Al-Risala · August 1992

Peace is one of the names of God.

Al-Risala, August 1992, pp. 44–46

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر اسی کے ساتھ جب اسرائیل کا ذکر آیا تو اس نے یہ بھی کہا کہ اس سے اس کی مراد صرف موجودہ اسرائیل نہیں ہے بلکہ وہ پورا علاقہ ہے جس کا خدا نے اسرائیل سے اس کی مقدس کتابوں کے مطابق وعدہ کیا ہے دونوں باتوں میں واضح (Not the only Israel but all the promised land)

مگر جب آدمی کے اندر احتساب خویش کا مادہ نہ ہو تو اس کو اپنے نقائص کی خبر نہیں ہوتی۔ کانفرنس میں جو یہودی علماء اور مسیحی علماء آئے تھے، ان کو میں نے دیکھا کہ وہ بہت اچھی حالت میں ہیں۔ ان کی قوم نے ان کو نہایت اعلیٰ سہولتیں دے رکھی ہیں۔ ان کو اپنی قوم کے اندر عزت بھی حاصل ہے اور ہر قسم کے مادی وسائل بھی۔

میں نے سوچا کہ مذہبی اعتبار سے ہمارے یہاں مسجد کے امام اور مدرسہ کے مولوی کا جو درجہ ہے وہی یہودیوں کے یہاں ربّی کا اور مسیحیوں کے یہاں پادری کا درجہ ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ دوسروں کے یہاں، ان کی مذہبی شخصیت کو جو مقام حاصل ہوتا ہے وہ مقام ہمارے یہاں کی مذہبی شخصیت کو حاصل نہیں۔

اس کی ایک وجہ کانفرنس کے تجربہ میں سمجھ میں آئی۔ میں نے دیکھا کہ یہودی اور مسیحی علماء نہایت اعلیٰ سطح پر اپنے مذہب کی نمائندگی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ عالمی زبانوں میں اپنے مذہب کی وکالت اس طرح کر رہے ہیں جس سے ان کے ہم قوم خوش ہو جائیں۔

یہی خصوصیت اگر مسجد کے امام اور مدرسہ کے مولوی کے اندر آجائے تو وہ بھی مسلمانوں کے اندر اونچا درجہ حاصل کر لے گا۔ مثلاً یہ لوگ اگر انگریزی سیکھ لیں اور مشترک اجتماعات میں انگریزی زبان میں اسلام کی اعلیٰ نمائندگی کرنے کے قابل ہو جائیں تو قوم کے اندر انھیں بھی اعلیٰ رتبہ حاصل ہو جائے گا۔

شام کی آخری کارروائی ساڑھے تین بجے شروع ہوئی۔ کانفرنس کے منتظمین اس کو بہت اہمیت کیوں کہ ان کے نزدیک یہی پوری کانفرنس کا اصل خلاصہ ہوتا ہے۔

پہلے کار کے ذریعہ ہم کو ایک مقام پر پہنچایا گیا۔ یہاں قدیم انداز کا ایک بہت بڑا گیٹ تھا۔ پر لکھا ہوا تھا : باب البلد (Bieb il-Belt) گیٹ کے دوسری طرف سیدھی لمبی سڑک تھی۔ اس سڑک سے ہم کو گزرنا تھا۔ تقریباً ایک کلومیٹر تک سڑک کے دونوں طرف بے شمار عورت اور مرد کھڑے ہوئے تھے۔ گیٹ پر پہنچتے ہی لوگوں نے خوش آمدید کے انداز میں تالیاں بجانی شروع کیا اور سارے راستے میں مسلسل بجاتے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ میری زبان سے نکلا : کیسے عجیب خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جن کا استقبال جنت کے دروازہ پر کیا جائے۔

پروگرام کے مطابق ہر مذہب کے لوگوں کو مخصوص مقامات پر پہنچ کر اپنے اپنے انداز میں عبادت اور دعا کرنا تھا۔ چنانچہ مسیحی حضرات ایک چرچ میں داخل ہو گئے۔ ہم مسلمان تقریباً دس کی تعداد میں تھے۔ آگے پہنچے تو ایک بہت بڑے محل نما مکان کے صحن میں قالین بچھے ہوئے تھے۔ ہم لوگ یہاں بٹھا دیے

