Goodwill is the mightiest force in the universe.
Al-Risala, January 1992, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ محض ایک شخص کا قول نہیں ، یہ ایک فطری حقیقت ہے۔ انسان کے پیدا کرنے والے نے انسان کو جن خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے ، ان میں سے اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ کسی آدمی کے ساتھ برا سلوک کیا جائے تو وہ پھر اٹھتا ہے ، اور اگر اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تو وہ احسان مندی کے احساس کے تحت سلوک کرنے والے کے آگے جھک جاتا ہے۔
اس عام فطری اصول میں کسی بھی شخص کا کوئی استثناء نہیں۔ حتی کہ دوست اور دشمن کا بھی نہیں۔ آپ اپنے ایک دوست سے کڑوا بول بولئے ۔ اس کو بے عزت کیجئے۔ اس کو تکلیف پہنچائیے ۔ دیکھیں گے کہ اس کے بعد فوراً وہ ساری دوستی کو بھول گیا ہے ۔ اس کے اندر اچانک انتقامی جذبہ جاگ وہی شخص جو اس سے پہلے آپ کے اوپر پھول برسا رہا تھا ، اب وہ آپ کے اوپر کانٹا اور آگ برسانے کے لیے آمادہ ہو جائے گا۔
اس کے برعکس ایک شخص جس کو آپ اپنا دشمن سمجھتے ہیں ، اس سے میٹھا بول بولئے ۔ کوئی ضرورت پوری کر دیجئے۔ اس کی کسی مشکل کے وقت اس کے کام آ جائیے۔ حتی کہ پیاس کے وقت اس کو ایک گلاس ٹھنڈا پانی پلا دیجئے۔ اچانک آپ دیکھیں گے کہ اس کا پورا مزاج بدل گیا ہے۔ اس سے پہلے آپ کا کھلا دشمن دکھائی دے رہا تھا ، وہ آپ کا دوست اور خیر خواہ بن جائے گا۔ خدا نے انسان کی فطرت میں یہ مزاج رکھ کر ہماری عظیم الشان مدد کی ہے۔ اس فطرت نے ایک نہتے آدمی کو بھی سب سے بڑا تسخیری ہتھیار دے دیا ہے۔ اس دنیا میں شیر اور بھیڑیے کو مارنے کے لیے گولی کی طاقت چاہیے ، مگر انسان کو زیر کرنے کے لیے کسی گولی کی ضرورت نہیں۔ لیے حسنِ سلوک کی ایک پھوار کافی ہے۔ کتنا آسان ہے انسان کو اپنے قابو میں لانا۔ مگر نادان لوگ اس آسان ترین کام کو اپنے لیے مشکل ترین کام بنا لیتے ہیں۔