Al-Risala · July 1992

The end of one journey is the start of another.

Al-Risala, July 1992, pp. 33–49

By Maulana Wahiduddin Khan

میگزین میں یہ مقولہ الیطالیہ کے کر شیل ہوائی جہازوں پر چسپاں کیا گیا تھا جو ہر سفر کے خاتمہ پر دوسرے سفر کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر یہ مقولہ زیادہ بہتر طور پر انسانی زندگی کے اوپر چسپاں ہوتا ہے۔ جب آدمی کی موت آتی ہے اور اس کی ایک زندگی بظاہر ختم ہو جاتی ہے تو یہ خاتمہ سادہ معنوں میں صرف خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ ایک وسیع تر دور حیات کا آغاز ہوتا ہے۔

یہ جہاز بوئنگ ۷۴۷ تھا۔ اس کے اندر ۱۹۲ سیٹیں تھیں۔ جہاز کا سفر موجودہ زمانہ میں ایک عام ذریعہ سفر بن چکا ہے۔ مگر میں جب بھی ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہوں تو میرے اندر سخت استعجاب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کیسی عجیب رحمت ہے کہ اس نے موجودہ دنیا میں ایسے امکانات رکھے جو ہوائی جہاز کی صورت میں ڈھل جائیں اور انسان کے سفر کو حیرت ناک حد تک تیز رفتار بنا دیں۔

خدا نے ایسا نہیں کیا کہ وہ بنے بنائے ہوائی جہاز انسان کو دیدے۔ بلکہ اس نے زمین میں ہوائی جہاز کے امکانات رکھے اور یہ انسان کے اوپر چھوڑ دیا کہ سیکڑوں سال کی تحقیق اور جستجو کے بعد وہ ایک واقعی جہاز بنا سکے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو انسان کے لئے اکتشافی طریقہ

(discovery method) پسند ہے۔ یہی طریقہ اس نے دین میں بھی رکھا ہے۔ دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے اتنا واضح ہے کہ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے (اليلها كنهارها) مگر اللہ نے دین پر التباس (الانعام 9) کا پردہ ڈال دیا ہے۔ یہ ایک تدبیر ہے جس کا مقصد انسان کے ذہن کو متحرک کرنا ہے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ آدمی اپنی فکری قوتوں کو عمل میں لا کر اس پردہ کو پھاڑ سال دین کو ذاتی معرفت کی سطح پر دریافت کرے۔

پچھلی رات میں دہلی میں سو نہیں سکا تھا۔ جہاز میں داخل ہوا تو نیند اور تکان کا سخت غلبہ تھا۔ چنانچہ جلد ہی نیند آگئی۔ میں لیٹ گیا اور گہری نیند سوتا رہا۔ دہلی سے روم کی پرواز مسلسل ۹ گھنٹے کی ہے، مگر اس کا بڑا حصہ سونے میں گزر گیا۔ اور ایک تھکا دینے والا سفر بآسانی طے ہو گیا۔ جسم اسی طرح خود کار نظام کے تحت کھوئے ہوئے کی تلافی کرتا ہے۔ فطرت کا ایک مستقل اصول ہے۔ مثلاً کسی آدمی کے جسم سے اس کا ایک گردہ نکال دیا جائے تو دوسرا گردہ اپنے آپ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ تنہا پورے جسم کی ضرورت کو پوری کر سکے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کا پسندیدہ طریقہ کیا ہے۔ وہ تلافی مافات کا طریقہ ہے۔ کے مطابق اگر کوئی قوم دوسری قوموں سے پچھڑ جائے تو اس کے لئے فطری طریقہ یہ ہوگا کہ وہ سب سے پہلے اپنی کمی کی تلافی کرے۔ کمی کی تلافی کے بغیر اقدام کرنا فطرت کے مقررہ طریقہ کے خلاف ہے۔ لوگ فطرت کے طریقہ کے خلاف عمل کریں ان کا ناکام ہو جانا یقینی ہے۔

9 گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز، اکتوبر کی صبح کو روم میں اتر گیا۔ لینڈنگ نہایت ہموار تھی۔ جس کانفرنس میں مجھے شرکت کرنا ہے وہ اگر چہ مالٹا میں ہے مگر اس کے نمائندہ ڈاکٹر پالو مبیDr (Dr Leonardo Polombi) دو آدمیوں کے ساتھ روم ایرپورٹ پر ہماری رہنمائی کے لئے یہ کانفرنس ویٹیکن کے ماتحت ایک اطالوی ادارہ (CXomunity of S. Egidio) کی طرف سے کی جارہی ہے۔

ہمارے اخبارات و رسائل میں ویٹیکن اور دوسرے مسیحی اداروں کے بارہ میں صرف یہ چھپتا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ مگر طریق کار کے اعتبار سے ان کے یہاں جو اعلیٰ نمونہ ہے

اس سے مسلمانوں کو باخبر نہیں کیا جاتا۔ یہ لوگ جس غیر معمولی نظم اور باقاعدگی اور منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں اس سے اب تک کوئی سبق نہیں لیا گیا۔ حالاں کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دشمن کے اندر بھی اگر کوئی ہنر ہے تو اس کو اس سے سیکھنے کی کوشش کرو۔

