرومی کا شکار ہو گئے اور خود کشی کا اقدام کر بیٹھے۔ اس دنیا میں سب سے بڑی چیز امید ہے۔ امید پر آدمی جیتا ہے اور اگر امید باقی نہ رہے تو اس کو اپنی زندگی اتنی زیادہ بے معنی نظر آنے لگتی ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔ مگر ان تمام لوگوں کی مشترک غلطی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے حال کو دیکھا، مگر وہ اپنے مستقبل کو نہ دیکھ سکے۔ کوئی آدمی حال میں اگر کم پانے ہوئے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مستقبل میں بھی کم ہی پر باقی رہے گا، اگر وہ اپنے وجود کو اور اپنے ملے ہوئے مواقع کو استعمال کرے تو عین ممکن ہے کہ آئندہ وہ ان تمام چیزوں کو پا لے جن کو وہ اپنے آج کے حالات میں نہ پاسکا۔ حال پر نظر آدمی کو مایوسی کرتی ہے لیکن مستقبل پر نظر اس کو حوصلہ مند انسان بنا دیتی

Printed page