Al-Risala · July 1992

تحریک کی مخالفت

Al-Risala, July 1992, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

مردہ سانپ کہیں پڑا ہوا ہو تو کوئی اس کو مارنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ لیکن اگر کہیں زندہ سانپ نکل آئے تو تمام لوگ اس کو مارنے کے لیے حرکت میں آجاتے ہیں۔ یہی بلا تشبیہ تحریکوں کا معاملہ تحریک کی مخالفت تحریک کی زندگی کا ثبوت ہے۔ بے جان تحریک کی مخالفت کے لیے کوئی کھڑا نہیں ہوتا۔ مگر کوئی جاندار تحریک برپا ہو تو ہر طرف اس کی مخالفت کرنے والے اٹھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ایک حقیقی تحریک یہ کرتی ہے کہ وہ وقت کے تمام ان لوگوں کو بے نقاب کردیتی ہے جو اپنے آپ کو جھوٹ کے دوں میں چھپائے ہوئے تھے۔ کوئی اپنے جہل پر علم کا مصنوعی پردہ ڈالے ہوئے کوئی اپنی بے دانشی کے اوپر دانش مندی کا فرضی مینار کھڑا کیے ہوئے ہوتا ہے۔ پیچھے کی صف میں بیٹھنے کے قابل ہوتا ہے مگر وہ حالات سے فائدہ اٹھا کر آگے کی گدی پر قابض ہو جاتا کوئی حقیقتاً مخرب قوم ہوتا ہے مگر خوب صورت الفاظ بول کر اپنے لیے معمار قوم کا خطاب حاصل کر لیتا ہے۔

ایک زندہ تحریک ایسے لوگوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے سونے کے قلع کیے ہوئے برتن لیے آگ کی آنچ۔ آنچ پر آتے ہی اوپر کا قلع اڑ جاتا ہے۔ اسی طرح ایک زندہ تحریک ایسے تمام لوگوں کو ایکسپوز (expose) کر دیتی ہے جن کی اصل کچھ ہو اور ظاہری طور پر وہ کچھ بنے ہوئے ہوں۔ کسی تحریک کی مخالفت اس کی زندگی کا اعتراف ہے۔ تحریک کی مخالفت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ باطل پر ضرب لگانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

مخالفت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے اس کی مطلوب قسم۔ یہ حق کے دفاع کے لیے عمل میں لائی مخالفت کی دوسری غیر مطلوب قسم وہ ہے جو خود اپنی ذات کے دفاع میں کی جاتی ہے۔ دیکھتا ہے کہ فلاں تحریک اس کو بے زمین کر رہی ہے۔ اس لیے وہ اس کا مخالف بن کر کھڑا ہو جاتا۔ یا خود پر پردہ میں رہ کر کچھ دوسرے لوگوں کو اکسادیتا ہے کہ وہ اس کی مخالفت کی مہم چلائیں۔ قسم کی مخالفت پیغمبروں کی سنت ہے اور دوسرے قسم کی مخالفت صرف شیطان کی سنت۔

Printed page