Al-Risala · August 1992

The new name of religion is peace

Al-Risala, August 1992, pp. 40–44

By Maulana Wahiduddin Khan

"امن" بذات خود مذہب کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ البتہ یہ کہنا صحیح ہے کہ آج انسان ایک ایسے مذہب کی تلاش میں ہے جس کی تعلیمات پر امن زندگی کی طرف لے جانے والی ہوں۔ یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ پچھلے تلوار کے زمانہ میں جنگ کا تعلق صرف فوجی میدان سے ہوتا مگر اب جدید ہتھیاروں کے ظہور میں آنے کے بعد یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود رہیں۔ آج جنگ کے معنی پوری انسانیت کی تباہی کے ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ "مسلح جد و جہد" کے ذریعہ اسلامی انقلاب لانے کی بات کرتے ہیں وہ بیک وقت دونادانی کے شکار ہیں۔ وہ جدید انسان کو تشدد کا مذہب دینا چاہتے جب کہ آج کا انسان امن کے سوا کسی اور مذہب کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر بالفرض یہ حضرات وہ فوجی طاقت حاصل کر سکیں جس کے ذریعہ وہ موجودہ عالمی طاقتوں کو زیر کر کے زمین پر اسلامی اقتدار کا جھنڈ الہرائیں تو یہ ایک ایسی زمین ہوگی جہاں ان کے کارنامے کی داد دینے کے لئے کوئی انسان موجود نہ ہوگا۔ حتی کہ شاید وہ خود بھی نہ ہوں گے کہ اپنی انوکھی فتح اسلام کی تقریب منعقد کر سکیں۔

انٹرنیشنل کانفرنسوں کے عام رواج کے مطابق ، یہاں بھی "ہیڈ فون" کا انتظام تھا۔ والا اپنی زبان (مثلاً فرانسیسی یا اطالوی) میں بولتا تھا۔ اور سننے والا آلہ سماعت کے ذریعہ اس اپنی زبان (مثلاً انگریزی یا عربی) میں سنتا تھا۔ اس عمل کے دوران ایک بار مجھے خیال آیا کہ متکلم کی بات کو براہ راست طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ متکلم کی زبان کو سامع بھی سمجھتا ہو۔ متکلم اور سامع

دونوں کی زبان ایک نہ ہو تو کلام موجود ہو گا مگر سماعت وہاں پائی نہ جائے گی۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ سادہ طور پر صرف زبان کا معاملہ نہیں ہے بلکہ طرزِ فکر کا معاملہ بھی ہے۔ اگر متکلم کا طرزِ فکر ایک ہو اور سامع کا طرزِ فکر دوسرا ہو تو مشترک زبان کے باوجود دونوں ایک دوسرے کی بات سمجھنے سے عاجز رہیں گے۔ مثلاً ایک شخص علمی تنقید کرے گا۔ مگر سننے والا اپنے مخصوص ذہنی سانچہ کی بنا پر سمجھے گا کہ وہ شخصی تنقیس کر رہا ہے۔ مطبوعہ پروگرام کے مطابق، مالٹا کی کانفرنس میں مجھے تین بار عمل شرکت کا موقع ملا۔ ۸ اکتوبر کے اجتماع میں چیئرمین کی حیثیت سے۔ اس موقع پر میں نے کوئی باضابطہ تقریر نہیں کی۔ ابتدا میں میں نے چیئرمین کی حیثیت سے اختتامی کلمات کہے۔ اس کے بعد دوسرے حضرات نے اپنے اپنے مقالات پیش آخر میں میرے افتتاحی کلمات پر جلسہ ختم ہوا۔

۹ اکتوبر کو صبح کی نشست خاص طور پر میری دلچسپی کی تھی۔ اس کا موضوع تھا اسلام اور عالمی چیلنج (Islam and the challenges of the world) اس موضوع پر میں نے اپنا انگریزی مقالہ پیش کیا۔ یہ مقالہ انشاء اللہ انگریزی رسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ ۹ اکتوبر کو آخری نشست میں لوگوں کے مقالات پر تبصرہ میرے ذمہ تھا۔ میں نے دوران کارروائی اپنا دو صفحہ کا تبصرہ انگریزی میں لکھا اور اس کو آخر میں لوگوں کے سامنے پیش کیا۔

میرے مذکورہ مقالہ کے سلسلہ میں ایک عجیب بات پیش آئی۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنی یادداشت کی ڈائری میں جو الفاظ لکھے تھے وہ یہاں نقل کئے جاتے ہیں :