۶ اکتوبر ۱۹۹۱ کو فجر کی نماز میں نے نظام الدین (دہلی) کی قریش مسجد میں پڑھی تھی۔ ۷ اکتوبر کو فجر کی نماز روم ایر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں پڑھی۔ مسجد کے مقدس ماحول میں نماز پڑھنے کے بے شمار مگر ایک غیر مسجد میں یا ایک نئے مقام پر نماز پڑھنا ایک ایسا انوکھا تجربہ ہے، جس کو لفظوں میں بیان کرنا بے حد مشکل ہے۔ یہ وہ خصوصی لمحہ ہے جب کہ بندہ اس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ میں ایک ایسے مقام پر جھک کہ سجدۂ اعتراف کر رہا ہوں جہاں مجھ سے پہلے شاید کسی انسان نے سجدۂ اعتراف پیش یہ ایک ایسا احساس عبدیت ہے جس کا تجربہ عام حالات میں نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری پہلی منزل روم تھی۔ روم میں اگلا جہاز کافی دیر کے بعد تھا۔ اس طرح ہم کو یہاں چھ گھنٹے سے زیادہ مل رہے تھے۔ ایر پورٹ پر کانفرنس کے جو منتظمین ہم سے ملنے کے لئے آئے تھے، ان سے ہم نے کہا کہ روم میں ہم خاص طور پر دو چیزیں دیکھنا چاہتے ہیں، ایک ویٹیکن اور دوسرے یہاں کا اسلامی مرکز اور وہ بخوشی اس پر راضی ہو گئے۔ ہمارے پاس اٹلی کا ویزا انہیں تھا۔ عام حالات میں اب ویزا حاصل کرنا ہمارے لئے تقريباً ناممکن تھا۔ مگر انھوں نے فوراً کارروائی کرکے ہمارا ویزا حاصل کیا۔ اس کے بعد وہ ہم کو لیکر شہر کی طرف نکلے۔ ویٹیکن سے تعلق رکھنے والوں کو یہاں خصوصی اختیارات حاصل

روم کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے وہ ہم کو ویٹیکن میں لے گئے۔ اس طرح ہم نے روم کو بھی کم از کم ایک حد تک دیکھ لیا۔ ویٹیکن کو اندر اور باہر سے پوری طرح دیکھا یہ ایک مربع کلو میٹر سے بھی کم رقبہ میں واقع ہے۔ پوپ کی رہائش گاہ بھی یہیں ہے۔ سینٹ پیٹر (پیٹرس) کا مقبرہ اس کا سب سے زیادہ مقدس حصہ ہے۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ سینٹ پیٹر کا بڑا مجسمہ ہے۔ اس کے پاؤں کو احترام کے ساتھ چھوتے ہیں اور اس کو چوم رہے ہیں۔

ویٹیکن ساری دنیا کے مسیحیوں کا مذہبی مرکز ہے۔ وہ ہر طرف مجسموں سے بھرا ہوا ہے۔ اور مریم اور فرشتوں کے مجسموں سے لے کر بعد کے مسیحی اکابر اور مختلف زمانوں کے پوپ کے مجسمے 35 المبالغ جولائی ۱۹۹۲

جگہ جگہ لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سنگِ مرمر کا ایک مجسمہ مائیکل اینجلو کا بنایا ہوا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں مریم کو بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے ۔ اور ان کے دونوں پیروں پر ایک دبلا اور مردہ جسم بیچارگی کی حالت میں پڑا ہوا ہے۔ یہ ان کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح کا مردہ جسم ہے جس کو صلیب دئے جانے کے بعد حضرت مریم نے اٹھا لیا تھا۔ مزعومہ خدا کی یہ بے کس تصویر بھی کیسی عجیب ہے۔ ویٹیکن کو دیکھ کر یہ تاثر ذہن میں نہیں آتا کہ مذہب کسی خدا پر مبنی نظریہ کا نام ہے۔ برعکس اس کو دیکھنے سے یہ تاثر ذہن میں آتا ہے کہ مذہب ایک ایسا نظریہ یا عقیدہ ہے جو انسانی شخصیتوں کے تقدس پر قائم ہے۔

ویٹیکن (Vatican) روم کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ یہاں سینٹ پیٹر (پیٹرس)

کی قبر ہے۔ اور پوپ کی قیام گاہ ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کیتھولک عیسائیوں کی کئی مقدس اور متبرک چیزیں یہاں کے میوزیم میں رکھی ہوئی ہیں۔

ویٹیکن کا رقبہ صرف ۱۰۸ مربع ایکڑ ہے۔ اس کے باشندوں کی مجموعی تعداد تقریباً ایک ہزار مگر اس چھوٹی سی دنیا میں ایک مکمل ریاست قائم ہے۔ یہ مذہبی ریاست قانونی طور پر ۱۹۲۹ میں مسولینی کے زمانہ میں قائم ہوئی ۔ جس معاہدہ کے تحت اس کا قیام عمل میں آیا اس کو معاہدہ لیتران (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔ اسی معاہدہ کے تحت پوپ یا و - میٹیکن حکومت کو اندرونی طور پر مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہ گویا ریاست کے اندر ایک ریاست ہے تاہم وہ اس کی پابند ہے کہ وہ اٹلی کی حکومت کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔

۱۹۲۹ کے معاہدہ کو دیکھئے تو بظاہر محسوس ہوگا کہ ویٹیکن اپنے آپ کو بہت چھوٹی حیثیت پر راضی کر رہا ہے۔ ویٹیکن کا رقبہ ایک مربع کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ جب کہ اٹلی کا رقبہ 301,262 مربع کلومیٹر گویا جغرافی معنوں میں ویٹیکن کو اٹلی کا ایک فیصد سے بھی کم رقبہ حاصل ہے۔ مگر حقائق کبھی الفاظ کے پابند نہیں ہوتے۔ چنانچہ ویٹیکن نے ایک اور پہلو سے اپنی کمی کی تلافی کرلی۔ اٹلی کی ۹۹ فیصد آبادی عیسائی ہے۔ اس اعتبار سے اٹلی کے تمام باشندوں نیز تمام دنیا کے عیسائیوں کے دلوں تک اس کا رقبہ پھیلا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ اپنے انتہائی چھوٹے رقبے کے باوجود ویٹیکن کو عملاً اٹلی سے بھی زیادہ بڑی حیثیت حاصل ہے۔ کیوں کہ وہ (ویٹیکن) مسیحی مذہب کی سب سے بڑی

تاریخ، کیتھولک چرچ، کا صدر مقام ہے:

