Al-Risala · September 1992

دوسری مثال

Al-Risala, September 1992, pp. 25–27

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ الور (راجستھان) کا واقعہ ہے جس کو مولانامحمد حنیف صاحب نے دہلی میں دسمبر ۱۹۹۰ میں مجھے بتایا۔ الور کے کچھ فرقہ پرست ہندوؤں نے یہ سازش کی کہ الور میں فساد کیا جائے اور مسلمانوں کو لوٹا اور جلایا جائے ۔ یہ واقعہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ سے کچھ پہلے کا ہے۔

اسی زمانہ میں انھوں نے ایک مقامی ہندی اخبار میں ایک بناوٹی خبر چھپوائی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ خان پور کے علاقہ کے میو وہاں کے ہندوؤں کو دھمکی دے رہے ہیں کہ ۳۰ اکتوبر کو اگر بابری مسجد کو نقصان پہنچاتو ہم تم لوگوں کو ذبح کر دیں گے۔ اس دھمکی کی وجہ سے اس علاقے کے ہندو بھاگ رہے ہیں ، حتیٰ کہ ایک ہندو کا نام دے کر کہا گیا کہ فلاں ہندو اسی بنا پر وہاں سے بھاگ کر باہر چلا یہ مسلمان مسجدوں میں ہتھیار جمع کر رہے ہیں۔

یہ خبر ہندی اخبار میں چھپی تو الور میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ کا ماحول پیدا ہو گیا۔ کچھ ہندو لڑکوں نے مظاہرہ کیا۔ اندیشہ ہوا کہ الور میں فساد ہو جائے گا۔

اب ایک صورت یہ تھی کہ الور کے مسلمان " مقابلہ" کے انداز میں سوچتے۔ وہ ہتھیار جمع کرنے میں مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے بجائے کچھ سمجھ دار مسلمان الور کے دوسرے کئی ہندی اخباروں کے ذمہ داروں سے ملے۔ انھوں نے بتایا کہ فلاں اخبار جھوٹی خبریں چھاپ کر شہر میں فساد کا ماحول پیدا کر رہا ہے، اخبار والوں نے کہا کہ آپ تردید لکھ کر دے دیجئے، ہم اس کو اپنے اخبار میں چھاپ دیں گے۔ مگر یہ مسلمان اس راز کو سمجھتے تھے کہ صرف مسلمان کی تردید اس فضا کو ختم کرنے کے لئے کافی نہیں۔ چنانچہ انھوں نے اصرار کیا کہ آپ خود اپنے اسٹاف کے کچھ لوگوں کو موقع پر بھیج کر براہ راست اس کی تحقیق کرائیں۔ وہ لوگ راضی ہو گئے۔ چنانچہ مسلمانوں نے دو گاڑیوں کا انتظام کیا اور تین ہندی اخباروں کے نمائندوں کو ساتھ لے کر خان پور کے علاقہ میں گئے۔

وہاں انھوں نے تفصیل کے ساتھ حالات کا جائزہ لیا۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں سے ملے ۔ ان مسجدوں میں گئے جن کی بابت مذکورہ ہندی اخبار نے کہا تھا کہ وہاں ہتھیار جمع کئے جارہے ہیں۔ وہ اس ہندو کے گھر بھی گئے جس کی بابت خبر میں بتایا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی دھمکی سے خوف زدہ ہو کر اپنے گھر سے بھاگ گیا ہے۔ انھوں نے اس آدمی کے بھائی سے ملاقات کی۔ بھائی نے بتایا کہ دھمکی کی بات

بالکل بے بنیاد ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وہ اس وقت باہر چلا گیا ہے مگر اس کا یہ سفر عارضی طور پر ایک ذاتی سبب کی بنا پر ہے نہ کہ کسی قسم کی دھمکی کی بنا پر۔

ہندی اخباروں کی اس پارٹی نے اپنی ذاتی تحقیق میں یہ پایا کہ مذکورہ خبر سراسر بے بنیاد اور گھڑی ہوئی تھی۔ اس کا کوئی جز بھی سچائی پر مبنی نہ تھا۔ اس کے بعد ان اخباروں کے ہندو نامہ نگاروں نے مفصل رپورٹ مرتب کی اور اس کو اپنے اخباروں میں شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم لوگ خود خان پور کے علاقہ میں گئے اور وہاں ذاتی طور پر تمام باتوں کی تحقیق کی اور ہم نے پایا کہ یہ خبر سراسر غلط ہے۔ اس کے بعد تناؤ اور فساد کا ماحول اپنے آپ ختم ہوگیا۔

