Al-Risala · September 1992

سروسوں کا مسئلہ

Al-Risala, September 1992, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستانی مسلمانوں کی زبانوں کو ہٹانے کے لئے عام طور پر جو چیز پیش کی جاتی ہے وہ سرکاری ملازمتوں کا معاملہ ہے۔ دہلی سے مسلمانوں کا ایک انگریزی ماہنامہ نکلتا ہے۔ وہ اپنے تقریباً ہر شمارہ میں ایسے اعداد و شمار چھاپتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان کس طرح سرکاری ملازمتوں میں اپنے عددی تناسب سے کم حصہ پائے ہوئے ہیں۔ دوسرے مسلم اخبارات و رسائل بھی عام طور پر اسی پہلو کو اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا مشترک طور پر یہ کہنا ہے کہ مسلمان اس ملک کی سرکاری ملازمتوں میں دو فیصد سے زیادہ نہیں، جب کہ آبادی کی نسبت سے ان کی تعداد اس سے زیادہ ہونی چاہئے۔

مگر اعداد و شمار کی یہ منطق درست نہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلمان کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں۔ جب کہ انھیں اداروں کی ڈگریاں سروسوں کے لئے فیصلہ کی اصل بنیاد پھر جو گروہ سروسوں کے لئے مطلوبہ لیاقت میں دوسروں سے پیچھے ہو وہ ان سروسوں میں دوسروں کے برابر کس طرح حصہ پا سکتا ہے۔

مردم شماری کے مطابق، مسلمان اس ملک کی آبادی کا تقریباً بارہ فیصد حصہ ہیں۔ تعداد میں تقریباً نصف کے برابر عورتیں شامل ہیں۔ اپنی سماجی روایات کے مطابق، مسلمان اس کو پسند نہیں کرتے کہ ان کے گھروں کی خواتین سرکاری دفتروں میں جا کر کام کریں، اس طرح خود مسلمانوں کے اپنے نظریہ کے مطابق، ان کی آبادی کا نصف حصہ سرکاری ملازمتوں کی فہرست سے حذف قرار پا جاتا ہے۔ اب بقیہ چھ فیصد میں اگر تین فیصد کو تعلیم کی کمی کی بنا ہر حذف کر دیا جائے تو اس کے بعد دو فیصد کا موجودہ تناسب بہت زیادہ غلط نظر نہیں آئے گا۔

اس سے قطع نظر، جہاں تک مادی خوش حالی کا تعلق ہے، سرکاری ملازمت کے شعبہ کو اس کے لیے معیار (کریائٹیریا) کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی کم از کم دو تحسین و جہیں ہیں۔ ایک یہ کہ سرکاری ملازمت کا تعلق حکومت سے ہوتا ہے اور حکومت پر قابض افراد ہمیشہ ملازمتوں کی تقسیم میں اپنے سیاسی مفاد کا لحاظ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ حکام اگر مخلص ہوں، تب بھی مختلف ملکی اور بین اقوامی مصالح کی بنا پر انھیں سرکاری ملازمتوں کے سلسلہ میں ایسی پالیسی اختیار کرنی پڑتی ہے جس میں فیصلہ کی بنیاد آبادی میں مختلف فرقوں کا عددی تناسب نہیں ہوتا بلکہ وسیع تر مقاصد کی رعایت ہوتی ہے۔ اس بنا پر یہ صورت حال پر سماج اور ہر حکومتی نظام میں ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کے سندھی مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ مرکزی حکومت کی سروسوں میں پنجابی مسلمان اپنے عددی تناسب سے بہت زیادہ حصہ پر قابض ہیں اور سندھی مسلمانوں کو ان کے عددی تناسب سے بہت کم حصہ ملا ہے۔ عراق میں بیشتر اعلیٰ سرکاری ملازمتیں صدر صدام حسین کے قبیلہ کے افراد کو حاصل ہیں۔ ایران میں اعلیٰ سرکاری مناصب زیادہ تر شیعہ فرقہ کے افراد کو دئے جاتے ہیں۔ سنی فرقہ کے افراد اس سے بڑی حد تک محروم ہیں۔ لیبیا میں بیشتر حکومتی عہدے قذافی کی پارٹی کے لوگوں کے پاس ہیں۔ دوسرے لوگوں کو حکومتی عہدوں میں بہت کم حصہ ملا ہے۔ یہی حالت بلا استثناء تمام مسلم ملکوں میں کسی ایک یا دوسرے اعتبار سے پائی جاتی ہے۔ انڈیا میں بھی یہ فرق مختلف سطحوں پر موجود ہے۔ مگر یہ فرق صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نہیں ہے بلکہ ہندوؤں اور ہندوؤں کے درمیان بھی ہے۔ مثال کے طور پر اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں برہمن فرقہ کا تناسب دوسرے ہندو فرقوں سے زیادہ ہے۔ انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ

ہندی تعلیم یافتہ طبقہ کے مقابلہ میں زیادہ سرکاری عہدوں پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ یہی فرق مسلمانوں کی نسبت سے بھی بعض اسباب کی بنا پر پایا جاتا ہے۔ یہ عمومی طور پر ہر ایک کا مسئلہ ہے نہ کہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ۔

دوسرے یہ کہ سرکاری ملازمتوں کا تعلق ملکی انتظام (administrative) سے زیادہ اور معاش سے بہت کم ہے۔ سرکاری ملازمت کا حصہ معاشی تقسیم کے نظام میں چند فیصد سے زیادہ نہیں۔ حصول معاش کا میدان ایک بے حد وسیع میدان ہے۔ کسی گروہ کو اگر سرکاری ملازمتوں میں کم حصہ ملے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشی تقسیم میں بھی اس کا حصہ کم ہوگا۔ سرکاری ملازمت کے باہر بہت سے شعبے پھر بھی اس کے لئے کھلے رہتے ہیں اور عین ممکن ہے ان دوسرے شعبوں میں عمل کر کے وہ اس سے بہت زیادہ پالے جتنا اس کو سرکاری ملازمت میں شرکت کے ذریعہ حاصل ہوتا۔

اس اصول کے حق میں بہت سی تاریخی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ اس کی ایک قریبی مثال آزادی سے پہلے ریاست حیدر آباد کا معاملہ ہے۔ آزادی سے پہلے ریاست حیدر آباد میں سرکاری ملازمتیں زیادہ مسلمانوں کو دی جاتی تھیں۔ ہندوؤں کا حصہ سرکاری ملازمت کے شعبہ میں بہت کم اس کے باوجود ریاست حیدر آباد کے ہندو معاش کے شعبوں میں ریاست کے مسلمانوں سے بدرجہا زیادہ بہتر تھے۔ کیوں کہ وہاں کے ہندو ریاست کی بیشتر تجارتوں پر قابض ہوگئے انھوں نے تجارت کے ذریعہ اس سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل کر لیا جتنا انھوں نے سرکاری ملازمت کے شعبہ میں کھویا تھا۔

مذکورہ اسباب کی بنا پر میرا یہ کہنا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی حالت کو جانچنے کے لئے ہمیں ان کی واقعی معاشی حالت کو دیکھنا چاہئے نہ کہ سروسوں میں ان کے عددی تناسب کو۔ سروسوں میں تناسب کو اس معاملہ میں نمائندگی کا درجہ حاصل نہیں۔

Printed page