ویٹیکن کی سرکاری زبان لاطینی ہے۔ ویٹیکن کے تمام آفیشل ڈاکومنٹس لاطینی زبان ہی میں تیار کئے جاتے ہیں۔ مگر لاطینی نہ ہاں عربی زبان کی مانند نہیں۔ ایک مردہ زبان ہے۔ صرف کچھ اختصاصی علماء ہی اس میں مہارت رکھتے ہیں۔ چنانچہ لسانی امور میں اکثر غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ۱۹۸۹ میں پوپ کے اسکینڈینیویا کے سفر پر ویٹیکن حکومت نے ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ میں سویڈن کے لئے جو قدیم لاطینی لفظ (Sueta) لکھا گیا تھا اس کا تلفظ غلط تھا: اس قسم کے ناخوشگوار واقعات سے متاثر ہو کر وہ ویٹیکن نے لاطینی زبان کی ایک ڈکشنری خصوصی اہتمام کے ساتھ تیار کرائی ہے۔ اس میں (13,500) نئے الفاظ شامل ہیں۔ اس کی پہلی جلد حال میں چھپی ہے اور دوسری جلد عنقریب چھپنے والی ہے۔ یہ کام ایک پندرہ سالہ ادارہ لیٹن فاؤنڈیشن (Latin Foundation) کے تحت کیا جارہا ہے۔

اسلام کے سوا دوسرے تمام ادیان کی مذہبی زبان اب کلاسیکل بن چکی ہے۔ یہ صرف اسلام ہے جس کی مذہبی زبان آج بھی مکمل طور پر ایک زندہ زبان ہے۔ یعنی عربی زبان۔ ویٹیکن کے دیکھنے کے بعد ہم روم کی مسجد اور اسلامی مرکز دیکھنے کے لئے گئے۔ یہ مقام ایئر پورٹ سے بذریعہ کار پون گھنٹہ کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ روم کا ایک پر فضا مقام ہے۔ ویٹیکن میں اندر اور باہر ہر طرف صرف عمارتوں کا ایک پتھر یلا جنگل نظر آتا ہے۔ مگر اسلامی مرکز کے چاروں طرف کھلا ہوا علاقہ یہاں دور دور تک درخت اور سبزہ دکھائی دیتا ہے۔

تاہم یہ مرکز ابھی تک زیر تعمیر ہے۔ وہاں نماز قائم نہیں ہوسکی ہے ۔ ۱۱۱، مہینی اس کی تعمیر

اس نے مسجد کے اندر داخلہ ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ مرکز کے ذمہ داروں نے ہم کو تحریریں اس کے بعد ہمارا تین آدمیوں کا قافلہ اس کے اندر داخل ہو سکا۔

یہ بہت وسیع اور بالکل جدید طرز کی مسجد ہے۔ اس سے متصل عمارتوں میں اسلامی مرکز کے دفاتر قائم ہوں گے۔ رقبہ بھی کافی بڑا ہے۔ حکومت اٹلی نے جب یہاں مسجد اور اسلامی مرکز قائم کرنے کی اجازت دی اس وقت یہاں کوئی سڑک نہ تھی جو اس کو بقیہ شہر سے جوڑ سکے۔ یہاں کے قانون کے مطابق، اس کے بعد نہایت عمدہ سڑک بنائی گئی جو مسجد سے متصل گزرتی ہے۔ اس سڑک کا نام مسجد روڈ (Viale Della Moschea) ہے۔

۱۹۲۹ء میں مسولینی نے ویٹیکن کے لئے لیتران معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔ اس کے بعد ۱۹۳۰۰ میں اٹلی میں مقیم افریقی مسلمانوں کا ایک وفد مسولینی سے ملا اور اس سے کہا کہ ہم کو روم میں ایک مسجد بنانے کی اجازت دی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ مسولینی نے اس کا جواب یہ دیا کہ روم عیسائیوں کا مقدس شہر ہے جس طرح کہ مسلمانوں کا مقدس شہر ہے۔ روم میں مسجد بنانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ مکہ میں بھی ایک کیتھولک چرچ بن کر کھڑا ہو جائے۔

تاہم روم کے مسلمانوں نے کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے عرب پٹرول کی طاقت ظاہر کر دی۔ وہ دور آگیا جب کہ امریکی میگزین نیوزویک ( ۱۸ فروری ۱۹۷۴ء) نے لکھا کہ قدیم زمانہ میں کہا جاتا تھا کہ تمام سڑکیں روم کو جاتی ہیں۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ آج تمام سڑکیں ریاض کو جارہی ہیں :

(All roads lead to Riyadh)

اٹلی کو عرب پٹرول کی ضرورت پیش آگئی۔ اس انادی منطق نے اٹلی کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ دو طرفہ گفت و شنید کے دوران ۱۹۷۳ء میں سعودی حکمران شاہ فیصل نے اٹلی کی حکومت سے یہ یقین دہانی حاصل کر لی کہ وہ روم میں مسجد بنانے کی اجازت دے دے گی۔ اسی کے ساتھ پوپ پال ششم نے بھی یقین دلایا کہ وہ مسجد کے پروجیکٹ میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اس کے بعد سائٹ کی تلاش ہوئی۔ کار ایک مقام پر ۳۰ ہزار مربع میٹر کا رقبہ مسجد اور اسلامک سنٹر کے لئے مختص کر دیا گیا اور ۱۹۸۳ء میں وہاں کام شروع ہوگیا۔ اندازہ ہے کہ اس کی تکمیل پر پچاس ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ اٹلی میں تقریباً

چار لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ مسجد کے اندر دو ہزار آدمیوں کے لئے نماز پڑھنے کی گنجائش ہوگی۔ ایک ہزار عیسائی چرچ اور یہودیوں کے آٹھ سینا گاگ ہیں۔ اب ایک باقاعدہ مسجد بھی وہاں تعمیر ہو گئی ہے۔ دوسری مسجد میلان میں ہے۔