اب اس کے برعکس مثال لیجئے ۔ یہ مثال کانپور سے تعلق رکھتی ہے۔ ۱۷ جنوری ۱۹۹۱ کو میری ملاقات جناب نیاز احمد کانپوری (213169.Tel) سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ یوپی میں ہندی کے دواخبار ہیں ، دینک جاگرن ، دینک آج ۔ ان اخباروں میں باہم مقابلہ جاری رہتا ہے۔ وہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کوئی سنسنی خیز خبر نکالیں اور اس کو بڑھا چڑھا کر چھاپیں تاکہ ان کا اخبار زیادہ بک سکے۔ دینک جاگرن نے ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ء سے کچھ پہلے یہ خبر چھاپی کہ کانپور کے مسلمان ہتھیار جمع کر رہے ہیں۔ مسلمان ہندوؤں کے خلاف فساد کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں فرضی طور پر کچھ مسلم محلوں بابو پورہ چمن گنج ، فیمتھ فل گنج وغیرہ کا نام بھی چھاپ دیا۔ اس کے فوراً بعد مسلمانوں نے یہ کہا کہ احتجاجی طور پر دینک جاگرن کی کاپیاں لے کر کئی روز تک ان کو سڑکوں پر جلاتے رہے۔ مسلم ہوٹلوں میں دینک جاگرن کا بائیکاٹ کیا گیا، وغیرہ۔

اس سلسلہ میں دو طرفہ طور پر مختلف قصے ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ نام نہاد انصاف پارٹی کے ایک مقامی لیڈر کے کہنے پر مسلمانوں نے کانپور بند کی کال دی۔ ۸ دسمبر کو کانپور کے مسلمانوں کی دکانیں بند مسلم نوجوانوں نے جلوس نکالے۔ بعض محلوں میں دکانیں بند کروانے کے سلسلہ میں جھڑپیں جلوس کے لوگ تشدد پر اتر آئے۔ اس کے بعد پولیس آئی۔ پولیس نے ہوائی فائر کیا۔ کے نتیجہ میں بھگدڑ مچی اور کچھ مسلمانوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ بعد کو جب مسلمان چھوڑے گئے تو مسلمانوں نے دوبارہ جلوس نکالا۔ اس جلوس کے دوران ایک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں ٹکراؤ ہو گیا۔ پولیس اور مسلمانوں کے درمیان باقاعدہ لڑائی ہوئی ۔ مسلمان اپنی چھتوں پر چڑھ کر پولیس

کے خلاف پتھر اور بم وغیرہ آزادانہ استعمال کرتے رہے۔ یہ واقعہ ال دسمبر ۱۹۹ کا ہے۔ یہ فساد تین دن تک باقاعدہ جاری رہا۔ جناب نیاز احمد صاحب کے بیان کے مطابق ۱۱ مسلمان مارے گئے ۔ ۱۰۹ دکانوں اور مکانوں کو جلا دیا گیا۔

وہی واقعہ جو الور میں خوش تدبیری کے نتیجہ میں ایک قطرہ خون بہائے بغیر ختم ہو گیا، وہی واقعہ کانپور میں جان و مال کی تباہی کا سبب بن گیا۔ احساس کے نتیجہ میں نفرت اور تعصب کا جو زہر مقامی طور پر پھیلا اور پریس کے ذریعہ پورے ملک کے لوگوں کے دلوں میں داخل ہوا، وہ اس کے علاوہ ہے۔ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ مختلف عنوان سے ایک اور دوسرے کے درمیان نزاع اور کش کش کی صورتیں پیدا ہوں۔ ایسا ایک خاندان کے افراد کے درمیان بھی ہوگا اور ملک کے مختلف فرقوں کے درمیان بھی۔ ایسے واقعات ایک قومی سماج میں بھی پیش آئیں گے اور دو قومی سماج میں بھی۔

ایسی حالت میں جو لوگ ایسا کریں کہ وہ ہر ناخوشگوار واقعہ پر جھنجھلا کر لڑنے لگیں تو وہ صرف اپنی ناکامی کا گڑھا کھودیں گے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر رد عمل کے بجائے حکیمانہ عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ آگ کو بھڑکانے کے بجائے آگ کو بجھانے کی تدبیر کی جائے ۔ فساد کے بم پر بم نہ مارا جائے ، بلکہ فساد کے بم کو خوش تدبیری سے ڈیفیوز (ناکارہ) کر دیا جائے ۔

اس طرح کے معاملات کا یہی ایک واحد حل ہے۔ اس کے سوا ہر دوسرا طریقہ فساد میں اضافہ کے سوا کسی اور انجام تک پہنچنے والا نہیں۔ آج سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو با شعور بنایا یہ مسئلہ بے شعوری کے سبب سے پیدا ہوا ہے اور مسلمانوں کو باشعور بنا کر اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔

Printed page