Al-Risala · September 1992

صبر و تحمل کا کرشمہ

Al-Risala, September 1992, pp. 12–14

By Maulana Wahiduddin Khan

جناب محمد کلیم اللہ صاحب مدراس کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے مکمل حوالے کے ساتھ مدراس کے دو تقابلی واقعات ہمیں لکھ کر بھیجے ہیں۔ ان واقعات میں بہت بڑا سبق ہے۔ موصوف کا پتہ یہ ہے : Mohammad Kalimullah, 352, T.T.K. Road, Raya Pettah, Madras 600014. ان کا خط مورخہ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۱ اور مورخہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۱ ہمارے سامنے ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے مدراس کے انگریزی روز نامہ ہندو کی ایک کاپی روانہ کی ہے جس کے صفحہ ۳ پر مذکورہ واقعہ کی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ مکمل طور پر اس صفحہ کے نیچے نقل کی جارہی ہے۔ خبر یہ ہے : مدراس میں ہر سال گنیش چتر تھی کا جلوس نکلتا ہے۔ پچھلے سال ہندوؤں کا یہ مذہبی جلوس ۲۱ ستمبر ۱۹۹۱ کو نکلا تھا۔ یہ جلوس چلتا ہوا ٹرپلی کین ہائی روڈ میں داخل ہوا۔ یہ ایک مسلم علاقہ ہے یہاں مسجد کے سامنے باجا بجایا گیا اور اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے ۔ اس پر مسلمان مشتعل ہو گئے۔ آخر کار مسلمانوں اور پولیس کے درمیان باقاعدہ لڑائی شروع ہو گئی۔ پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجہ میں دو مسلمان مارے RESTRAINT PREVENTED LARGE SCALE VIOLENCE Two organisations -- Citizens for a Secular Society and Penn -- a Centre for Women’s Studies -- have expressed deep concern over the Vinayaka Chathurthi procession on Sunday. In a statement they said “the processions were far from religious in nature. What we found instead was an aggressive and communal campaign directed against members of the minority community. The processionists were boister- ous young men, a number of them carrying sticks, shouting slogans like ‘This is a Hindu nation and only Hindus can live here.’ ‘We will destroy the mosque and build a Ram temple.’ ‘Fearless Hindus, come forward as a battalion.’ This show of communal viciousness made a mockery of a supposedly religious occasion. Members of the minority community, on the whole showed great re- straint. It was this, combined with effective police presence that, in our opinion, prevented large scale violence. The attention of the public is drawn to this transforming of a religious event by blatantly communal and political organisations. The Hindu (Madras), September 26, 1991.

بہت سے زخمی ہوئے مسلمانوں کی کئی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی ۔ جانی اور مالی دونوں نقصان صرف مسلمانوں کا ہوا۔

گنیش چتر تھی کا یہ جلوس اس سال بھی ۲۱ ستمبر ۱۹۹۱ کو نکالا گیا۔ مگر اس سال مسلمانوں نے جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا۔ انھوں نے اس بار اعراض کرو اور کامیابی حاصل کر و “ کا فارمولا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلوس نے حسب معمول مسلم محلہ میں جابجا بجایا اور اشتعال انگیز نعرے بھی لگائے۔ مگر مسلمانوں نے نہ تو روٹ بدلنے کا مطالبہ کیا اور نہ وہ اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس سڑک پر چلتا ہوا گزر گیا ۔ مسلمانوں کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ علاقہ میں مکمل طور پر امن

موجودہ واقعہ پر مدراس کے انگریزی اخبار ہندو ( ۲۶ ستمبر ۱۹۹۱) نے جو رپورٹ چھاپی ہے وہ نہایت سبق آموز ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال کے برعکس ، اس سال جلوس کے واقعہ پر فساد نہ ہونے کا خاص سبب مسلمانوں کا صبر و تحمل کا رویہ تھا ، دو ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے ہندوؤں کے جلوس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مذہب کے نام پر فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جلوس والوں نے اقلیتی فرقہ کے خلاف قابل اعتراض نعرے لگائے جن کا مذہب سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔ انھوں نے مدراس پولیس کی بھی تعریف کی جس نے شہر کو نقض امن سے بچانے کی مؤثر تدابیر اختیار کیں (صفحہ ۳)

اس خبر پر غور کیجئے ۔ ایک ہی واقعہ ایک ہی محلہ میں دو بار ہوتا ہے ، ایک بار وہاں فساد ہو جاتا ہے ، اور دوسری بار فساد نہیں ہوتا۔ اس فرق کا سبب جلوس والوں کا رویہ نہیں ہے بلکہ محلہ والوں کا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فساد کا ہونا یا نہ ہونا تمام تر محلہ والوں کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہیں تو ایک قسم کا رد عمل اختیار کر کے معاملہ کو فساد تک پہنچا دیں اور چاہیں تو دوسرے قسم کا رد عمل اختیار کر کے فساد کی جڑ کاٹ دیں۔

دوسرا سبق اس میں یہ ہے کہ مسلمان اگر ان مواقع پر مخالفانہ ردعمل کا مظاہرہ کریں تو معاملہ پولیس اور مسلمان کا بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو معاملہ جلوس والوں کا اور پولیس کا رہتا ہے۔ ایک صورت میں مسلمان پولیس کے نشانہ پر آ جاتے ہیں اور دوسری صورت

میں جلوس والے۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ تحمل کا رویہ نہایت اثر کرنے والا رویہ ہے۔ چنانچہ مدرس کے مذکورہ واقعہ پر جب مسلمانوں نے تحمل کا رویہ اختیار کیا تو خود اکثریتی فرقہ کے اندر سے ایسے افراد اٹھے جنھوں نے جلوس والوں کی مذمت کی۔ اور مسلمانوں کی شرافت کا واضح طور پر اعتراف کیا۔ مسلمانوں کو شاندار پر سراہا گیا اور دوسرے گروہ کو کنڈم کیا گیا۔

یہ سارا کرشمہ صرف ایک چیز کا تھا، اور وہ صبر ہے جس کو اخبار ہندونے اپنے تبصرہ میں برداشت (restraint) کا نام دیا ہے۔

Printed page