یہاں نصیحت اور تذکیر کے انداز میں باتیں ہوئیں۔ سوڈان کے ایک عالم نے کہا کہ یہاں ہم کو اذان دینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ صوفیاء نے اذان کے الفاظ کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ اللہ نے اس مقام پر تجلی فرمائی ہے اس لئے تم لوگ یہاں آؤ (ان الله سبحانه وتعالی تجلی في هذا المكان فهلموا اليه) اس کے بعد انھوں نے کھڑے ہو کر اپنے مخصوص لہجہ میں اذان دی۔

ہے کہ اس محل میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ یہاں اذان کی آواز گونجی۔

یہاں ہم لوگوں نے شیخ طنطاوی کی امامت میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد سوال وجواب کے انداز میں دیر تک مجلس رہی۔ اس میں زیادہ تر دو آدمیوں نے حصہ لیا۔ ایک ایرانی عالم سوال کرتے رہے اور شیخ طنطاوی سنجیدہ علمی انداز میں ان کا جواب دیتے رہے۔ زیادہ تر سوالات "جہاد" کے مسئلے سے تعلق رکھتے تھے۔ شیخ طنطاوی کا نظریہ تھا کہ جہاد بمعنی قتال صرف دفاع کے لئے ہے۔ جب کہ ایرانی عالم کو اس سے اختلاف تھا۔

شروع سے آخر تک اس نشست میں تقریباً تین گھنٹے لگے۔ اس پوری مدت میں مسیحی حضرات بڑی تعداد میں ہمارے چاروں طرف ہاتھ باندھے کھڑے رہے۔ ہماری مجلس کی ساری کارروائی عربی زبان میں تھی۔ اس لئے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتے تھے تاہم مذہبی احترام کے جذبہ کے تحت وہ مسلسل خاموش کھڑے رہے۔ اسی طرح کھڑے ہو کر انہوں نے ہماری باجماعت نماز کو بھی دیکھا۔ یہ مسیحی حضرات جس انہماک اور عقیدت کے ساتھ ہماری نماز کو دیکھ رہے تھے اس کے بارہ میں سوچتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ نماز باجماعت اپنی ذات میں ایک مکمل تبلیغ ہے۔ نمازی کے لئے وہ عبادت ہے اور دیکھنے والوں کے لئے دعوت۔

قرآن میں ہے کہ جن وانس کو صرف اللہ کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے (الذاریات ۵۶) عبادت کی سب سے اعلیٰ اور کامل صورت نماز ہے۔ غور کیجئے تو انسان کی نفسیات اور اس کا جسمانی ڈھانچہ اس طرح ہے گویا وہ نماز پڑھنے ہی کے لئے بنایا گیا ہو۔ ایسی حالت میں جب ایک غیر مسلم مسلمانوں کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھتا ہے، خاص طور پر جماعت کی نماز، تو اس کا پورا وجود خاموش طور پر کہہ اٹھتا ہے کہ یہی وہ چیز ہے جس کو میری فطرت مانگ رہی تھی۔ وہ نماز کو خود اپنی اندرونی طلب کا جواب سمجھنے لگتا ہے۔ اس طرح نماز کو دیکھنا اس کے لئے ایک عملی تبلیغ بن جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بہت سے لوگ نماز کو دیکھ کر مسلمان ہو گئے۔ اس کی وجہ یہی ہے۔ ان کا وجود پہلے سے نماز جیسی ایک چیز کا طالب تھا۔ جیسے کوئی پیاسا آدمی پانی کا طالب ہو۔ جب انہوں نے نماز کو دیکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ ان کے اپنے ہی اندرونی تقاضے کا خارجی مظاہرہ ہے۔ کے تحت انھوں نے بڑھ کر اس کو اختیار کر لیا۔

Printed page