۱۹۳۰ء میں جو چیز بظاہر نا ممکن تھی وہ آج واقعہ بن کرشاندار طور پر روم کے اندر کھڑی ہوئی ہے۔ خدا کی دنیا میں ہر نا ممکن کو ممکن بنانے کے مواقع ہیں۔ بشرطیکہ سنت الہی کے مطابق اس کا انتظار کیا جائے۔ روم میں میرے رہنما ڈاکٹر لیونارڈو تھے۔ وہ پختہ عیسائی ہیں اور ویٹیکن سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے انتہائی ذوق و شوق کے ساتھ مجھ کو روم کی سیاحت کرائی۔ انھوں نے جس دلچسپی کے ساتھ مجھ کو ویٹیکن دکھایا ٹھیک اسی دلچسپی کے ساتھ انھوں نے روم کی مسجد اور اسلامک سنٹر کو بھی دکھایا۔ میرے تجربہ کے مطابق ، مسلمانوں کے اندر اس قسم کا کردار موجود نہیں۔ اور اس کا واحد سبب دعوتی مزاج کا فقدان ہے۔ داعی اور مبلغ عین اپنے مزاج کے تحت دوسروں میں دلچسپی لیتا وہ دوسروں کی پوری رعایت کرتے ہوئے ان سے معاملہ کرتا ہے۔ غیر داعی کا مزاج اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ داعی اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جانتا ہے اور غیر داعی صرف اپنے آپ کو۔ روم میں اگر چہ میری ملاقات کسی اردو داں سے نہیں ہوئی۔ تاہم مجھے معلوم ہوا کہ اٹلی میں اردو داں عیسائی موجود ہیں۔ انھوں نے خود اٹلی میں اردو کی تعلیم حاصل کی ہے۔

مسیحی چرچ مکمل طور پر ایک تبلیغ اور مینیڈ ادارہ ہے۔ اس کے یہاں ہر قسم کی تبلیغی سرگرمیاں جدید ترین معیار پر پائی جاتی ہیں۔ اسی میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے آدمیوں کو تمام دنیا کی زبانیں پڑھاتے ہیں۔ مسیحی چرچ کے پاس کثیر تعداد میں ایسے قابل افراد موجود ہیں جو ہر زبان میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مالٹا کی کانفرنس میں کئی ایسے پادری تھے جو روانی کے ساتھ عربی زبان بولتے تھے. حتی کہ اپنے حلیہ، اپنے لباس اور اپنی عادات میں بھی وہ عرب مسلمان نظر آتے تھے ۔ السلام علیکم، الحمد لله، ماشاء اللہ وغیرہ الفاظ اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ایک مذہبی مسلمان بولتا ہے۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں نیپلز (اٹلی) میں مسیحی حضرات نے ایک ادارہ قائم کیا۔ ۱۷۳۲ء کو پوپ کلیمنٹ دوازدہم نے اس ادارہ کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے جنوبی اٹلی میں اس کے لئے ایک جائداد وقف کر دی۔ اس کے بعد اس میں مزید اوقات

کا اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ یہ ادارہ مستحکم اور خود کفیل ہو گیا۔ اس کا موجودہ نام اورینٹل یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ، یہ یورپ میں علوم مشرقی کی تعلیم کا قدیم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تمام مشرقی زبانوں کی تعلیم کا انتظام ہے۔

اردو زبان کی تعلیم کا آغاز اسی ادارہ میں انیسویں صدی میں ہوا۔ یہاں باقاعدہ طور پر اردو کا ایک شعبہ قائم کیا گیا۔ اس وقت سے وہ باقاعدہ طور پر کام کر رہا ہے۔ اس کے طلبہ زیادہ تر وہ مسیحی ہوتے ہیں جو مسیحیت کی تبلیغ کو بطور کیریئر اختیار کرتے ہیں اور جن کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اردو خواں دنیا میں مسیحیت کا پیغام پہنچائیں گے۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران پروفیسر اجیت سنگھ اس ادارہ میں اردو کے استاد تھے۔ میں ڈاکٹر اقتدار حسن یہاں اردو کے استاد مقرر ہوئے۔ ۱۹۸۰ میں ڈاکٹر رحیم رضانے ان کی جگہ

اٹلی میں (دوسری عالمی زبانوں کے ساتھ ) اردو کی تعلیم کا یہ انتظام حکومت کے تعلیمی نظام کے تحت نہیں ہے بلکہ چرچ کے تعلیمی نظام کے تحت ہے۔ اس کا مقصد مشنری عیسائیوں کو اردو داں بنانا ہے۔ تا کہ وہ اردو داں مسلمانوں کے درمیان عیسائیت کا پیغام پہنچا سکیں ۔ مسلمان فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسلام عالمی مذہب ہے اور حضرت مسیح صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے بھیجے گئے تھے۔ عملاً آج معاملہ بالکل برعکس ہے۔ مسیحیت عالمی تبلیغ کے وسیع ترین منصوبہ پر عمل پیرا ہے، جب کہ مسلمانوں کے یہاں شعور کے درجہ میں بھی عالمی تبلیغ کا کوئی حقیقی خاکہ موجود نہیں۔ اٹلی کی ایک خاتون ہیں۔ وہ ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اور ایک عرب نوجوان سے نکاح کر لیا۔ ان کے عرب شوہر سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ اطالوی زبان کے علاوہ انگریزی زبان بھی بخوبی جانتی ہیں اور اب انھوں نے عربی بھی سیکھ لی عرب نوجوان نے بتایا کہ انھوں نے اطالوی خاتون کو انگریزی الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھنے کے لئے دئے ۔ ان کو پڑھ کر وہ کافی متاثر ہوئیں ۔ اس کے بعد انھیں اسلامی دعوت کے بارے میں اپنی مسئولیت کا احساس ہوا۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کا اسلوب عصری اسلوب ہے۔ ذہن کو اپیل کرتا ہے اور دل کی گہرائی تک اتر جاتا ہے۔ میں ان مضامین سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔

ملاقاتوں کے بعد اکثر ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی مرکز کا پیغام ایسے ایسے مقامات پر پہنچ رہا ہے، جن کی بابت ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ مثلاً سفر کے دوران ڈنمارک کے ایک صاحب ملے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے آپ کا انگریزی الرسالہ اور انگریزی کتابیں پڑھی ہیں۔ وہ ہمارے سنٹر کی لائبریری میں موجود ہیں۔ اور لوگ ان کو شوق سے پڑھتے ہیں۔ ان کا نام اور پتہ یہ ہے:

Sheikh Mohammed Idris, Islamic Cultural Centre, Morsebakken 2, Copenhagen 2400 NV (Tel. 01609017)

