فرضی نام
Al-Risala, August 1992, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ پیغمبروں نے جب اپنی قوموں کے سامنے توحید خالص کی دعوت پیش کی اور ان کے مزعومہ شریکوں کا انکار کیا تو لوگوں نے سخت ردعمل کا اظہار انھوں نے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم صرف ایک اللہ کے عبادت گزار بنیں اور ان کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں۔ پیغمبر نے جواب دیا کہ کیا تم لوگ مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں، جن کی کوئی سند خدا نے نہیں اتاری أ تجادلونني في اسماء سميتموها انتم وأباءكم ما انزل الله بها من سلطان۔ نام رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک عاجز چیز کو طاقت ور چیز کہنا۔ ایک پتھر کی مورت کو ایسے نام سے پکارنے لگنا جو اس کے لیے سزاوار نہیں۔ مثلاً قدیم عرب میں قبیلہ قریش کا ایک بت تھا جس کو وہ پوجتے تھے۔ اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف ایک بے جان پتھر تھا۔ مگر قریش نے اس کا نام عزیٰ رکھ دیا تھا۔ عزیٰ کا لفظ اعز کا مونث ہے۔ یعنی بہت معزز، بہت طاقت ور۔ قدیم زمانہ میں اس طرح کے بے اصل نام زیادہ تر بتوں کے ہوا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں پریس کے رواج نے اسی نوعیت کی ایک اور برائی کو بہت بڑے پیمانہ پر پیدا کیا ہے۔ اس نئی برائی کو اکابر پرستی کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہر قوم اپنی محبوب شخصیتوں کو بڑے سے بڑے لقب دیتی اس لقب کو پریس اور میڈیا کے ذریعہ مشہور کر کے لوگوں کے دماغوں میں اس طرح بٹھا دیا جاتا ہے کہ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ شخصیتیں واقعہ ویسی ہی ہیں جیسا کہ ان کے لقب میں انھیں بتایا گیا ہے۔ قطب الاقطاب، غوث الاعظم، قائد اکبر، حکیم مشرق، حضرت اقدس، مجاہد اسلام، علامہ زماں، شہید اعظم، مجتہد العصر، امام حریت، وغیرہ، سب اسی قسم کے نام ہیں جو لوگوں نے بطور خود رکھ لیے ہیں۔ انھیں مفروضہ القاب کا یہ نتیجہ ہے کہ ان شخصیتوں پر کوئی تنقید کی جائے تو لوگ فوراً بگڑ جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں شخص تو "حضرت اقدس" ہے، اس پر کیسے تنقید کی جاسکتی ہے، حالاں کہ حضرت اقدس کچھ لوگوں کا اپنا گھڑا ہوا نام ہے نہ کہ خدا کی طرف سے آیا ہو لقب۔