دو قسم کے انسان
Al-Risala, August 1992, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدھا اور جو لوگ شیطان سے بچے کہ وہ اس کی عبادت وانابوا الی اللہ لھم البشرى ، فبشر عباد۔ کریں اور وہ اللہ کی طرف رجوع ہوئے، ان کے الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ لیے خوش خبری ہے۔ تو میرے بندوں کو خوشخبری اولٰئک الذین ھداھم اللہ واولٰئک ، دیدو، جو بات کو غور سے سنتے ہیں۔ ھم اولوا الالباب۔ کے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں (الزمر ۱۷-۱۸) جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر چیز پر شبہ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ کہ موجودہ دنیا میں جب کلام کیا جاتا ہے تو انسانی زبان میں کلام کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر اس دنیا میں ہمیشہ یہ امکان رہتا ہے کہ کسی بات کا غلط مفہوم نکالا جاسکے۔
جو سمجھ والے لوگ ہیں اور جن کو اللہ کے خوف نے سنجیدہ بنا رکھا ہے، وہ جب کسی بات کو سنتے ہیں تو ہمیشہ اس کو اس کے صحیح مفہوم میں لیتے ہیں۔ وہ الفاظ کو نہیں پکڑتے بلکہ کلام کے معانی کو دیکھتے ہیں۔ ان کی یہ صفت ان کو کلام کے صحیح مفہوم کی طرف رہنمائی کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ ان کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں، جو ربانی حکمت سے محروم ہو گئے ہوں۔ وہ جب کسی کلام کو سنتے ہیں تو وہ اس کی خود ساختہ تاویل کرتے وہ سیدھی بات کو الٹے معنی پہناتے ہیں۔ وہ کسی بات کو اس کے اصل مفہوم کے اعتبار سے نہیں لیتے بلکہ محض ظاہری الفاظ کے اعتبار سے لے کر اس پر بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ لوگ ہمیشہ ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔
یہ شیطان کی پیروی ہے کہ آدمی کسی کلام کو اس کے اصل مفہوم کے اعتبار سے نہ لے۔ کے سچے بندے ہیں وہ ہمیشہ یہ دیکھتے ہیں کہ کسی کلام سے متکلم کا اصل منشا کیا ہے۔ وہ کلام کو اس کے احسن مفہوم کے اعتبار سے لیتے ہیں نہ کہ غیر احسن مفہوم کے اعتبار سے۔