Al-Risala · August 1992

ہر چیز امتحان

Al-Risala, August 1992, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

کل نفس ذائقۃ الموت ونبلوکم بالشرّی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور ہم تم کو بری حالت سے اور اچھی حالت سے آزماتے ہیں پرکھنے کے اور تم سب ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے۔

خیر فتنة والينارجعون۔

قرآن کی یہ آیت انسانی زندگی کے بارے میں خدا کے منصوبہ کو بتاتی ہے۔ اس دنیا میں کسی کو راحت ملتی ہے اور کسی کو مصیبت۔ کبھی ایسا ہواتا ہے کہ پسندیدہ صورتِ حال سے سابقہ پیش آتا ہے اور کبھی ناپسندیدہ صورت حال سے۔ مگر ان سب کا مقصد صرف ایک ہے، اور وہ خدا کسی کو ایک طرح کے حالات میں رکھ کر آزماتا ہے اور کسی کو دوسری طرح کے حالات میں رکھ کر ۔ یہاں اصل چیز یہ حالات نہیں ہیں، یہاں اصل چیز یہ ہے کہ آدمی کو جو حالات ملے ان میں اس نے کس قسم کا ردعمل پیش کیا۔

اس دنیا میں کسی کو عزت اور کامیابی دی جاتی ہے تو وہ اس کے لیے انعام نہیں ہوتا وہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ خدا یہ دیکھے کہ آدمی عزت اور کامیابی پا کر گھمنڈ میں مبتلا ہو یا اس نے شکر اور تواضع کا رویہ اختیار کیا۔ اسی طرح جب کسی شخص کو بظاہر پستی اور ناکامی میں ڈالا جاتا ہے تو یہ اس کے لیے سزا نہیں ہوتی۔ وہ اس لیے ہوتی ہے کہ خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ پستی اور ناکامی میں مبتلا ہو کر اس نے صبر کا رویہ اختیار کیا یا بے صبری اور شکایت کا۔ یہی ردعمل پر عزت میں آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جانے والا ہے۔

قرآن میں ہے کہ حضرت سلیمان کو جب اپنے حق میں بعض غیر معمولی نعمتوں کا تجربہ ہوا تو ان کی زبان سے نکلا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے جانچے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری (آشکرام اکفر، النمل ۴۰) ایک طالب علم کو امتحان میں ۲۰ پرچے کے بجائے ۵ پرچہ دیا جائے تو وہ خوش ہو گا کہ مجھ کو حل کرنے کے لیے کم پرچہ ملا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں جس آدمی کو کم ساز و سامان ملے یا کم عہدہ دیا جائے تو اس کو شکر کرنا چاہیے کہ اس کے رب نے اس کے ساتھ آسان آزمائش کا معاملہ کیا۔ نہ یہ کہ وہ اس کمی کی بنا پر شکایت اور حسد اور مایوسی جیسے جذبات میں مبتلا ہو جائے ۔

Printed page