معرفت قرآن
Al-Risala, August 1992, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق نے ایک روز حضرت عبداللہ بن عباس کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ یہ امت کیسے اختلاف میں پڑ جائے گی، حالاں کہ اس کی کتاب ایک ہے، اس کا نبی ایک ہے، اس کا قبلہ ایک ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا کہ اے امیر المومنین، قرآن ہمارے اوپر اتارا گیا ہم نے اس کو پڑھا اور یہ جانا کہ وہ کس چیز کے بارے میں اترا ہے۔ مگر ہمارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کو پڑھیں گے لیکن یہ نہ جانیں گے کہ وہ کس چیز کے بارے میں اترا ہے۔ پس ہر گروہ کی قرآن کے بارے میں ایک رائے ہو جائے گی۔ اور جب ہر گروہ کی الگ رائے ہو جائے گی تو وہ اختلاف کریں گے۔ اختلاف کریں گے تو آپس میں قتال کریں گے۔ (حياة الصحابہ، الجزء الثالث، صفحه ۲۱۸) اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ ۲۲ نومبر ۱۹۸۹ کو ہندوستان کی نویں لوک سبھا کا اس موقع پر الیکشن مہم کے تحت جو کچھ کیا گیا، ان میں سے ایک یہ تھا کہ ہر طرف اس مضمون کے پوسٹر لگائے گئے کہ "ہاتھ سے ہاتھ ملائیے، اُس وقت پورے ماحول میں جو فضا بنی ہوئی تھی، اس میں ہر شخص نے فوراً سمجھ لیا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کانگریس کو ووٹ دو، جس کا چناؤ نشان ہاتھ ہے۔
لیکن یہی پوسٹر ایک ہزار برس بعد کچھ لوگوں کو اچانک مل جائے تو اس کا سمجھنا ان کے لیے انتہائی کوئی شخص کہے گا کہ اس کا مطلب مصافحہ کرنا ہے۔ کوئی کہے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دست بدست جنگ کرو۔ کوئی اس کا مطلب یہ بتائے گا کہ سفر میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے رہو، تاکہ کوئی بچھڑنے نہ پائے۔
قرآن کو سمجھنے کے لیے نزولِ قرآن کے پس منظر کو جاننا انتہائی ضروری ہے۔ یہ پس منظر سیرت رسول کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔
جو آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور اللہ کی رضا کا طالب ہو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے ذہن کو خالی کرکے قرآن، حدیث، سیرت اور صحابہ کے حالات کو پڑھے اور اسی کے ساتھ ہدایت کی دعا بھی کرتا انشاء اللہ وہ سچائی کے راستہ کو پالے گا۔