مخالفت بے اثر
Al-Risala, July 1992, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۲ فروری ۱۹۹۲ کو جناب عبدالقادر بٹ ایم اے (ڈوڈہ، کشمیر) سے دہلی میں ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر غلام نبی میر (نالی بونجو ہ، ڈوڈہ، کشمیر) کو پچھلے سال انھوں نے الرسالہ دکھایا۔ وہ کچھ لوگوں کے مخالفانہ پروپیگنڈے سے متاثر تھے۔ چنانچہ انھوں نے کہا کہ اس کا لکھنے والا انڈیا گورنمنٹ کا پیڈ ایجنٹ (paid agent) ہے۔ وہ مسلمانوں کو بزدلی سکھاتا ایسے رسالہ کو پڑھنا مجھے پسند فہمیں۔
تاہم عبد القادر صاحب ان سے الجھے نہیں۔ اس سخت تبصرہ کے باوجود وہ ان کو الرسالہ دیتے اس طرح تقریباً چھ مہینے گزر گئے۔ اب جب کہ عبد القادر صاحب دہلی آ رہے تھے۔ غلام نبی صاحب نے ان سے کہا کہ تم دہلی جا رہے ہو، وہاں الرسالہ کے دفتر میں میرا نام خریداری کے رجسٹر میں درج کرا دو۔ تاکہ الرسالہ برابر مجھ کو ملتا رہے۔ میں اس کا ایک شمارہ بھی کھونا نہیں چاہتا۔ چند مہینے الرسالہ پڑھنے کے بعد ان کا ذہن بالکل صاف ہو گیا۔ ان کے تمام شبہات ختم ہو گئے۔ حتیٰ کہ الرسالہ ان کا پسندیدہ پرچہ بن گیا۔ انھوں نے اپنی کشمیری زبان میں الرسالہ کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا : یہ چھو واحد طریق لیس مسلمان سہی رہنمائی کرن چھو۔ لگت واقعی چھٹی یم رسالہ پڑھنس لایکھ (یہی واحد طریقہ ہے جس سے مسلمانوں کو صحیح رہنمائی کی جارہی ہے۔ واقعی یہ رسالہ پڑھنے کے لائق ہے)
ڈاکٹر غلام میر کا ابتدائی تاثر الرسالہ کے کچھ مخالفین کے پروپیگنڈوں کی وجہ سے تھا۔ انھوں نے خود باقاعدہ طور پر الرسالہ کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سب محض جھوٹے پروپیگنڈے ہیں۔ الرسالہ تمام تر قرآن وسنت کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔ اس میں عین اسلام کی بات پیش کی جا رہی ہے —— اس طرح کے ہزاروں آدمی ہیں جو ابتدا ئے غلط پروپیگنڈے سے متاثر تھے۔ براہ راست واقفیت کے بعد وہ الرسالہ کے گرویدہ ہو گئے۔
سورج کو تاریک بتانے والے لوگ ممکن ہے کہ کچھ اندھوں کو غلط نہی میں ڈال دیں۔ وہ آنکھ والوں کو بدظن کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