Il-lum tibda Il-Hames Laqgha Internazzjonali
Al-Risala, August 1992, pp. 35–40
By Maulana Wahiduddin Khan
الیوم تبدأ الخميس لقاء انٹر نیشنل) یعنی آج ۵ بجے انٹر نیشنل اجتماع شروع ہوگا۔ ہندستان کے علماء نے ۱۸۵۷ میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کی تحریک شروع کی تھی جو اپنے آخری مرحلہ میں ریشمی رومال کی تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس سلسلہ میں دسمبر ۱۹۱۶ میں مولانا محمود حسن صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں ساڑھے تین سال تک مالٹا میں نظر بند رکھا گیا۔ میں وہ رہا کئے گئے ۔ اس نظر بندی کے زمانہ میں مولانا موصوف کے شاگرد خاص مولانا حسین احمد مدنی بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس سلسلہ میں جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے : حضرت شیخ الہند کے زمانہ نظر بندی میں جو لوگ ساتھ رہے ان میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آپ نے حضرت شیخ کی خدمت کرنے اور زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے میں دن رات ایک کر دیا۔ ایک ادنی سا واقعہ ہے۔ مالٹا میں شدت کی سردی میں حضرت
شیخ کے سرد پانی سے وضو کرنے کی تکلیف آپ سے دیکھی نہ گئی۔ تو آپ نے گرم پانی مہیا کرنے کا انتظام اور التزام اس طرح کیا کہ ساری رات ٹھنڈے پانی کا لوٹا سینے سے لگائے لحاف اوڑھے بیٹھے رہتے اور جسم کی حرارت سے گرم شدہ پانی کا لوٹا فجر کے وضو کے لئے حضرت شیخ کی خدمت میں پیش کر دیتے ۔ سلسلہ ایک یا دو دن نہیں پورے تین سال ۵ مہینے تک چلا۔ (الجمعیتہ ویکلی ۹ - ۱۵ اگست ۱۹۹۱) اس واقعہ کو ماننے کے لئے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پورے تین سال ۵ مہینے تک مالٹا میں متواتر شدت کی سردی پڑتی رہی۔ عام قاعدہ کے خلاف وہاں موسم تبدیل نہیں ہوا۔ اس سے قطع نظر ، خود یہ بات بڑی عجیب ہے کہ مولانا کا ایک شاگردان کے پاس ساری رات بیٹھے رہنے کی مصیبت اٹھارہا ہے مگر مولانا اس کو منع نہیں فرماتے۔ اگر مولانا نے جانتے ہوئے منع نہیں کیا تو یہ ان کی شرافت کے خلاف اور اگر یہ کہا جائے کہ مولانا کو اس کا علم نہ ہو سکا تو یہ اور بھی زیادہ عجیب ہے۔ کیوں کہ جو شخص خود اپنے گھر کے ایک واقعہ سے ساڑھے تین سال تک بے خبر رہے، وہ ان عالمی حالات سے کیوں کر باخبر ہو سکتا ہے جن کو جاننا برٹش امپائر کے خلاف تحریک چلانے کے لئے ضروری تھا۔ ایک صورت میں مولانا کی شرافت مشتبہ ہوتی ہے اور دوسری صورت میں مولانا کی فراست۔ اب یہ مولانا کے معتقدین کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ دونوں میں سے کس صورت کو ترجیح دیتے ہیں۔
سفر سے پہلے میں نے ایک کتاب حاصل کی۔ اس کا نام ” اسیران مالٹا“ ہے۔ میرا خیال تھا کہ اس میں مالٹا کے مذکورہ اسیروں کے بارہ میں تاریخی معلومات ہوں گی اور وہ مالٹا میں میرے کام آئیں گی۔ مگر کتاب کو پڑھنے کے بعد حیرت انگیز طور پر میں نے پایا کہ اس میں دوسری دوسری باتیں تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ مگر اسیران مالٹا کے بارہ میں کچھ نہیں۔ اگر چہ دوسری باتیں بھی اس میں زیادہ تر غیر تاریخی انداز میں ہیں۔ مگر اسیران مالٹا کے بارہ میں جزئی تذکرہ کے سوا کوئی بھی تاریخی یا غیر تاریخی معلومات اس کتاب میں مشکل سے ملے گی ۔
اردو کتابوں کا عام طور پر یہی حال ہے۔ اردو زبان کا ارتقاء اس زمانہ میں موجہب کہ مسلم اہل قلم اور مسلم اہل زبان سب کے سب زوال کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان میں مشکل سے کوئی ایسی کتاب ملے گی جو حقیقی معنوں میں سائنٹفک انداز میں لکھی گئی ہو۔ صرف اردو کتابیں پڑھیں وہ علم سے اسی طرح بے بہرہ رہتے ہیں جس طرح دیوان غالب کو پڑھنے والا