۹ اکتوبر کو دوبارہ میڈیٹرینین کانفرنس سینٹر میں اجتماعات ہوئے۔ مختلف لوگوں نے اپنے اپنے مقالات پیش کئے۔ یہاں ۸۰ ملکوں کے لوگ آئے ہیں۔ اور ہر بڑے مذہب کی نمائندگی کر رہے چنانچہ ہر ایک اپنے اپنے خیالات پیش کر رہا ہے۔

آج میری تقریر کا موضوع تھا: اسلام اور جدید عالمی چیلنج۔ میں نے اس موقع کے لئے ایک مقالہ تیار کر کے پیشگی طور پر دہلی سے بھیج دیا تھا۔ کانفرنس کے منتظمین نے اس کی کاپیاں بھی تیار کر لی مگر مالٹاآنے کے بعد شرکاء کا نفرنس سے جو باتیں ہوئیں اور لوگوں کے ذہن کا جو اندازہ ہوا، اس کے بعد میں نے چاہا کہ نئے پہلو سے میں اپنی بات یہاں پیش کروں۔

یہ ایک مشکل مسئلہ تھا، کیوں کہ بہت کم وقت میں دوبارہ مجھے ایک نیا مقالہ تیار کرنا تھا۔ ۸ اکتوبر کی شام کو اس کے بارے میں سوچتے ہوئے لیٹا اور سو گیا۔ رات کو حسب معمول ساڑھے تین بجے میری نیند کھل گئی۔ میں بستر سے اٹھا۔ وضو کر کے ہوٹل کے کمرہ میں دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد اپنی نئی تقریر لکھنے کے لئے میز پر بیٹھ گیا۔

آج صبح ۱۱ بجے کی نشست میں مجھے یہ مقالہ پیش کرنا تھا۔ میں نے تیزی سے اپنے خیالات جمع کئے اور ان کو کاغذ پر لکھنا شروع کیا۔ درمیان میں صرف فجر کی نماز کے لئے ایک بار اٹھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ سورج نکلتے نکلتے میرا مقالہ تیار ہو چکا تھا۔

اس کے بعد کمرہ کے ٹیلی فون کے ذریعہ کانفرنس کے منتظمین سے رابطہ قائم کیا۔ انہیں بتایا کہ میں نے اپنا مقالہ بدل دیا ہے۔ اور اب میرے ہاتھ کے لکھے ہوئے نئے مسودہ کو ٹائپ کرانا ہے۔ انھوں نے مقالہ بدلنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ فوراً ہی انھوں نے اس کو حاصل کر کے ٹائپسٹ کے حوالے کر دیا۔ ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد ٹائپ کیا ہوا مقالہ میرے ہاتھ میں موجود تھا۔ کانفرنس میں میں نے یہی دوسرا مقالہ پیش کیا۔

قاہرہ کے مفتی شیخ طنطاوی نے عربی میں تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے، اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں۔ الاصل في العلاقات السلام، القتال لايكون الا للمقاتلين، لا يرجع المرء الى الحرب الا اذا كان مضطراً ۔ یروشلم سے بھی ایک ربی آئے تھے۔ انھوں نے یہودی مذہب کی ترجمانی کی۔ نے اپنی انگریزی تقرير ميں کہا کہ فلسطین کی مقدس سرزمین لوگوں کے دلوں میں امن کا جذبہ پیدا کرنے کا ذریعہ ہے :

The Holy Land is a source of inspiration for peace. ربی کی تقریر سن کر مجھے خیال آیا کہ امتحان کی اس دنیا میں شاید الفاظ سب سے بڑا فتنہ ہیں۔ بات خوبصورت لفظوں میں ڈھل جاتی ہے ، خواہ باعتبار حقیقت وہ کتنا ہی بے اصل کیوں نہ ہو ۔ ۸ اکتوبر کو شام کا کھانا ناصر مالٹک کے پیلس میں تھا۔ یہ ایک بہت بڑا محل ہے جس کو غالباً انگریزوں نے بنایا تھا۔ ہم لوگ ایک بڑے ہال میں پہنچائے گئے۔ وہاں اعلیٰ تواضع کا انتظام تھا۔

