فرق کیوں
Al-Risala, August 1992, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۷۱ء کا واقعہ ہے۔ ایک سفر کے دوران میں لاہور (پاکستان) میں ایک صاحب کے یہاں ٹھہرا ہوا یہ ایک بڑا دو منزلہ مکان تھا۔ میرے میزبان ایک روز رات کے وقت مجھ کو چھت کے اوپر لے گئے۔ وقت پورا چاند آسمان پر چمک رہا تھا اور کھلی فضا میں بہت خوبصورت معلوم ہورہا تھا۔ ہم لوگ قدرت کے حسین منظر میں کھوئے ہوئے تھے۔ اچانک میرے میزبان نے کہا: ”یہی چاند تو آپ کے ملک میں بھی چمکتا ہوگا! اس کے بعد ہم دونوں خاموش ہوگئے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ کیسی عجیب بات ہے ۔ ہر ملک میں چاند ہے۔ مگر انسان ہر ملک میں انسان نہیں۔ ایک شخص اپنے ملک میں "وطنی" سمجھا جاتا ہے، مگر دوسرے ملک میں وہ "خارجی" بن جاتا ہے۔
چاند کو جس طرح ایک ملک میں خوش آمدید کہا جاتا ہے، اسی طرح دوسرے ملک میں بھی۔ ایک ملک کے لیے بھی محبوب ہے اور دوسرے ملک کے لیے بھی۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ ایک ملک کا مطلوب شخص دوسرے ملک میں پہنچ کر غیر مطلوب بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند اور سورج اپنی فطرت پر قائم ہیں۔ جب کہ انسان اپنی مقرر فطرت پر قائم نہیں۔
سورج چاند ایسا نہیں کرتے کہ ایک ملک میں اجالا پھیلائیں اور دوسرے ملک میں اندھیرا۔ ایک قوم کا دوست اور دوسری قوم کا دشمن ہوتا ہے۔ پھول کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک کو خوشبو دے اور دوسرے کے لیے بدبو دار بن جائے۔ مگر انسان ایک کے لیے خیر خواہ ہوتا ہے اور دوسرے کے لیے بدخواہ۔ ستارے اپنے اپنے مدار میں گھومتے ہیں۔ کوئی ستارہ دوسرے ستارہ کے مدار میں داخل نہیں ہوتا۔ کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے دائرے کو چھوڑ کر دوسرے کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے۔ درخت ایک ملک میں جس اصول پر اگتا ہے، دوسرے ملک میں بھی اسی اصول پر اگتا ہے۔ مگر انسان ایک کے ساتھ عدل کا معاملہ کرتا ہے، اور دوسرے کے لیے وہ ظالم بن جاتا ہے۔
دوسری چیزوں کی محبوبیت کا راز یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت پر قائم ہیں۔ مگر انسان اپنی فطرت کو کھو دیتا ہے اور نتیجہ غیر مطلوب بن جاتا ہے۔ اگر انسان اپنی فطرت پر قائم رہے تو اس کو بھی ہر جگہ وہی استقبال ملے جو سورج اور چاند کو ملا ہوا ہے۔