روم کے تاریخی مقامات کو دیکھنے کے بعد دوبارہ ہم روم ائیرپورٹ پر واپس آگئے۔ ائیر پورٹ لاؤنج میں سنڈے ٹیلی گراف (۶ اکتوبر ۱۹۹۱) دیکھا۔ اس کے صفحہ ۲۶ پر ایک کالم ویٹیکنالوجی (Vaticanology) کا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اٹلی اور انگلستان کے سفیر سے ملاقات کرتے ہوئے پوپ جان پال دوم (Pope John Paul II) نے چرچ کی طرف سے تشدد اور تخویف کے تمام اعمال کی ان الفاظ میں مذمت کی:

The Church continues to condemn all acts of violence and intimidation, from whatever source they originate. قدیم زمانہ میں ممکن تھا کہ تشدد کو صرف ظالم اور مفسد کے خلاف استعمال کیا جائے۔ زمانہ میں ٹیکنکل ترقیوں نے اس کو نا ممکن بنا دیا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے دور میں تشدد ایک ایسا ہلک عمل بن چکا ہے جو فاتح اور مفتوح دونوں کو برباد کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ خود زمین کو نا قابل رہائش بنا دینے یہی وجہ ہے کہ روس اور امریکہ اپنے ہتھیاروں کو فناکرنے کے معاہدے کر رہے ہیں۔ حالت میں جو مسلمان تشدد اور مسلح انقلاب کی بات کرتے ہیں وہ ایک قسم کی خلاف زمانہ حرکت (anachronism) میں مبتلا ہیں۔ وہ اسلام کو بھی وہیں پہنچا دینا چاہتے ہیں جہاں وہ خود اپنی فکری

پسماندگی کی بنا پر کھڑے ہوئے ہیں۔

روم سے مالٹا کے لئے الیتالیا کی فلائٹ ۴۹۰ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کے اندر الیتالیا کامیگزین (Arrivederci) دیکھا۔ اس کے ایک صفحہ پر اٹلی کے ایک خوبصورت مکان کی رنگین تصویر تھی جس کے ساتھ خوبصورت تر گارڈن بھی شامل تھا۔ اس پر کشش تصویر کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا : دنیا جنت کی ناقص تصویر ہے اور جنت اس کی کامل تصویر ۔ دنیا ان کمپلیٹ ہے اور جنت کمپلیٹ۔ روم سے روانگی کا وقت ایک بج کر ۴۵ منٹ تھا۔ مگر روانگی میں آدھ گھنٹہ کی تاخیر ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آخر وقت میں معلوم ہوا کہ جہاز کے نظام میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی ہے۔ دو آدمی دیر تک کام کرتے رہے۔ جب نظام کی اصلاح ہو گئی، اس کے بعد جہاز روانہ ہوا۔ میں نے سوچا کہ جہاز کے فنی نظام میں خرابی کا علم پرواز سے پہلے ہونا اور اس کا علم پرواز کے دوران ہونا دونوں میں لفظی طور پر بہت کم فرق ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پرواز سے پہلے اس کا علم ہو نا اگر زندگی ہے تو پرواز کے دوران اس کا علم ہونا موت۔ یہی معاملہ قوموں کا ہے۔ جس قوم کے لیڈر اقدام سے پہلے قوم کی کمیوں کو جان لیں وہ قوم کو زندگی کی نعمت عطا کرتے ہیں۔ اور جس قوم کے لیڈر اقدام کے بعد قوم کی کمیوں اور کمزوریوں کو جانیں وہ قوم کو صرف ہلاکت کے گڑھے میں گرانے کا سبب بنتے ہیں۔

روم اور مالٹا کے درمیان سسلی واقع ہے۔ مالٹا جاتے ہوئے ہم جزائر سسلی کے اوپر سے جہاز کی کھڑکی سے وہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ چنانچہ میں اس کو دیر تک دیکھتا رہا۔ نے سوچا کہ ہمارے اسلاف جزائر سسلی میں اترے اور اس کے تہذیب و تمدن کی ترقیاں عطا کیں ۔ میرے لئے صرف یہ مقدر تھا کہ میں اس کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے گزروں۔ کیسا عجیب فرق ہے ماضی اور حال میں۔

سسلی میڈیٹرینین کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس وقت وہ اٹلی کا ایک حصہ ہے۔

قدیم زمانہ میں سسلی مختلف قوموں کے ماتحت رہا ہے۔ لندن کی چھپی ہوئی ایک قدیم انسائیکلو پیڈیا (The Book of Knowledge) میں یہ الفاظ درج ہیں کہ نویں صدی میں مسلمانوں کی آمد کے بعد سسلی عرب کلچر اور عرب علم کا مرکز بن گیا تھا۔ نارمنوں نے ان کو گیارھویں صدی میں یہاں سے

نکال دیا :

سسلی (صقلیہ) نویں صدی میں مسلمانوں کے قبضہ میں آیا۔ اس کے بعد وہ میڈیٹرینین میں مسلمانوں کی توسیعی مہموں کا مرکز بن گیا۔ یہاں تک کہ نارمن نے ۱۰۹۱ میں ججزیرہ کے اندر اپنا اقتدار قائم کر لیا :

تاریخ کے ان واقعات میں بے پناہ سبق ہے۔ یہ واقعات ہمیں اپنی کمزوریوں کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخی کتابیں ان واقعات کو صحیح انداز میں پیش نہیں کرتیں۔ اس لئے ان کو پڑھ کر بھی مسلمان سے صحیح سبق نہیں لے پاتے۔

مثال کے طور پر ابن اثیر کی الکامل فی التاريخ کا ایک باب ہے : جزیرہ صقلیہ پر فرنگیوں کے اقتدار کا ذکر (ذکر ملك الفرنج جزيرة صقلیة) یہ باب ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے : في هذه السنة استولى الفرنج اس سن (۲۸۴ھ) میں فرنگی پورے جزیرہ پر لعنهم الله على جميع جزيرة صقلیة قابض ہوگئے، اللہ ان پر لعنت کرے اور اللہ اعادها الله الى الاسلام والمسلمين اس کو دوبارہ اسلام اور مسلمانوں کی طرف

(۱۹۳ / ۱۰)

