سفر نامہ - ۲
Al-Risala, August 1992, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
(Handicap toilets) مالٹا ہوٹل کے ایک دروازہ پر لکھا ہوا تھا: معذوروں کے لئے حمام مغربی دنیا میں معذوروں کے لئے خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کو ہر جگہ خصوصی توجہ کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ اس کو دیکھ کر دل میں یہ احساس ابھرا کہ خدا یا، میں بھی عالم انسانی کا ایک معذور شخص ہوں۔ تو میرے ساتھ میرے عمل کے اعتبار سے نہیں بلکہ میرے عذر کے اعتبار سے معاملہ فرما۔ اپنی رحمت خاص سے میری بخشش فرما دے۔ مالٹا کا مسلم عہد مسلمانوں کے دور عروج میں تھا۔ اس لئے یہاں کی ہر چیز پر مسلم تہذیب کی گہری چھاپ اب تک موجود ہے۔ یہاں کے مکانات بیشتر مسلم اسپین کے طرز پر بنائے گئے ہیں۔ نام ابھی تک عربی میں ہیں۔ مثلاً غار، رباط، سلیمہ، مدینہ وغیرہ۔ مگر قومی اسباب سے مسلمانوں کے خلاف تعصب پایا مثلاً سیاحوں کے لئے تیار کئے ہوئے ایک پمفلٹ میں نپولین کے ذیل میں" مالٹا میں نپولین کے دستوں کی آمد" کا لفظ ہے، اور ترکوں کے ذیل میں " ترک فوجوں کا مالٹا پر حملہ" کا لفظ درج کیا گیا ہے :
MARSAXLOKK: The Turkish forces invaded Malta in 1565 from the shores of this village. Here also landed the troops of Napoleon to whom the knights surrendered in 1798. یہ انسان کا عام مزاج ہے کہ وہ اپنوں کے لئے ایک قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے اور غیروں کے لئے دوسرے قسم کے الفاظ۔ تاہم اس کو پڑھ کر مجھے لکھنے والوں پر کوئی غصہ نہیں آیا۔ کیوں کہ یہ بات موجودہ مسلمانوں میں مزید اضافہ کے ساتھ موجود ہے۔ آج مسلمانوں کے اکابر تک کا یہ حال ہے کہ ان کو جس شخص یا جس گروہ سے شکایت ہو جائے اس کے لئے ان کی زبان بالکل مختلف ہو جاتی ہے۔ مالٹا جیسے چھوٹے اور دور دراز مقامات تاریخ کے اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب کہ دنیا میں عام طور پر مذہبی جبر کا دور دورہ تھا۔ لوگ حکومتوں کے مذہبی تشدد سے بچنے کے لئے اس طرح کے مقامات پر پناہ لیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مسیحی بزرگ نے رومی پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لئے مالٹا میں پناہ مالٹا کے بارہ میں ایک تعارفی پمفلٹ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ یہ چرچ ابتدائے ۱۴۱۷ میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ۱۶۹۴ میں وہ دوبارہ بنایا گیا ۔ یہ چرچ سینٹ اگا تھا سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ رومی شہنشاہ ڈیسیس کی تعذیب سے بھاگ کر مالٹا آئے تھے :
مذہب جبر کے اس دور کو اسلام نے ختم کیا۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ عطیہ سے فائدہ اٹھارہے ہیں مگر عطیٰ کا اعتراف کرنے والا کوئی نہیں۔ حتی کہ خود مسلمانوں میں بہت سے لوگ اس خدائی واقعہ کو اپنے قومی فخر کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ صحیح یہ تھا کہ اس کو وہ شکر خداوندی کے خانہ میں ڈالیں۔
عرب تہذیب کا اثر مالٹا پر اتنا گہرا پڑا کہ آج بھی وہ مالطی زبان کی صورت میں موجود ہے۔ مالطی زبان حقیقتاً عربی کی بگڑی ہوئی صورت ہے جس میں انگریزی اور اطالوی زبانوں کے کچھ الفاظ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ موجودہ مالطی زبان انگریزی حروف میں لکھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مالطی زبان کا ایک اخبار (Nazzjon) ہے۔ اس کے شمارہ ۲۸ اکتوبر کی پہلی سرخی مذکورہ کانفرنس کے بارہ میں تھی۔ اس کے الفاظ اس طرح تھے :