آدمی اور ضیات سے۔
مولا نا محمود حسن صاحب اور مولانا حسین احمد مدنی کو گرفتاری کے بعد مالٹا لایا گیا تھا اور ساڑھے تین سال تک ان کو یہاں رکھا گیا۔ ان پر انگریز کے خلاف باغیانہ سازش کا الزام تھا۔ پر مجھے اس واقعہ سے زیادہ دلچسپی نہیں۔ کیوں کہ میرے نزدیک یہ محض ایک سیاسی واقعہ تھانہ کہ کوئی تا ہم وہ ہماری تاریخ کا ایک جزء ہے۔ اس بنا پر مجھے تلاش تھی کہ میں اس کے بارہ میں ضروری تاریخی معلومات یہاں سے حاصل کروں۔
وقت کی تنگی کے باوجود، مجموعی طور پر میں نے اس کے لیے پورا ایک دن گزانہ۔ گاڑی لے کر مالٹا کے مختلف حصوں میں سفر کرتا رہا۔ پبلک لائبریری ۔ نیشنل لائبریری اور کئی دوسری لائبریریاں اور میوزیم مگر کہیں کسی ریکارڈ کا سراغ نہ ملا۔ یہاں کے نیشنل آرکائیوز میں ممکن ہے اس سلسلہ کا کوئی ریکارڈ مگر اس کا علم مجھے آخر میں ہوا۔ اور وہ ہاں جانے کا وقت میں نکال نہ سکا۔ البتہ ٹیلی فون پر ان کو تفصیلات درج کرا دی گئیں۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ تلاش کر کے بذریعہ ڈاک مطلع کریں گے۔ تاہم اس تمام دوڑ دھوپ اور تلاش کا ایک فائدہ ہوا۔ وہ یہ کہ اس مخصوص معاملہ سے متعلق اصل آدمی کا نام و پتہ معلوم ہو گیا۔ یہ مالٹا کے آرکائیوز کا انچارج تھا۔ اس سے ٹیلی فون پر بات کی گئی۔ نے کہا کہ ہمارے آرکائیوز میں برٹش دور کے بہت سے آثار ہیں۔ تاہم ان کی ترتیب ابھی باقاعدہ طور پرقائم نہیں ہو سکی ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کا مطلوبہ ریکارڈ اس میں موجود ہو۔ مگر اس کو تلاش کرنا پڑے گا۔ ذیل میں ان صاحب کا پتہ درج ہے کوئی صاحب چاہیں تو ان سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں؛ Mr. J. Caruana, National Archives, Santo Spirito, Rabat, Malta. Tel. 00-356-459863 ہم کو مالٹا کے اس خاص مکان کی تلاش تھی جہاں دونوں صاحبان کو قید کر کے رکھا گیا تھا۔ کے لئے کئی پرانی عمارتیں دیکھیں ۔ جس عمارت کے بارہ میں بھی لوگوں نے گمان ظاہر کیا اس کو جاکر دیکھا۔ عمارت کا سراغ نہ مل سکا۔ تاہم جہاں بھی ہم گئے وہاں کے لوگوں نے انتہائی ہمدردی اور تعاون کا انداز
مولا نا محمود حسن صاحب جامعہ ملیہ کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر جامعہ ضروری وسائل فراہم
کرے اور اپنے کسی طالب علم کو کم از کم ایک مہینہ کے لئے یہاں بھیجے اور وہ تمام ممکن مقامات پر جا کر مکمل تحقیق کرے تو امید ہے کہ کچھ ریکارڈ حاصل ہو جائے گا۔
اس تلاش و تحقیق سے واپس آتے ہوئے ایک دکان پر نظر پڑی۔ اس کے بورڈ پر پہلی حرفوں میں لکھا ہو تھا: لے جائیے (Take away)۔ آدمی اگر انھیں دو لفظوں کو سب کچھ سمجھ لے تو وہ گمان کرے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دکان میں داخل ہوا اور جو چاہے وہاں سے بلا قیمت اٹھا لے جائیے۔ مگر ان الفاظ کا یہ مطلب نہیں۔ ان لکھے ہوئے لفظوں میں کچھ اور الفاظ اپنی طرف سے ملانے پڑیں گے۔ اس کے بعد ہی ان کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے۔ مزید الفاظ کو ملانے کے بعد پوری بات یوں ہے: قیمت ادا کرو اور لے جاؤ۔
یہ الفاظ عام طور پر ان دکانوں پر ہوتے ہیں جہاں کھانے کا تیار سامان فروخت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہوٹل نہیں ہے جہاں آپ بیٹھ کر کھائیں۔ البتہ یہاں سے کھانے کی چیزیں خرید کر اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ ہر لفظ یا ہر عبارت اس وقت تک نامکمل ہے جب تک آپ اس میں اپنے حصہ کے ضروری الفاظ شامل نہ کریں۔