سسلی پر "فرنگیوں" کا دوبارہ قبضہ، جیسا کہ خود ابن اثیر نے تفصیل سے لکھا ہے، خود مسلمانوں کی باہمی عداوتوں اور آپس کے قتل وخون کی وجہ سے ہوا۔ مگر جب آغاز بحث میں مذکورہ جملہ لکھ دیا جائے تو اس کے بعد سرے سے نصیحت کا ذہن ختم ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ تاریخ کے مطالعہ کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس سے حال اور مستقبل کے لئے نصیحت حاصل کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کو

مؤرخانہ انداز میں لکھنا چاہیے نہ کہ مقتدرانہ انداز میں۔

میڈیٹرینین میں پیش قدمی کے زمانہ میں سسلی مسلمانوں کے لئے رسدگاہ کا کام کرتا تھا۔ قدیم زمانہ میں مسلمانوں لے اس کو کافی ترقی بھی دی تھی۔ سسلی پر عرب تہذیب کی اتنی گہری چھاپ تھی کہ عربوں کے یہاں سے چلے جانے کے بعد بھی سسلی کے امراء اور سلاطین عرب طرز پر رہتے تھے اور عربوں جیسا لباس پہنتے تھے ، جس طرح موجودہ زمانہ میں برٹش راج سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود قدیم برطانوی ممالک برطانوی لباس اور برطانوی زبان کو فخر کے ساتھ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اقبال نے سسلی کی بابت کہا تھا :

رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوں نابہ بار وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار مگر سسلی کنارے پر سے پرواز کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں مواصلاتی ذرائع کی ترقی نے ہمارے لئے دعوت کے مواقع کتنے زیادہ بڑھادئے ہیں۔ ہمارے اسلاف نے "تہذیب حجازی" کو سسلی تک پہنچانے کے لئے برسوں کا دشوار گزار سفر طے کیا تھا۔ آج ہم صرف گھنٹوں کے اندر آسان سفر طے کر کے نسلی پہنچ سکتے ہیں اور وہاں کے باشندوں کو دوبارہ " تہذیب حجازی " کی تسخیری قوت سے مسخر کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے دعوتی شعور کی ضرورت ہے، اور دعوتی شعور موجودہ مسلمانوں میں سرے سے موجود نہیں۔

جزیرہ صقلیہ (سسلی) اور جنوبی اٹلی میں ایک عرصہ تک مسلمانوں کا غلبہ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں تاریخ کی کتابوں میں کافی مواد موجود ہے۔ اس موضوع پر ۲۸۰ صفحات کی ایک عربی کتاب یہ ہے : احمد توفيق المدنی ، المسلمون في جزيرة صقلية وجنوب ايطاليا. مكتبة الاستقامة ، تونس ، ۱۹۴۶ ، اس کتاب کے صفحہ ۸۶ پر " فتح مالطہ " کا عنوان ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ رومیوں نے ۶۵۳۳ میں مالٹا پر قبضہ کر لیا تھا۔ ۶۷۸۰ میں صقلیہ کے مسلم حکمرانوں نے اس کو اپنے زیر اقتدار جزیرہ پر ان کا یہ اقتدار ۱۰۹۰ء تک باقی رہا۔ اس طرح ۲۲۰ سال تک یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم رہی۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مالٹا کے لوگ محرف عربی بولتے ہیں۔ روم سے مالٹا تک کا پورا سفر میڈیٹرینین کے اوپر سے ہوا۔ سمندر بھی اسی طرح نیلانظر آرہا

تھا جس طرح آسمان نیلا دکھائی دیتا ہے ۔ حالاں کہ باعتبار حقیقت نہ سمندر نیلے رنگ کا ہے اور نہ آسمان نیلے رنگ کا۔

یہ صرف ایک گھنٹہ کا مختصر سفر تھا۔ ہم لوگ جہاز میں آکر بیٹھے۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی چیزیں دیکھیں۔ اتنے میں ناشتہ آگیا۔ ناشتہ سے فارغ رہی ہوئے تھے کہ ”اپنی کرسی کی پیٹی باندھ لیں کا اعلان پھر اعلان ہوا کہ ہم جلد ہی مالٹا کی زمین پر اترنے والے ہیں۔

مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ سفر آدمی کی دنیوی زندگی کا ایک علامتی تعارف ہے۔ آدمی دنیا میں وہ بچہ سے بڑا ہوتا ہے۔ تعلیم حاصل کرتا ہے۔ کمانے اور دنیا کی تعمیر کے کام میں مصروف وہ اپنا گھر بناتا ہے۔ ابھی اس کے گھر کی دیواروں کی پینٹنگ ہو ہی ہوتی ہے کہ کوس رحلت بکوفته دست اجل کا وقت آجاتا ہے۔ دنیا میں زندگی کا لمحہ کتنا مختصر ہے۔ اور کتنی لمبی مدت تک اس مختصر لمحہ کی قیمت انسان کو ادا کرنا ہے۔

۷ اکتوبر کی شام کو ہم مالٹا ایئر پورٹ پر اتر گئے۔ جہاز سے باہر نکلے تو وہاں کانفرنس کے نمائندے ہماری رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ انھوں نے ہم کو ایئر پورٹ کے لاؤنج میں بٹھا دیا۔ ہمارے پاس مالٹا کا ویزا نہیں تھا۔ اس لئے یہاں ویزا بھی لینا تھا۔ ان لوگوں نے ہمارا پاسپورٹ لیا اور اس کے بعد ویزا کا اندراج اور دوسری ضروری کارروائیوں کے لئے وہ ہمارا بدل بن گئے۔

یہ بظاہر سادہ سی بات ہے۔ بہتر کانفرنس میں اسی طرح مہمانوں کی آمد پر ان کا استقبال اور ان کا تعاون کیا جاتا ہے۔ مگر میرا ذہن یہ سوچنے لگا کہ ایسا کس طرح ہوتا ہے۔ قدیم زمانہ میں ایسا ممکن نہیں تھا کہ ایک شخص ہندوستان سے روانہ ہو اور لمبی مدت طے کرنے کے بعد جب وہ مالٹا پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو ہر چیز کی مکمل اطلاع ہو اور وہ عین وقت پر اس کی مدد کے لئے وہاں موجود ہوں۔ مگر آج جب ایک شخص غیر ملک میں اترتا ہے تو وہاں اس کے میزبان کو آمد کا وقت اور تاریخ اور سواری وغیرہ کی اطلاعات انتہائی صحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہیں۔

