سروے کی ضرورت
Al-Risala, September 1992, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے ایک مسلم رہنما کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو تباہ کیا جارہا ہے اور یہ عمل ۱۹۴۷ء سے نہایت منظم طور پر جاری ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اس معاملہ کا اور سب سے پہلے خود ان رہنما حضرات کا جائزہ لیجئے جو اس ملی حادثہ کی خبر دے رہے یہ رہنما حضرات بھی مسلم ملت کا جزو ہیں۔ اس لیے ان کا بھی وہی انجام ہونا چاہیے جو ملت کے دوسرے افراد کا انجام ہو رہا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ باریش رہنماؤں اور بے ریش رہنماؤں کی ایک فہرست بنائیے ۔ اس کے بعد ایک شخص کے بارہ میں پتہ کیجئے کہ ۱۹۴۷ء میں اس کی کیا حالت تھی اور آج اس کی کیا حالت ہے۔ آپ معلوم کیجئے کہ ۱۹۴۷ء میں ان کی ذات پر ماہانہ کتنا خرچ ہوتا تھا اور آج ان کی ذات پر ماہانہ کتنا خرچ ہوتا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں ان کے پاس سفر کے لیے کون سی سواری تھی اور آج ان کے پاس سفر کے لیے کون سی سواری ہے۔ ۱۹۴۷ء میں وہ کس مکان میں رہتے تھے اور آج وہ اور ان کا خاندان کس مکان میں ۱۹۴۷ء میں سالانہ وہ ہوائی جہاز کا کتنا سفر کرتے تھے اور آج وہ جہاز کا کتنا سفر کرتے ہیں۔ ۱۹۴۷ء میں ان کی کتنی کتابیں چھپی تھیں اور اب ان کی کتنی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ۱۹۴۷ء میں وہ کتنے اداروں کی صدارت اور نظامت کر رہے تھے اور آج وہ کتنے اداروں کی صدارت اور نظامت کر رہے ہیں۔ ۱۹۴۷ء میں ان کی قومی یا بین اقوامی پوزیشن کیا تھی اور آج ان کی قومی یا بین اقوامی پوزیشن کیا ہے۔ اس سروے میں آپ حیرت انگیز طور پر پائیں گے کہ بلا استثناء ہر رہنما، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ۱۹۴۷ء کے بعد اس نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ پھر جب مسلم رہنما اس ملک میں شاندار ترقیاں حاصل کر رہے ہیں تو عام مسلمان آخر کس بنا پر ترقی سے محروم رہیں گے۔