مالٹا میں ہماری معلومات کے مطابق، اس وقت دو مسجدیں ہیں۔ ایک قدیم مسجد ہے۔ مسجد ترکوں کی بنائی ہوئی ہے۔ قدیم طرز کی کافی بڑی مسجد ہے۔ اس کو ہم صرف باہر سے دیکھ سکے۔ کیوں کہ وہ چاروں طرف سے بند تھی۔ غالباً وہ محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام ہے۔ دوسری مسجد نئی ہے۔ یہ لیبیا کے تحت تعمیر شدہ اسلامک سنٹر کی مسجد ہے۔ اس سنٹر میں بظاہر کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آئی۔ البتہ تعمیر کے اعتبار سے وہ کافی بڑا ہے۔ اور اس میں ایک نہایت خوبصورت اس مسجد میں ہم نے ظہر کی نماز پڑھی۔ مسجد کے بیرونی دروازہ پر ایک عربی کتبہ لگا ہوا ہے اس پر یہ عربی الفاظ درج ہیں: بسم الله وعلى بركة الله : وضع الاخ العقيد معمر القذافي حجر الأساس للمركز الاسلامی بجمهورية مالطا الصديقة بتاريخ ٢٧ رجب ۱۳۹۸ھ ٢٧ يويو ۱۹۷۸م مالٹا سیاحوں کا شہر ہے۔ یہاں ہر روز کثرت سے ساری دنیا کے سیاح آتے رہتے ہیں جس وقت ہم مذکورہ مرکز میں تھے، اس وقت بھی کچھ سیاح "اسلامک سنٹر" کو دیکھنے کے لئے آئے۔
اس مرکز کو حقیقی معنوں میں دعوتی مرکز کے طور پر پھیلایا جائے تو اس کے ذریعہ سے عظیم الشان فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
مالٹا کے لیبی سنٹر میں چند افراد بطور کارکن ہیں۔ یہی اس سنٹر کی دنیا ہے۔ یہ لوگ مقامی سوسائٹی سے بالکل کٹے ہوئے ہیں۔ ہمارے سامنے دو سیاح (ایک مرد، ایک عورت) سنٹر میں آئے۔ ان لوگوں کو دینے کے لئے کوئی اسلامی لٹریچر موجود نہ تھا۔ چنانچہ انہیں لیٹ ہی سے رخصت کر دیا گیا۔ سنٹر کے مدیر نے شکایت کی کہ ہم کو مالٹا کی موجودہ کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ ہم ابھی سنٹر میں تھے کہ ظہر کا وقت ہو گیا۔ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر اذان دی گئی۔ فلسطین کے ایک سفید ریش بزرگ اپنے کمرہ سے نکلے۔ معلوم ہوا کہ وہ یہاں کے امام ہیں۔ امام سمیت سنٹر کے غالباً تین افراد جماعت میں شریک ہوئے۔ سنٹر کے یہی چند افراد اس مسجد کے نمازی ہیں۔ سنٹر کے مدیر نے گفتگو کے دوران ہنستے ہوئے کہا: نحن نؤذن فی مالطا (ہم مالٹا میں اذان دے رہے ہیں)۔ عربوں میں یہ مثل مشہور ہے کہ فلان يؤذن فى مالطا ! فلان كمن يؤذن فى اس مثل کا پس منظر یہ ہے کہ صلیبی جنگوں سے پہلے مالٹا میں مسلمان بڑی تعداد میں تھے۔ جنگوں کے دوران جب صلیبیوں نے مالٹا کو اپنا فوجی مرکز بنانا چاہا تو مسلمانوں کو یہاں سے ایک ایک کر کے نکال دیا۔ اس کے بعد مالٹا میں ایک بھی مسلمان باقی نہیں رہا۔ اس کے بعد یہ مثل بنی کہ فلاں شخص تو مالٹا میں اذان دے رہا ہے۔ یعنی ایسی جگہ لوگوں کو پکار رہا ہے جہاں کوئی اس کی پکار کا جواب دینے والا نہیں۔
ماضی اور حال کا یہ فرق بے حد عجیب ہے۔ عقبہ بن نافع تابعی (۶۸۳ - ۶۲۱ ء) افریقہ کو فتح کرتے ہوئے اپنی آخر عمر میں افریقہ کے ساحل تک پہنچ گئے جہاں اٹلانٹک کا وسیع سمندر ان کے سامنے موجیں مار رہا تھا۔ انھوں نے سمندر کے ساحل پر کھڑے ہو کر کہا: يارب لوهذا البحر المضيت فى البلاد اے میرے رب، اگر یہ سمندر حائل نہ ہوتا تو میں چل کر ملکوں میں پہنچ جاتا یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
یہ دور اول کے مسلمانوں کے جذبات تھے۔ وہ غیر عبادت گزار کو عبادت گزار بنانے کے
لئے تڑپتے تھے۔ اب ایک ہزار سال بعد جب اللہ نے راستے کھول دئے اور سفروں کو آسان کر دیا تو موجودہ مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ جہاں کوئی عبادت گزار نہ ہو وہاں آخر اذان دینے کی کیا
۸ اکتوبر کی سہ پہر کو میڈیٹرینین کانفرنس سنٹر کے وسیع ہال میں کانفرنس کا افتتاح ہوا وزیر اعظم اٹلی ، وزیر اعظم مالٹا ، اور دوسرے لوگوں کی تقریریں ہوئیں۔ ایک مقرر نے اپنی تقریر میں کہا کہ مذہب کا نیا نام امن ہے :