ایک علامتی مثال
Al-Risala, September 1992, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے ایک مشہور مسلم دانشور کی ایک انگریزی کتاب پنگون بکس (Penguin Books) سے چھپی ہے۔ ۴۷۴ صفحہ کی اس کتاب کا نام ہے محمد اور قرآن :
Muhammad and the Quran (1991)
اس کتاب کے آغاز میں ڈیڈیکیشن کا ایک صفحہ شامل ہے۔ اس میں مصنف نے کہا ہے کہ ـــــ میرے بیٹوں مسٹر اکمل اور مسٹر کمال کے نام ، جنہوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اس مذہب کے بارے میں صحیح واقفیت حاصل کریں جن کے اندر وہ پیدا ہوئے ہیں ، تاکہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی اور ایل یونیورسٹی میں اپنے دوستوں سے معلوماتی تبادلہ کر سکیں جہاں اب بھی اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں موجود ہیں۔ بنجیمن ڈزرائیلی کے الفاظ میں ، وہ اپنی غلط آگہی کی تصحیح کر سکیں :
To my sons, Akmal and Kamal, who wanted to have a correct perception of the religion into which they have been born, so that they could share the knowledge with their friends of Harvard and Yale, where misconceptions about Islam still persist. In the words of Benjamin Desraeli, they may have to 'learn to unlearn.' اسلام کے بارہ میں دوسروں کی تصحیح فکر کی کوشش قابل قدر ہے۔ تاہم ایک اور معاملہ میں خود مصنف اور ان کے جیسے ہزاروں مسلم دانشور بھیانک غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اس غلط فکری کی تصحیح کریں۔ یہ ہندوستان میں مسلمانوں کی صورت حال کا مسئلہ ہے جس کے معاملہ میں مصنف سمیت ، ہزاروں مسلم دانشور اور رہنما ہلاکت خیز حد تک شدید غلط فکری کا شکار ہیں۔ وہ غلط فکری یہ ہے کہ ان مسلم دانشوروں اور رہنماؤں میں سے ایک ایک شخص ہندوستان میں اعلیٰ حیثیت اصل کیے ہوئے ہے۔ ان کے بیٹے اسی ملک کے حالات میں بڑی بڑی ترقیاں کر رہے ہیں۔ مگر جب مسلم ملت کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے تو وہ خود اپنی اس دریافت کردہ حقیقت سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ چانک انہیں نظر آنے لگتا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لیے تباہی و بربادی کے سوا کوئی اور انجام
وہ اپنے خاندان کو ترقی کے اعلی مدارج پر پہنچارہے ہیں، مگر انہیں نہیں معلوم کہ وہ ملت کے وسیع تر خاندان کو کس طرح ترقی کا راستہ دکھائیں۔
مذکورہ مسلم دانشور کی مثال لیجئے ، ایک طرف ان کا حال یہ ہے کہ ان کے بیٹے ۱۹۴۷ کے بعد کے ہندوستان میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں یہاں وہ امکانات مل جاتے ہیں جن کو استعل کرکے وہ بہترین تعلیم حاصل اس کے بعد انہیں مغرب میں مواقع مل جاتے ہیں تاکہ وہاں کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لے کر مزید اعلی تعلیم حاصل کرکے اپنے لیے شاندار مستقبل کی تعمیر کرسکیں۔ مگر انہیں مسلم دانشور کے سامنے جب ملت کا مسئلہ آتا ہے تو وہ ملت کے بارہ میں ان تمام امکانات سے بالکل بے خبر ہوجاتے ہیں۔ اپنے بچوں کے لیے انہیں اسی ملک میں روشن مستقبل دکھائی دیتا ہے اور قوم کے بچوں کے لیے صرف تاریک مستقبل ۔
یہاں میں مذکورہ مسلم دانشور کے ایک مضمون کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں سے ہے اور جو دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (۲۴ نومبر ۱۹۹۱) میں شائع ہوا ہے۔ موصوف اپنے مضمون میں بتاتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں نہایت بری حالت (miserable condition) میں ہیں۔ ہندو فرقہ پرست جماعتوں کی مسلم دشمنی مسلمانوں کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ ان جماعتوں نے اکثریتی فرقہ کے اندر متعصبانہ ذہنیت پیدا کردی ہے۔ سرکاری دفتروں میں جاتے ہیں تو ان کے ساتھ سردمہری کا سلوک کیا جاتا ہے۔ حکومت کو مسلمانوں کی تباہی بربادی سے کوئی دل چسپی نہیں۔ اندرا گاندھی کے زمانہ میں گوپال سنگھ کمیشن اور گجرال کمیشن نے اقلیتی مفاد کے لیے سفارشیں پیش کیں مگر اب تک ان کی تعمیل نہ جاسکی۔ فرقہ وارانہ فساد نے مسلمانوں کو عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کردیا ہے۔ وغیرہ، ما وغیرہ۔
مذکورہ دانشور کا پورا مضمون اسی قسم کی مایوس کن باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کو میں نے پڑھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا : کاش یہ دانشور مذکورہ مضمون کے بجائے ایک اور مضمون لکھتے اور اس میں یہ بتاتے کہ ان کے بچوں نے کس طرح اسی ہندوستان میں پڑھ کر اتنی ترقی کی کہ وہ امریکہ کی یونی ورسٹیوں میں پہنچ گئے اور اب وہ شاندار مستقبل کی طرف اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ ہندوستانی مسلمانوں کو زیادہ فائدہ پہنچاتے۔ کیوں کہ اس سے مسلمانوں کو تجرباتی طور پر یہ معلوم ہوتا کہ وہ اس ملک میں اعلیٰ ترین ترقی کرسکتے ہیں۔ مذکورہ مضمون تو انہیں مایوسی کے سوا کوئی اور تحفہ دینے والا نہیں۔