کچھ دیر میں صدر مالٹا مسٹر تابن (Censu Tabone) ہال میں آئے اور لوگوں سے ملنے لگے۔ ہال کے کنارے کچھ لوگوں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا، ایک صاحب نے کہا کہ آپ بھی چلیں، پریذیڈنٹ سے مصافحہ کر لیں۔ مگر میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ کچھ دیر کے بعد خود پریذیڈنٹ صاحب میری طرف آئے اور سلام اور مصافحہ کیا۔ وہ ۱۹۸۹ سے مالٹا کے صدر ہیں۔

مذکورہ صدر میرے بارہ میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ یہ صرف ان ملکوں کے عام رواج کی بات ہے کہ وہ اس طرح سادہ طور پر ہر ایک سے ملاقات کر رہے تھے۔ اسی قسم کا تجربہ مجھے مالٹا ایئر پورٹ پر بھی ہوا تھا۔ ہم لوگ ایئر پورٹ کے جس کمرہ میں بٹھائے گئے، وہاں پہلے سے مالٹا کے ایک وزیر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم کو دیکھ کر وہ بلا تکلف فوراً اٹھ گئے اور کہا کہ آپ لوگ یہاں اطمینان سے بیٹھیں، میں دوسرے کمرہ میں چلا جاتا ہوں۔

کانفرنس کی تنظیمی ہیئت کے صدر پروفیسر ریکا رڈی (Andrea Riccardi) ہیں۔ اطالوی اور فرانسیسی زبانیں جانتے ہیں۔ ان سے ترجمان کی مدد سے گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کے مشن سے واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ مین آف ڈائیلاگ ہیں۔

اس جملہ میں دراصل یہ احساس چھپا ہوا تھا کہ مسلم علماء اکثر اس مزاج کے نہیں ہیں۔ سلسلہ میں ایک عالم سے میری گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ مسیحیوں کے ساتھ حوار میں داخل ہونا ہمارے لئے غیر مفید ہے۔ کیوں کہ اس حوار میں مسلمان کمزور و فریق ہوتے ہیں جن کو قومی فریق استعمال کرتا ہے ( المسلمون هم الطرف الضعيف يستخدمهم الطرف القوى)

اس کے مقابلہ میں مسیحی حضرات کا انداز زیادہ حوصلہ مندانہ تھا۔ مثلاً ایک عرب عالم نے ان عصری تحدیات (چیلنجز) کا ذکر کیا جو آج مسلمانوں کو درپیش ہیں۔ اس پر ایک مسیحی عالم نے کہا کہ یہ تحدیات صرف اسلامی تحدیات نہیں ہیں بلکہ وہ تمام ادیان کو در پیش ہیں (هذه التحديات ليست تحديات اسلامية فقط بل هي تحديات تواجهها كل الديانات)، ایک مسیحی مقرر نے کہا کہ حضارت اسلامی کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق مسیحیوں سے بھی ہے۔ حضارت اسلامی کو فروغ دینے میں مسیحی بھی مشترک ہیں۔ انھوں نے بھی اس کے لئے کام کیا ہے۔ البتہ دین ہمارا دوسرا ہے اور مسلمانوں کا دوسرا۔ یوحنا ابراہیم (مسیحی عالم) نے خالص عربی لہجہ میں تقریر

کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ یہ تقریب ۹ اکتوبر کو کانفرنس میں ہوئی۔

کانفرنس میں مسیحی حضرات، ہم لوگوں کو السلام علیکم کے لفظ سے خطاب کرتے تھے اور ان شاء اللہ وغیرہ الفاظ بے تکلف بولتے تھے۔ روم کے ایک مسیحی عالم سے میں نے پوچھا کہ ان شاء اللہ کو اطالوی زبان میں کس طرح کہا جائے گا۔ انھوں نے فوراً ایک کاغذ پر لکھ کر دیا : SE DIO VUOLE ۱۰ اکتوبر کو کانفرنس کا آخری دن تھا۔ صبح کے سیشن میں مختلف لوگوں کی تقریریں ہوئیں۔ مقرر نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہر طرف تبدیلی کی بات کی جارہی ہے مگر عملاً تبدیلی نہیں ہوتی۔ وجہ یہ ہے کہ ہر شخص دنیا کو بدلنے کی بات کر رہا ہے، کوئی بھی شخص اپنے آپ کو بدلنے کے لئے نہیں

Everyone is thinking to change the world; no one is thinking to 11| صحیفہ اسرائیل، کے چیف ربائی نے اپنی تقریر میں امن کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا۔ اس نے کہا کہ امن بھی خدا کا ایک نام ہے :

Printed page