Al-Risala · August 1992

ایک پیغام

Al-Risala, August 1992, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان ٹائمس کے ایڈیٹر مسٹر ایچ کے دوا نے ۸ جون ۱۹۹۲ کو وزیر اعظم ہند نرسمہا راؤ کا ایک انٹرویو لیا۔ یہ خصوصی انٹرویو نئی دہلی میں وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ (ریس کورس روڈ) پر ریکارڈ کیا گیا۔ وہ ۹۰ منٹ تک جاری رہا۔ یہ انٹرویو ہندوستان ٹائمس کے شمارہ ۸ جون ۱۹۹۲ میں نمایاں طور پر شائع ہوا ہے۔

اس انٹرویو میں دوسرے سوالات کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ بھی زیر گفتگو آیا۔ نے بی جے پی کے اس مطالبہ کو رد کر دیا کہ دستور ہند سے دفعہ ۳۷۰ کو ختم کر دیا جائے۔ ساتھ انھوں نے کشمیری جنگجوؤں کے مطالبہ آزادی (انڈپینڈنس) کو بھی قبول کرنے سے انکار کیا۔ تاہم مسٹر روا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کامل آزادی کے مطالبہ کو رد کرتے ہوئے داخلی خودمختاری (اٹونومی) کے معاملہ میں کسی قدر نرم تھے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دستور ہند کے باہر تو اس مسئلہ پر کوئی گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ دستور ہند کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس کے حل کی کئی صورتیں قابلِ عمل ہیں۔ شخص آزادی کا لفظ بولے اور اس کی مراد یہ ہو کہ وہ دستور ہند کی ماتحتی نہیں چاہتا تو اس وقت ہمارے درمیان کوئی مشترک بنیاد باقی نہیں رہتی۔ البتہ اگر آدمی خیال کرے کہ دستور ہند کے اندر ایسی خود اختیاری کا حصول ممکن ہے جو اس کی آرزوؤں کو پورا کر سکتا ہے تو یہ وہ چیز ہے جس پر ہمیں گفت و شنید کرنا چاہیے۔

ہندوستان ٹائمس (۹ جون ۱۹۹۲) نے اپنے اداریہ میں وزیر اعظم ہند کی اس تجویز کو بجاطور پر نہایت تعمیری تجویز (most concrete) کہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات کے اعتبار سے یہ کشمیریوں کے لیے "بسٹ پاسبل" کے ہم معنی ہے۔ اور انہیں مزید وقت کھوئے بغیر اس کو اختیار کر لینا چاہیے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اٹونومی کی بنیاد پر نئی دہلی سے گفتگو شروع کر دیں۔ وہ دل سے وزیر اعظم کی اس پیشکش کو قبول کر لیں۔

خدا کی اس دنیا میں زندگی کے فیصلے بندوق کے زور پر نہیں ہوتے، بلکہ حقائق کے زور پر اس دنیا میں آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، قانونِ حیات کی پیروی کے ذریعہ ملتا ہے۔ حیات خود خالق کائنات کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اور کون ہے، جو خالقِ کائنات کے نقشہ کے خلاف چل کر اپنے لیے کوئی چیز پا سکے۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ اس دنیا میں زیادہ کا مطالبہ کرے مگر وہ کم پر راضی ہو جائے۔ کے پیچھے نہ دوڑے بلکہ ممکن کو اپنا نشانہ قرار دے۔ وہ مسائل سے ٹکرانے کے بجائے مواقع کو استعمال وہ کسی بھی حال میں کسی معاملہ کو وقار کا مسئلہ نہ بنائے۔ وہ تشدد کی قوت سے پرہیز کرے اور ہر حال میں امن کی قوت کو استعمال کرے ۔ وہ آگے بڑھنے کے ساتھ پیچھے ہٹنا بھی جانتا ہو۔ کشمیریوں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے انتخاب ہندوستانی کشمیر اور غیر ہندوستانی کشمیر میں نہیں ہے۔ بلکہ ہندوستانی کشمیر اور برباد کشمیر میں ہے۔ پچھلے تین سال کا تجربہ اس حقیقت کو کامل طور پر ثابت کر چکا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ کشمیری اپنے رویہ پر نظرثانی کریں۔ وہ دوڑتے ہوئے وقت کو مزید ایک لمحہ کے لیے بھی ضائع نہ کریں۔

Printed page