معرفت حق
Al-Risala, July 1992, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان ہیں جن کا حال یہ ہے کہ وہ انتہائی ذوق وشوق کے ساتھ حج کے لیے جائیں گے اور واپس آکر نہایت والہانہ اور عاشقانہ انداز میں حج کا سفر نامہ لکھ کر شائع دوسری طرف انھیں لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ حقارت کا معاملہ کر رہے ہیں۔ وہ اس کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ اس کے خلاف بے بنیاد الزام گھڑ کر اس کو زبان و قلم کے ذریعہ پھیلا رہے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو بندۂ مومن کی تحقیر کرتے ہیں۔ اور جب حرم کی اور حرم مدنی کا ذکر ہو تو وہ غایت درجہ تکریم کے الفاظ بولتے ہیں۔ حالانکہ حدیث میں آیا ہے کہ مومن کا عزت و احترام کعبہ کے عزت و احترام سے بھی زیادہ ہے (المؤمن اكرم حرمة من الكعبة)
اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب ان عاشقین مدینہ کی بے بصیرتی ہے۔ وہ حقائق ظاہری کو تو خوب دیکھتے ہیں مگر حقائق معنوی ان کو دکھائی نہیں دیتے۔ ان کو وہ اسلام نظر آتا ہے جو تاریخی عظمت ، مادی شوکت اور انسانوں کی بھیڑ کے ساتھ نمایاں ہو رہا ہو۔ اور جو اسلام ظواہر سے خالی ہو۔ جس کو جاننے کے لیے جو ہر شناسی اور معرفت باطنی کی صلاحیت درکار ہو۔ اس کے ادراک سے وہ بے بہرہ رہتے ہیں۔
قدیم عرب کے جن لوگوں کو قرآن میں اندھا اور بہرہ بتایا گیا ان کا معاملہ یہی تھا۔ وہ ”حرم کی“ کا تو خوب احترام کرتے تھے مگر انھوں نے رسول اور اصحاب رسول کی بے حرمتی کی۔ کیوں کہ ”حرم کی“ سطح پر جو دین تھا اس میں ان کو تاریخی عظمتیں دکھائی دے رہی تھیں۔ اس کے برعکس رسول اور اصحاب رسول کا دین ابھی تاریخی عظمتوں اور مادی شوکتوں سے خالی تھا۔ اس وقت رسول والے دین کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے جو ہر شناسی کی صلاحیت درکار تھی جس سے وہ محروم تھے۔ چنانچہ انھیں اندھا اور بہرہ قرار دے دیا گیا۔
ایمان معرفت حق کا نام ہے۔ مومن وہ جو ہر شناس انسان ہے جو سچائی کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھے ، جو ظواہر سے بلند ہو کر حقائق کو دریافت کرلے۔