یہ ”معجزہ“ مواصلات (کمیونیکیشن) کی ترقی کے ذریعہ ممکن ہوا ہے۔ جدید مواصلات اللہ تعالیٰ کی عجیب نعمت ہیں۔ وہ خدا کی قدرت کو یاد دلاتے ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ بیرونی دنیا کے سفر کرتے ہیں تو وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ میں فلاں مقام پر پہنچا تو وہاں اتنے آدمی میرے استقبال کے

لئے موجود تھے۔ ایک واقعہ جس کو حقیقتاً خدا کی گلوری کے خانہ میں ڈالنا چاہئے اس کو وہ ذاتی گلوری کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو جانیں مگر وہ خداوند ذو الجلال کے بارہ میں بے خبر ہوں۔

میں مالٹا ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک خوش پوش نوجوان آئے اور میری کرسی کے قریب فرش پر عقیدت مندانہ انداز میں بیٹھ گئے۔ انھوں نے اپنا نام مار کونی انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب گائیڈ آرائرز اور دوسری کئی انگریزی کتابیں پڑھی ہیں۔ کتابوں نے مجھ کو بہت متاثر کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ روم اور مالٹا میں بہت سے لوگ ہمارے مشن سے واقف ہیں اور ہماری کتابیں پڑھ چکے ہیں۔ اس علاقہ میں الرسالہ مشن کو متعارف کرانے میں الجزائر یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر محمد السلیمانی کا بہت بڑا دخل ہے۔ وہ عربی کے علاوہ فرانسیسی اور اطالوی زبانیں

کانفرنس کے منتظمین کا ہر کام اتنی منصوبہ بندی کے ساتھ ہو رہا ہے کہ ہم جب مالٹا ایئر پورٹ پر پہنچے تو اسی وقت ہم کو کانفرنس کا بیگ، اس سے متعلق ضروری کا غذات اور مالٹا کے بارہ میں تعارفی لٹریچر سب کچھ ایئر پورٹ پر ہی دے دیا گیا۔

مالٹا میں میرا قیام ہالی ڈے ان کے کمرہ نمبر ۲۰۱ میں تھا۔ مالٹا میں اہل اسلام کی ۲۲۰ سال تک حکومت یہاں کی زبان اور تہذیب پر عربوں کا غیر معمولی اثر ہے۔ مالٹی زبان میں پچاس فیصد سے زیادہ الفاظ عربی کے ہیں۔ اس کے بعد اطالوی اور انگریزی کے۔ مگر آج مالٹا مسلمانوں سے خالی ہے۔ عربی میں بطور مثل کہا جاتا ہے کہ فلان كُمن يَؤذّن في مالطا یعنی فلاں شخص مالٹا میں اذان دے رہا ہے جہاں کوئی نماز پڑھنے والا نہیں۔

تاہم یہ مثل مجھے پسند نہیں آئی۔ اس میں دعوتی شعور کا فقدان نظر آتا ہے۔ ایک عرب عالم سے میں نے کہا کہ اذان کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ہے بلکہ دعوتی معنوں میں اس کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے۔ اذان میں حي علی الصلاۃ بھی کہا جاتا ہے اور حی علی الفلاح بھی۔ ایک کلمہ کا تعلق اگر ایمان قبول کرنے والوں سے ہے تو دوسرے کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنھوں نے ابھی ایمان قبول نہیں کیا۔ مسلمان ایک اذان سے واقف ہیں، مگر وہ دوسری اذان سے واقف نہیں۔

نیو یارک کے حلقہ الرسالہ نے رمضان کے موقع پر آٹھ صفحہ کا ایک انگریزی پمفلٹ شائع کیا اور اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پمفلٹ میں انگریزی الرسالہ کے روزہ سے متعلق چار مضامین شامل کئے گئے تھے۔ آخر میں اے ریڈرز ویو آف الرسالہ کے زیر عنوان مسٹر ایم ٹی خان ، پٹنہ کا ایک مطبوعہ انگریزی خط نقل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقیوم صاحب روم (اٹلی میں رہتے ہیں۔ انھوں نے الرسالہ انگریزی کی ایجنسی لی ہے اور اس کو روم کے انگریزی داں حلقہ میں پھیلا رہے ہیں۔

بیت الحکمت (کراچی) سے رسائل و اخبارات کی ڈائرکٹری شائع کی گئی ہے۔ صفحہ ۱۴ پر الرسالہ نئی دہلی) کا اندراج ہے اور اس کے تحت یہ الفاظ ہیں: الرسالہ میں اسلامی حکایتیں اور واقعات کی تشریح بالکل نئے انداز میں پیش کی جاتی ہے۔ ایک صاحب لکھتے ہیں : میں ۴۲ سالہ کاروباری آدمی ہوں۔ آپ کے الرسالہ کا مستقل ہر ماہ ایک سو کا پیاں اور کبھی ۱۰- ۲۰ زیادہ کاپیاں حاصل کرتا ہوں جن کو میں اپنی برادری اور دوستوں میں مفت تقسیم کرتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمارے درمیان ایسا اعلیٰ دماغ پیدا کیا جو صرف دین کے کاموں میں استعمال ہورہا ہے (احمد کمال مکرانی،کراچی) کراچی)

ایک صاحب لکھتے ہیں : میں چند سال سے الرسالہ کا قاری ہوں۔ اب میں چھ الرسالہ کی ایجنسی چلا رہا ہوں اور ان کو تعلیم یافتہ طبقہ میں تقسیم کرتا ہوں۔ تین سال قبل ہم دو آدمی تھے اب الحمد للہ دس افراد یہاں الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں اور وہ آگے اپنے احباب کو پڑھا میں ذاتی طور پر ایک مشکل مقام پر تھا جہاں مجھے دینی رہنمائی کی ضرورت تھی۔ تھا کہ میں ہلاکت میں جاگرتا۔ اس وقت ایک صاحب خضر بن کر میری دنیا میں آئے۔ نے مجھے الرسالہ مشن سے تعارف کرایا۔ الحمد للہ الرسالہ کے مثبت اندازِ فکر نے مجھے بربادی سے بچالیا۔ الرسالہ کی تمام مطبوعات حاصل کرلی ہیں اور ان کو پڑھ رہا ہوں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سے بھی ہے اور میرے توسط سے بہت سارے ڈاکٹر

