Al-Risala · September 1992

کمزور کڑی

Al-Risala, September 1992, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی ایک نازک امتحان ہے۔ زندگی کا راز کسی تمثیل کے انداز میں ان مختصر لفظوں میں بیان کیا ہے کہ کسی زنجیر کی طاقت اس کی اس کڑی سے جانچی جاتی ہے جو زنجیر کی سب سے کمزور کڑی ہو :

The strength of the chain is tested through its weakest link. کسی زنجیر میں ایک سو کڑیاں ہوں۔ اس کی ۹۹ کڑیاں مضبوط ہوں۔ صرف ایک کڑی کمزور ہو۔ زنجیر جب استعمال کی جائے گی تو وہ ۹۹ کڑیوں کی مضبوطی کے باوجود ٹوٹ جائے گی۔ اور اس کے ٹوٹنے کا سبب وہی ایک کڑی ہوگی جس کو مضبوط نہیں بنایا گیا تھا۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال اسی قسم کی زنجیر جیسا ہو رہا ہے ۔ پچھلے سو برس کے اندر مسلمانوں کے درمیان بے شمار رہنما اٹھے۔ انھوں نے مسلمانوں کو مختلف حیثیتوں سے تیار کرنے کی کوشش فخر ماضی ، قومی تشخص ، جذبہ ملی ، جوش جہاد ، شوق شہادت ، ولولہ انقلاب ، مگر ایک کام ایسا تھا جو سرے سے انجام نہیں دیا گیا۔ یہ کام تھا، مسلمانوں کو باشعور بنانا۔ باشعور بنانا کیا ہے۔ باشعور بنانا یہ ہے کہ آدمی کو زندگی کی سائنس بتائی جائے۔ اس کو فطرت کے ان قوانین سے باخبر کیا جائے جن کی رعایت کرتے ہوئے اس کو دنیا میں زندگی گزارنا ہے۔ اس کو ان حقائقِ حیات کا علم دیا جائے جن کے بغیر موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ بے شعور آدمی صرف اپنے آپ کو جانتا ہے ، باشعور آدمی اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جانتا ہے۔ بے شعور آدمی جذباتی ردِ عمل کے تحت کام کرتا ہے ، باشعور آدمی عقلی فیصلہ کے تحت عمل کرتا ہے۔ بے شعور آدمی کا طریقہ غیر منظم ہنگامہ آرائی کا ہوتا ہے ، باشعور آدمی کا طریقہ منصوبہ بند اقدام کا۔

موجودہ صدی مسلم دنیا میں تحریکوں کی صدی ہے۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بے شمار تحریکیں اٹھیں ۔ ان تحریکوں نے سب کچھ کیا مگر وہی ایک ضروری کام نہیں کیا جس کو تعمیر شعور کہا جاتا ہے مسلمانوں کی یہ بے شعوری ان کی مضبوط زنجیر کی کمزور کڑی ثابت ہوئی۔ جو کچھ انھوں نے دوسرے اعتبار سے بظاہر پایا تھا ، وہ عین اسی کمزور کڑی کے مقام پر انھوں نے کھو دیا۔

اس کی ایک مثال ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات ہیں۔ یہ فسادات کوئی استثنائی چیز نہیں ہیں۔ دنیا کے ہر سماج میں وہ اسباب موجود رہتے ہیں جن کو اگر بڑھنے کا موقع دیا جائے تو وہ خوں ریز فساد کی صورت اختیار کر لیں گے۔

ان حالات میں وہی کرنا چاہئے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : ان الفتنۃ نائمة لعن الله من ایقظھا۔ یعنی اسباب فساد کو خوابیدہ حالت میں پڑا رہنے دیا جائے۔ نوبت نہ آنے دی جائے کہ اسباب فساد بڑھ کر واقعہ فساد کی صورت اختیار کر لیں۔ انسانی سماج سے فساد کے امکان کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ حسن تدبیر کے ذریعہ ایسا کیا جا سکتا ہے کہ امکان کو واقعہ بننے سے روک دیا جائے۔ تاہم یہ ایک شعوری عمل ہے۔ مسلمان چوں کہ اس معاملہ میں شعور سے بہرہ مند نہ تھے ، اس لئے وہ فساد کے خلاف تدبیر کا انداز بھی اختیار نہ کر سکے۔

کسی بستی کے مسلمانوں کو یہ خبر ملتی ہے کہ فوق الثانی ان کے خلاف سازش یا اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔ اس قسم کی خبر سننے کے بعد مسلمانوں کے اندر فوری طور پر جو رد عمل ہوتا ہے وہ صرف ایک اور وہ ہے مقابلہ کے لئے اقدام۔ اس معاملہ میں ان کی بے شعوری اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ ہزاروں بار کے ناکام تجربہ کے باوجود اب تک وہ اپنے اس طریق کار پر نظر ثانی نہ کر سکے۔ یہی تمام فسادات کا خلاصہ ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ شعور دیا جائے کہ ایسے مواقع پر صحیح طریق کار یہ ہے کہ وہ مقابلہ کے ذہن سے نہ سوچیں بلکہ تدبیر کے ذہن سے سوچیں۔ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہی طریقہ ثابت ہوتا ہے۔ اور عقل بھی اسی کی صحت کی تصدیق کرتی ہے۔ مسلمانوں کے اندر اگر یہ شعور پیدا ہو جائے کہ اس قسم کی خبر سننے کے بعد وہ مقابلہ کے انداز میں سوچنے کے بجائے حکیمانہ تدبیر کے انداز میں سوچیں تو فسادات کا مسئلہ اس طرح ختم ہو جائے گا جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

زندگی میں اختلاف اور نزاع کی صورت لازمی طور پر پیش آتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ آدمی اگر با شعور ہو تو وہ معاملہ کو کوشش تدبیری کے ذریعہ حل کرے گا۔ اور اگر آدمی باشعور نہ ہو تو وہ جوش اور رد عمل کا مظاہرۃ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شکایت کا ایک معمولی واقعہ بڑھ کر بربادی اور ہلاکت تک پہنچ جائے گا۔ کو تقابلی طور پر سمجھنے کے لئے کچھ متعین مثال لیجئے۔

Printed page