Al-Risala · September 1992

قرآن کی ہدایت

Al-Risala, September 1992, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم لوگ صبر کا طریقہ اختیار کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ ان سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے (و ان تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً ان الله بما يعملون محيط) آل عمران ۱۲۰ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ صبر اور تقویٰ کے ذریعہ شر پسندوں کے شر سے اور فاجروں کی سازش سے اپنے آپ کو بچائیں (یر شدھم الله تعالى الى السلامة من شر الاشرار وكيد الفجار باستعمال الصبر والتقوى) تفسیر ابن کثیر ۴۹۹/۱ صفوۃ التفاسیر میں ہے کہ اگر تم نے ان کی ایذا پر صبر کیا اور اپنے اقوال اور اعمال میں تم اللہ سے ڈرے تو ان کی سازش اور ان کی تدبیر تم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ پس اللہ نے ان کے ضرر کو ختم کرنے کے لیے صبر اور تقویٰ کی شرط لگائی (ای إن صبرتم على اذاهم واتقيتم الله في اقوالكم وأعمالكم لا يضركم مكرهم وكيدهم - فشرط الله تعالى نضر ضرهم بالصبر والتقوى) ۲۳۶/۱ ہندوستان میں فرقہ پرستوں کے جلوس اور ان کے دل آزار نعروں کے سلسلہ میں صبر اور تقویٰ کا انطباق کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مسلمان ان کی مشتعل انگیزی کے باوجود اشتعال نہ ہوں۔ وہ ان کی دل آزاری کو یک طرفہ طور پر برداشت کر لیں۔ وہ رد عمل کا اظہار کرنے کے بجائے خاموشی کا رویہ اختیار کریں۔ ہمیشہ صبر کے رویہ پر قائم رہیں۔

دوسرے یہ کہ کسی حال میں بھی تقویٰ کی روش نہ چھوڑیں۔ ایسے مواقع پر دنیوی انجام سے زیادہ اخروی انجام کو وہ اپنے سامنے رکھیں۔ وہ قوم پرستی کے بجائے اصول پسندی کا انداز اختیار فریق ثانی کی دشمنی کے باوجود وہ اس سے ساتھ بے انصافی نہ کریں۔ وہ جو کچھ کریں یہ سمجھ کر کریں کہ

ان کو اللہ کے یہاں اس کا جواب دینا ہے۔ وہ اللہ کے معاملہ میں حساس اور انسانوں کے معاملہ میں غیرحساس

مسلمان اگر اس طرح صبر وتقویٰ کا طریقہ اختیار کریں تو یقینی طور پر مخالفین کی ہر سازش بے اثر ہو جائے گی۔ ہر مخالفانہ تدبیر ان کے حق میں ناکام ثابت ہوگی۔

مذکورہ آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ ان اللہ بما يعملون محيط (اللہ ان کی سرگرمیوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے) یہ فقرہ بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے شرپسندوں کے شر سے بچاؤ کے لیے صبر و تقویٰ کے جس طریقہ کی تعلیم دی ہے وہ ایک ایسا طریقہ ہے جو معاملہ کے اوپر پوری طرح حاوی ہے۔ وہ یقینی طور پر ایک بے خطا طریقہ ہے۔ وہ کبھی ناکام ہونے والا نہیں۔

اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ وہ انسان کی سرشت اور اس کے مزاج سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس نے جو اصلاحی اور دفاعی تدبیر بتائی ہے وہ اپنے علم کلی کے تحت بتائی ہے۔ اللہ کے لیے یہ ایک پوری طرح معلوم مسئلہ کا پوری طرح معلوم جواب ہے۔ یہ حل تمام متعلق پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی بھی صورت حال ایسی نہیں جو اس کے دائرہ اثر سے خارج ہو۔

ان خصوصیات نے اس حل کو ایک بے خطا حل بنا دیا ہے۔ تم جب بھی اس کو استعمال کرو گے اس کا نتیجہ تمہارے حق میں ہی نکلے گا۔ کوئی بھی انسانی گروہ اس کے دائرہ سے باہر نہیں۔ شر انگیزی کی کوئی بھی آگ ایسی نہیں جو اس طریقہ کو کام میں لاکر بجھائی نہ جاسکتی ہو۔ اس تدبیر کے اندر ہر مجرم کو ناکارہ بنا دینے کی طاقت ہے ، خواہ بظاہر وہ کیسا ہی خطرناک بم کیوں نہ ہو۔

Printed page