Al-Risala · September 1992

کامیابی کا راز

Al-Risala, September 1992, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

روزنامہ قومی آواز (۲۱ اپریل ۱۹۹۱) میں مسٹر مشتاق احمد، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا کا مراسلہ اس مراسلہ کا ایک حصہ یہ ہے :

”جس زمانہ میں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا طالب علم تھا، وہاں کے شعبہ تاریخ کے کیپٹن افتخار احمد خاں نے اپنی طالب علمی کے زمانہ کا ایک واقعہ سنایا۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ یورپ کے یہودیوں پر عرصہ حیات تنگ ہو چکا تھا۔ وہ جرمنی سے بھگائے گئے افتخار احمد خاں صاحب روزانہ یونیورسٹی کیمپس میں دیکھتے تھے کہ طلبہ کا ایک گروہ ہے۔ انداز دوسرے طلبہ سے مختلف ہے۔ وہ عام طلبہ سے زیادہ مطالعہ کرتا ہے۔ کھانے کے اوقات میں جلدی سے لنچ کر کے وہ مطالعہ میں یا مطالعہ سے متعلق کاموں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ ایک دن انھوں نے طلبہ کے اس خاص گروہ سے سوال کیا کہ وہ لوگ کیوں جنون کی حد تک محنت کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک طالب علم نے جواب دیا : دیکھئے، ہم یہودی ہیں۔ ہم کو جرمنی سے جلا وطن کر دیا گیا ہے۔ اقلیت میں ہیں۔ اس لیے اگر ہمارا حریف خوب ہے تو ہم کو خوب تر ہونا ہے۔ اگر وہ بہت اچھا ہے تو ہم کو اس سے بھی زیادہ اچھا بننا ہے۔

یہودیوں کی ترقی کا راز یہ ہے کہ انھوں نے اپنے مد مقابل سے زیادہ محنت کر کے امتیازی حیثیت حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا شیوہ بنالیا۔ محنت کرنے کے لیے ذہنی سکون اور یکسوئی چاہیے۔ اور یکسوئی کے لیے اپنے آپ کو چھوٹے بڑے جھگڑوں سے ، احتجاجی کیفیت سے ، اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے سے اور نعرہ بازی سے الگ رکھنا پڑتا ہے۔ یہودیوں نے اس حقیقت کو جان لیا کہ جب وہ اقلیت میں ہیں تو ان پر ایک بہت بڑی تاریخی اور سماجی ذمہ داری عائد اور وہ یہ کہ وہ اکثریت سے دگنا زیادہ محنت کریں (صفحه ۳)

یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز محنت اور دانش مندی ہے۔ یہودی ہو یا غیر یہودی۔ کوئی عام امت ہو یا خیر امت، ہر ایک کو ایک ہی امتحان میں کھڑا ہونا ہے۔ یہاں کسی کے لیے کوئی استثناء نہیں۔

اس معاملہ میں یہودیوں کا احساس اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ خود اپنے اداروں میں بھی اپنے نوجوانوں کو رعایت نہیں دیتے، تاکہ ان کا زیادہ محنت کا جذبہ سرد نہ ہونے پائے۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے امریکہ میں سائنس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اب وہیں ایک تعلیمی ادارہ میں کام کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ امریکہ میں آپ کی ملاقات کیا کچھ یہودیوں انھوں نے کہا ہاں۔ خود ہمارے ادارے میں کئی یہودی کام کر رہے ہیں۔ ہمارا ڈائرکٹر بھی

میں نے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ یہودی امریکہ میں بہت کامیاب ہیں جب کہ وہ وہاں کی بہت چھوٹی اقلیت ہیں۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک لفظ میں اس کا راز امتیاز (Excellence) ہے۔ انھوں نے امتیازی لیاقت کو اپنا نشانہ بنایا ہے، اور جب امتیازی لیاقت کا درجہ آجائے تو کوئی بھی آپ کی کامیابی کو روک نہیں سکتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں یہودیوں نے جو تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں، ان میں انھوں نے بڑا عجیب اصول رائج کیا ہے۔ ان کے تعلیمی اداروں میں غیر یہودی طالب علموں کو اسکالرشپ کا مستحق بننے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ امتحان میں ۴۰ فی صد نمبر حاصل کریں۔ مگر یہودیوں کے لیے ان کا معیار بے حد سخت ہے۔ یہودی طالب علموں کو اسکالرشپ حاصل کرنے کے لیے ۷۵ فی صد نمبر لانا ضروری ہے۔ اگر ان کے نمبر ۷۵ فی صد سے کم ہوں تو ان کو اسکالرشپ (وظیفہ) نہیں دیا جائے گا۔

یہودی خود اپنے اداروں میں ایسا کیوں کرتے ہیں۔ ان کا یہ عمل بظاہر سختی معلوم ہوتا مگر وہ سختی نہیں بلکہ سب سے بڑی ہمدردی ہے۔ اس طرح وہ اپنے نوجوانوں میں محنت کا جذبہ ابھارتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے نوجوانوں میں یہ حوصلہ پیدا کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کو پیچھے چھوڑ کر ان سے آگے نکل جائیں۔

موجودہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں جو لوگ رعایت کے طالب ہوں ان کو صرف پچھلی سیٹوں پر جگہ ملتی ہے، اور جو لوگ امتیازی لیاقت کا ثبوت دیں وہ اگلی سیٹوں پر جگہ پانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

Printed page