Al-Risala · September 1992

ہجرت کی ضرورت

Al-Risala, September 1992, pp. 8–10

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ ہجرت کی ایک صورت زمینی انتقال ہے۔ مگر یہی کل ہجرت نہیں۔ ہجرت دراصل اسلامی مشن کا ایک مرحلہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک میدان کار میں عمل کرنا بے نتیجہ بن گیا ہو تو مشن کے افراد اس میدان کو چھوڑ کر دوسرے ایسے میدان میں منتقل ہو جائیں جہاں نتیجہ خیز کام کرنے کا امکان نظر آتا ہو۔ پچھلے سو سال سے مسلمانوں نے مبنی برغیر تحریکیں چلائیں اور وہ سب کی سب بے نتیجہ رہیں۔ مسلمانوں کو مبنی بر غیر میدان سے نکل کر مبنی بر خویش میدان میں آجانا چاہیے جہاں نتیجہ حاصل کرنا بلا شبہ یقینی ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستانی مسلمانوں نے پر شور خلافت تحریک چلائی۔ جب اپنے آخری عروج پر پہنچ گئی تو معلوم ہوا کہ اس کا ہراتر کی کے حکمران کمال اتاترک کے ہاتھ میں ۱۹۲۴ میں کمال اتاترک نے خلافت کے ادارہ کے خاتمہ کا اعلان کر دیا اور ہندوستان کی تحریک خلافت اچانک زمیں بوس ہو کر رہ گئی۔

یہی حال موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام تحریکوں کا ہوا ہے۔ ہر بار وہ اپنی تحریک ایسی زمین پر اٹھاتے ہیں جس کا سراکسی اور کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی ہنگامہ خیز تحریک بالآخر کسی غیر کی ایک کارروائی سے ختم ہو جاتی ہے۔ ہر بار یہ ہوتا ہے کہ ابتدا میں مسلمان کامیابی کا جشن مناتے ہیں اور آخر میں شکایت اور فریاد کا دفتر لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال وہ ہے جو اگست ۱۹۹۱ میں پیش آئی۔

اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام چوتھا فقہی سیمینار حیدر آباد میں ۹-۱۲ اگست ۱۹۹۱ کو ہوا۔ اس کی رو داد لکھنو کے ماہنامہ الفرقان ( اکتوبر - نومبر ۱۹۹۱) میں شائع ہوئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

اس سیمینار میں ہندوستان بھر کے علماء و فقہاء نیز مصر، سعودی عرب، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ممتاز اہل علم شریک ہوئے۔ اس سیمینار میں جو مسلم مسائل زیر بحث تھے ان میں سے ایک "ہندوستان کے موجودہ حالات اور مسلمانوں کی جان و مال پر مسلسل منصوبہ بند حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال

میں جان و مال کے انشورنس کا مسئلہ بھی تھا۔

مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ حالات یہ ہیں کہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور اقتصادی طور پر ان کو کنگال بنا دینے کی زبردست کوشش ہو رہی ہے۔ یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ فسادات وقتی جھگڑے سے نہیں پھوٹ پڑتے بلکہ مہینوں پہلے سے کی گئی منصوبہ بند تیاریوں سے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں کیا ہم بدرجہ مجبوری مسلمانوں کو یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں یا اپنے املاک کا بیمہ کروالیں۔ اور انشورنس کی اسکیموں کا فائدہ اٹھائیں۔ کیوں کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ فساد کے موقع پر ان دکانوں کو نہیں جلایا گیا یا ان اموال کو برباد نہیں کیا گیا جن کا بیمہ کرایا جا چکا تھا۔ ہے کہ یہ جان کر کہ مسلمانوں نے اب عام طور پر اپنی جانوں اور اپنی املاک کا بیمہ کرا لیا ہے، انتظامیہ فسادات روکنے کے سلسلہ میں زیادہ چوکس ہو جائے۔

اس مباحثہ کے دوران یاد دلایا گیا کہ 1965 میں مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء (لکھنؤ) نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ضرورت شدید کے پیش نظر اگر کوئی شخص اپنی زندگی یا اپنے مال یا اپنی جائداد کا بیمہ کرائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔

رپورٹ کے مطابق علماء کے درمیان طویل، دلچسپ، پرمغز، مفید اور زور دار مباحثہ کے بعد تقریباً طے ہو گیا کہ فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کو جان و مال کے مسلسل نقصان سے بچانے کے لیے انہیں انشورنس کی اجازت دے دی جائے ۔ پروگرام یہ تھا کہ ۱۲ اگست 1991 کی نشست میں مذکورہ مفہوم کی تجویز پیش کر کے رسمی طور پر اس کو منظور کرا لیا جائے گا۔ مگر عین اس دن حیدر آباد کے ایک مسلم ڈاکٹر وہاں آئے ۔ وہ انشورنس کے قواعد و ضوابط سے متعلق ضروری دستاویزات اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ میں انھوں نے ایک خاص حصہ کو پہلے ہی سے نشان زد کر دیا تھا جو زیر بحث موضوع سے متعلق تھا۔ نشان زد سطروں سے یہ بات مشکوک ہو گئی کہ فسادات کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے افراد کو انشورنس کا فائدہ مل سکے گا۔

ان نشان زد سطروں میں کہا گیا تھا کہ انشورنس کارپوریشن اس بات کی ذمہ دار نہ ہوگی کہ وہ محولہ اے اور بی کے قاعدہ کے تحت کسی شخص کو مقررہ رقم ادا کرے، جب کہ زیر بیمہ شخص کی معذوری یا موت قانون کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہو، یا ان زخموں کے سبب سے ہو جو فسادات، سماجی شورش

یا بغاوت کے دوران پیش آئیں :

مذکورہ واقعہ سامنے آنے کے بعد ساری صورت حال بدل گئی۔ چنانچہ سیمینار میں شرکت کرنے والے سب حضرات نے یہ رائے دی کہ اس حالت میں انشورنس کے بارہ میں کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ چنانچہ اعلان کر دیا گیا کہ اس مسئلہ پر مزید تحقیق کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس کی تجویز آئندہ سیمینار میں پیش کی جائے گی۔

1945 سے 1991 تک مسلم رہنما فرقہ وارانہ فسادات کا یہ حل تجویز کرتے رہے کہ مسلمان اپنی جان و مال کا بیمہ کرائیں۔ مگر بیمہ کمپنی پر مسلمانوں کا قبضہ نہیں تھا بلکہ کسی اور کا قبضہ تھا۔ اس نے مسلمانوں کا رجحان دیکھ کر یہ ضابطہ بنا دیا کہ فسادات میں جو ہلاکت ہوگی، بیمہ کمپنی اس کی تلافی کرنے کی ذمہ دار نہ ہوگی۔ کی ایک جنبش قلم سے مسلمانوں کا سارا منصوبہ ڈھ کر رہ گیا۔

Printed page