سب وشتم
Al-Risala, August 1992, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کو گالی نہ دو۔ ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالی دیں گے ( ولا تسبوا الذین یدعون من دون الله فیسبوا الله عدوا بغیر علم ) الانعام ۱۰۹۔
ایک طرف اس قرآنی حکم کو سامنے رکھیے۔ دوسری طرف یہ دیکھئے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مکہ میں جب اسلام کی دعوت پیش کی تو وہاں کے سرداروں نے آپ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ہمارے آبار کو گالی دیتے ہیں اور ہمارے معبودوں کو گالی دیتے ہیں (۔ شتم اباءنا وسب اٰلھتنا)سيرة سیرۃ ابن ہشام ۱/ ۳۱۰۔
کیا قرآن کے اس حکم کے باوجود، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم قریش کے اکابر کو اور ان کے بتوں کو گالی دیتے تھے۔ حدیث اور سیرت کے پورے ذخیرہ میں ایسا کوئی کلام آپ کی زبان سے اصل یہ ہے کہ آپ گالی نہیں دیتے تھے۔ البتہ آپ کی بات کو وہ گالی بتاتے تھے تاکہ آپ کو سب وشتم اور دشنام طرازی کا ذمہ دار ٹھہرا کر آپ کو مطعون کریں۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم جو کچھ فرماتے تھے وہ ابطال باطل تھا نہ کہ سب وشتم ۔ آپ ان کے جاہلانہ مذہب یا ان کے اکابر کے خلاف دشنام طراز ی نہیں کرتے تھے، بلکہ واضح دلائل سے ان کی تردید کرتے تھے۔ آپ اثبات حق اور ابطال باطل والا کام انجام دیتے تھے۔ قریش چونکہ آپ کی دلیلوں کے مقابلہ میں کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے تھے، اس لیے انھوں نے آپ کے بارے میں کہہ دیا کہ آپ سب وشتم کرتے ہیں۔
جب آدمی کے غلط نظریہ کو طاقت ور دلائل سے رد کر دیا جائے، اس کے باوجود وہ اپنے غلط نظریہ کو چھوڑنا نہ چاہے تو وہ داعی اور مصلح کے اوپر سب وشتم کا الزام لگا دیتا ہے۔ اس طرح وہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے جو دلیل دی ہے وہ کوئی دلیل نہیں، وہ تو صرف دشنام طرازی ہے اور میں دشنام طرازی کی بنا پر کیسے اپنا موقف بدل دوں۔ جو لوگ مدلل تنقید کو کیچڑ اچھا لنا کہیں انھیں سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو کس کے ساتھ بریکیٹ کر رہے ہیں۔