نظریاتی خلا
Al-Risala, July 1992, pp. 26–28
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۹۱ کے خاتمے کے ساتھ سوویت یونین کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اس سیاسی خاتمہ کے ساتھ اشتراکیت (کمیونزم) کا فکری سحر بھی ختم ہو گیا۔ فکری سحر کے خاتمہ کی مختلف علامتوں میں سے ایک عبرت انگیز علامت یہ ہے کہ ولادیمیر لینن کے دیو قامت مجسمے جو اس نے پہلے اشتراکی شہریوں کو اپنے چھوٹے ہونے کا احساس دلاتے تھے، اب وہ انہیں اشتراکی شہریوں کے ہاتھوں ذلت کے ساتھ گرائے جا رہے ہیں۔ ۱۹۹۱ کے خاتمہ کے مہینوں میں ہر جگہ اسی کا چرچا تھا۔ اس زمانہ میں ہر اخبار اور ہر میگزین میں ایسے مضامین آ رہے تھے جن کا عنوان ہوتا تھا ________ سوویت یونین کا انہدام (The collapse of Soviet Union)
اس کے بعد ہر طرف یہ کہا جانے لگا کہ اب دو قطبی دنیا (bi-polar world) کا دور ختم ہو گیا اور اب ایک قطبی دنیا (uni-polar world) کا دور شروع ہو چکا ہے۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ۹ جنوری ۱۹۹۲ کے اخبارات یہ خبر لائے کہ صدر امریکہ مسٹر جارج بش ٹوکیو میں ایک اسٹیٹ ڈنر پر تھے کہ وہ اپنی کرسی سے گر پڑے۔ ٹائمز آف انڈیا (۹ جنوری ۱۹۹۲) کی سرخی کے الفاظ یہ تھے : Bush collapses at Tokyo reception. روس میں کیمونزم کا خاتمہ: لینن کا مجسمہ زمین پر گرا ہوا ہے
راقم الحروف کا خیال ہے کہ پہلا انہدام اگر حقیقی تھا تو دوسرا انہدام علامتی ہے۔ عملاً منہدم ہو چکا۔ امریکہ بھی امکانی طور پر اپنے انہدام کے قریب ہے۔ جارج بش کا گرہنا امریکہ کے گرنے کی علامتی پیشین گوئی ہے۔
ایک مبصر نے بجاطور پر لکھا ہے کہ تقریباً ۳۰ سال پہلے سابق روسی وزیرِ اعظم خروشیف نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ کمیونسٹ سرمایہ داری نظام کو دفن کر دیں گے : Communists would bury capitalism.. مگر کمیونسٹ نظام خود اپنے داخلی تضادات ,(inner contradictions) کا شکار ہو کر منہدم ہو گیا۔ اب دوسرے سپر پاور امریکہ کے لیے متحدہ یورپ اور جاپان زبردست اقتصادی خطرہ بن کر ابھرے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو انجام سرخ سپر پاور کا ہو چکا ہے وہی انجام سفید سپر پاور کا آئندہ ہونے
انسان بنیادی طور پر ایک تو جیہہ پسند مخلوق ہے۔ وہ لازمی طور پر ایک آئیڈیالوجی (نظریہ) چاہتا ہے جس کے ذریعہ وہ کائنات کی توجیہہ کرے۔ جس کے ذریعہ وہ متعین کر سکے کہ وہ کیا ہے اور تاریخ میں اس کا مقام کیا ہے۔ اس قسم کی ایک آئیڈیالوجی کے بغیر آدمی زندہ نہیں رہ سکتا۔ امریکہ کے پاس انسان کو دینے کے لیے اس قسم کی کوئی آئیڈیالوجی نہیں۔ اس کا واحد ایڈوانٹج یہ ہے کہ اس کے پاس ایک قابلِ عمل معاشی ڈھانچہ (workable system) ہے۔ کا معاشی ڈھانچہ اس کے مقابلہ میں ناقابلِ عمل (unworkable) تھا۔ اور یہی اصلاً اس کے انہدام کا سبب بنا۔
تاہم سوویت یونین کے پاس ایک آئیڈیالوجی تھی ۔ یہ اگر چہ ایک جھوٹی آئیڈیالوجی (false ideology) تھی۔ مگر اس کے ذریعہ انسان کو ایک فرضی تسکین حاصل تھی کہ وہ اس پوزیشن میں ہے کہ زندگی اور کائنات کی توجیہ کر سکے۔ سوویت یونین کے انہدام سے یہ بھرم ختم ہو گیا۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۲ جنوری ۱۹۹۲) میں ایک تجزیہ چھپا ہے ، اس کا عنوان ہے ــ سوویت یونین کے انہدام کے بعد :
The aftermath of the Soviet colapse 27 اللسانی . جولائی ۱۹۹۲
تجزیہ نگار نے بجاطور پر لکھا ہے کہ سوویت یونین کا انہدام سادہ طور پر صرف ایک ایمپائر کا یہ در حقیقت جدید انسان کے سوچنے کے ڈھانچے (structure of thinking) میں بنیادی تبدیلی پیدا کرنے والا ہے۔ یہ تاریخ کے عمل (course of history) کے بارہ میں ہمارے نقطہ نظر (outlook) کو بدل دینے والا واقعہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اشتراکی ایمپائر کے انہدام کے بعد عالمی سطح پر ایک نظریاتی خلا (ideological vacuum) پیدا ہو گیا ہے۔ اب دنیا کے سامنے عملاً کوئی نظریہ سرے سے موجود ہی نہیں۔
سوویت یونین کا عملی انہدام اور امریکہ کا امکانی انہدام اب اس درجہ کو پہنچ رہا ہے جس کو ایک مغربی عالم نے جدید تہذیب کا انہدام (collapse of civilization) سے تعبیر کیا ہے۔ دنیا میں عالم گیر نظریاتی خلا کا دور آ چکا ہے یا کم از کم، وہ بہت جلد آنے والا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر، ٹائمس آف انڈیا کے مذکورہ تجزیہ نگار نے اپنے مضمون ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ اشتراکیت کو گرہن لگنے کے بعد لازمی ہے کہ کوئی متبادل نظر یہ اٹھے جوان مسائل کا حل بتائے جو آج انسانیت کو گھیرے ہوئے ہیں :
یہاں خود حالات میں وہ اشارہ موجود ہے جو بتاتا ہے کہ وہ متبادل نظریہ کون سا ہو سکتا ہے جو انسانیت کو اس کی مطلوب چیز دے سکے۔ سوویت یونین میں بسنے والے انسان کو بیک وقت دو تلخ تجربے ہوئے۔ ایک، کمیونسٹ ڈکٹیٹر شپ کی طرف سے پیش آنے والا تشدد، دوسرا، مذہب کو اختیار کرنے کے جرم میں مسلسل تعذیب۔ سوویت انسان نے تشدد کی بنا پر کمیونزم کو چھوڑ دیا۔ اسی تشدد کے باوجود وہ مذہب کو چھوڑنے پر راضی نہ ہوا۔
مذہب انسان کی فطری طلب ہے، اور جو چیز فطری طلب ہو اس کو چھوڑنا انسان کے لیے