صاحبان اس مشن سے متعارف ہوا چکے ہیں اور ان کی طلب میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ (ڈاکٹر حافظ نثار احمد، صادق آباد، پاکستان)

ہارون بھائی ہوزری والے (بمبئی)نے نے اپنی طرف سے زر تعاون ادا کر کے ایک سوا علی تعلیم یافتہ اصحاب کے نام الرسالہ اردو اور انگریزی جاری کروایا ہے۔ جو لوگ اس طرح الرسالہ کے پیغام حق کی اشاعت میں تعاون کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ ڈاکٹر سلطان احمد صاحب (بنگلور) ہر ماہ الرسالہ کی کئی کاپیاں لے کر لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ الرسالہ مارچ ۱۹۹۲ (روزہ نمبر، کی مزید تعداد حاصل کر کے انھوں نے بہت سے لوگوں تک اسی طرح اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات وہ غیر مسلم صاحبان تک پہنچا رہے مختلف مقامات پر اسی طرح لوگ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کی اشاعت میں تعاون کر رہے ہیں۔

شیخ محمد سلیمان القائد نے الرسالہ مشن کی حمایت میں ۲۱۰ صفحات پر مشتمل ایک عربی کتاب لکھی ہے جو قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں کثرت سے مطبوعات الرسالہ کے حوالے شامل ہیں۔ اس کتاب پر مصر کے مشہور ادیب احمد بہت نے ایک تعارفی مضمون لکھا ہے جو قاہرہ کے اخبار الاہرام (۲۱ مارچ ۱۹۹۲) میں ان کے مستقل کالم " صندوق الدنیا " کے تحت شائع ہوا ہے۔ احمد بہت آخر میں لکھتے ہیں: والمفكر الليبي محمد سليمان القائد من تلاميذ المفكر الهندي وحيد الدين خان، وهو يناقش هذه القضايا بفكر واضح ومنطق سليم وحجه قوية (صفحه ۲)

جگدیش سنگھ کا لڑا ایڈوکیٹ (نئی دہلی) الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کاروزہ نمبر (مارچ ۱۹۹۲) پڑھ کر پہلی بار مجھ کو معلوم ہو کہ روزہ کیا ہے اور وہ کیوں اتنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے میں نے اسلامی عبادات پر بہت کچھ پڑھا تھا مگر اب تک وہ میری سمجھ میں نہیں آیا تھا، روزہ نمبر پڑھ کر پہلی بار اسلامی عبادت کی حقیقت سمجھ میں آئی۔ ایک مشہور عربی درس گاہ کے طالب علم (محمد ابو بکر) لکھتے ہیں کہ جب میں نے آپ کے بھیجے ہوئے الرسالہ کو پایا تو مجھے جو خوشی ہوئی اس کو میں قلم بند نہیں کر سکتا۔ بے ساختہ میرے دل سے

یہی دعا نکلی کہ اللہ آپ کی حیات دراز کرے تاکہ ہم سب آپ کی کد کا وش کے ثمرہ سے خوب سیراب و شبعان رہیں۔ آپ کے رسالہ سے مجھے جتنا فائدہ حاصل ہوتا ہے اتنا مجھے کسی اور پرچہ سے حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن افسوس ہے کہ میری اتنی استطاعت نہیں کہ میں آپ کے پرچہ کو خرید کر پڑھ سکوں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے لئے رسالہ عنایت کرتے رہیں اور اپنی دیگر مطبوعات سے بھی ہم طلبہ کی مدد کریں زماداریس عربیہ سے اس قسم کے خطوط ہم کو ملتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اگر کچھ لوگ مالی تعاون کریں وہ انشا اللہ ان کے لئے باعث ثواب ہوگا)

ایک صاحب لکھتے ہیں: ”عظمت صحابہ“ کے نام سے جو رسالہ چھپا ہے، ضرورت ہے کہ وہ تمام لوگوں تک پہنچ جائے۔ اور وہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ صحابہ کیسے تھے اور انھوں نے کیا صحیح راستہ ہمارے سامنے رکھا ہے۔ آپ نے اس میں صحابہ کی زندگی کو نہایت صحیح طریقے سے واضح دوسرے لوگ بھی صحابہ کا بیان کرتے ہیں مگر اس طرح نہیں کہ وہ ہمارے لئے کس طرح مشعل راہ ہیں (عبد المجید بٹ، کشمیر)

ایک صاحب لکھتے ہیں : میں نے تذکیر القرآن کا مطالعہ کیا۔ مجھے حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ ایسی جامع تفسیر اور سہل تر معانی اور بہت جلد مطلب دماغ میں سما جانے والی کوئی اس طرح کی تفسیر اب تک میری زندگی میں نظر سے نہیں گزری۔ اور عقلیات اسلام اور اللہ اکبر، ان دونوں کتابوں کا بھی مطالعہ کیا۔ واقعی اپنی نوعیت کی بے مثال کتاب ہے۔ پڑھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ اب تقریر سننے کے لئے کیسٹ کا انتظار ہے (محمد آزاد، کٹہار) خاتونِ اسلام کا نیا ایڈیشن بعض اضافوں کے ساتھ زیرِ طبع ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی اب انشا اللہ آخری مرحلہ میں ہے۔

آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ یہ تقریر ۵ اپریل ۱۹۹۲ کو نشر ہوئی اور اس کا موضوع عید الفطر تھا۔ اس میں عید الفطر کی مذہبی اور سماجی اہمیت بتائی گئی۔ سیرت رسول پر سادہ و واقعاتی انداز میں ایک کتاب تیار ہو رہی ہے۔ غزوہ بدر تک اس کی تحریر اور کتابت ہو چکی ہے۔

Printed page