مادی کامیابی
Al-Risala, September 1992, pp. 40–44
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اتر پردیش کا رہنے والا ہوں۔ ہمارے خاندان کی ایک شادی کی تقریب ۱۹۸۷ میں بمبئی میں ہوئی۔ اس تقریب میں خاندان کے پچاس سے زیادہ آدمی شریک ہوئے۔ کے سب بنارس سے ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کر کے بمبئی پہنچے تھے۔ میں بھی انھیں میں سے ایک تھا۔
ہم لوگ بمبئی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرائے گئے:
اس قیام کے دوران ایک بار میرے ایک عزیز میرے ہوٹل کے کمرہ میں آئے۔ ان کے ہاتھ میں بمبئی کے ایک صاحب خالد لطیف بابا (۱۹۸۱ - ۱۸۹۹) کی ۲۶۰ صفحہ کی ایک کتاب تھی۔ کتاب کا نام منفعل آوازیں (Passive Voices) ہے اور وہ پہلی بار ۱۹۷۵ میں شائع ہوئی۔ آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی حالت کے بارے میں ہے۔ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ مصنف کے نزدیک ہندوستانی مسلمان سراسر مظلومی کی حالت میں ہیں۔ انھوں نے کتاب کے نام کی توجیہہ کرتے ہوئے کتاب کے دیباچہ میں یہ الفاظ لکھے ہیں: It would be difficult to sum up the status and conditions of Muslims in India better in two words than 'Passive Voices.' میرے مذکورہ عزیز نے کتاب کے مندرجات سے اتفاق کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کی مظلومیت بیان کرنا شروع کیا۔ میں نے کہا کہ میری رائے آپ کی رائے کے بالکل برعکس ہے۔ ہندوستان کے مسلمان آزادی کے بعد پہلے سے بہت بہتر ہوگئے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کا کیس مظلومیت کا کیس نہیں ہے بلکہ ترقی کا کیس ہے۔
میرے عزیز تعجب کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا کہ آپ کو تعجب اس لئے ہو رہا ہے کہ آپ مسلمانوں کی حالت کو اخباروں میں پڑھتے ہیں۔ خود مسلمانوں کو دیکھ کر مسلمانوں کی حالت کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے۔ اور ہمارے اخبارات سب کے سب زبردست صحافت (yellow journalism) کے اصول پر چلائے جا رہے ہیں۔ وہ پوری صورت حال کو جیسا ہے ویسا بیان نہیں کرتے۔ بلکہ صرف بعض سنسنی خیز پہلو کو لے کر ان کو نمایاں کرتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ خود اپنے آپ کو دیکھئے۔ آج آپ کی جو معاشی اور سماجی حالت ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے جو ۱۹۴۷ کے انقلاب کے وقت آپ کی معاشی اور سماجی حالت تھی۔ کوٹھی اور کار کے مالک ہیں، حالاں کہ پہلے آپ کے پاس بائیسکل کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ ۱۹۸۷ میں ہمارے خاندان کے پچاس افراد ہوائی جہاز سے سفر کر کے بمبئی میں تقریب نکاح میں شرکت کے لئے آئے ہیں۔ حالاں کہ میں اور آپ دونوں جانتے ہیں کہ ہمارا خاندان ۱۹۴۷ میں اس پوزیشن میں نہ تھا کہ وہ اتنے اعلیٰ معیار پر شادی کی تقریب کر سکے۔
پہلے ہمارے وسیع خاندان اور ہمارے تمام رشتہ داروں کے درمیان صرف ایک موٹر کار تھی ، آج صرف ہمارے خاندان اور رشتہ داروں کے پاس دو سو سے زیادہ کاریں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی مسلم خاندان کا سروے کیجئے ۔ اور پتہ کیجئے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے اس کی سماجی اور اقتصادی حالت کیا تھی اور آج کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ تقریباً ہر مسلم خاندان نے نمایاں ترقی کی پہلے اگر وہ بائیسکل والا تھا تو آج وہ کار والا ہے۔ پہلے اگر اس کے پاس چھوٹا مکان تھا تو اب اس کے پاس بڑا مکان ہے۔ پہلے وہ صرف پہلک کال آفس سے ٹیلی فون کر سکتا تھا تو آج اس کے گھر پر خود اپنا ٹیلی فون لگا ہوا ہے۔ پہلے اس کا خاندان صرف محدود مقامی ذرائع پر انحصار کرتا تھا تو آج اس کے خاندان کے کئی افراد باہر کی دنیا میں جاکر بڑی بڑی حیثیت حاصل کئے ہوئے یہ میں کوئی انوکھی بات نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کا تجربہ ہر آدمی اپنے قریبی مسلمانوں کا سروے کر کے معلوم کر سکتا ہے۔ کسی بھی مقام پر جاکر وہاں کے مسلمانوں سے ملئے اور دریافت کیجئے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ان کی اقتصادی حالت کیا تھی اور آج کیا ہے ۔ آپ پائیں گے کہ تقریباً ہر مسلم خاندان کی حالت پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو چکی ہے۔
یہاں تک کہ مسلمانوں کے وہ لکھنے اور بولنے والے لوگ جو اس اعلان کے چیمپین بنے ہوئے ہیں کہ آزادی کے بعد مسلمان اس ملک میں ایک تباہ حال قوم بنادئے گئے ہیں۔ آپ ان کے ذاتی حالات کا پتہ کیجئے ۔ آپ دیکھئے کہ وہ اور ان کی اولاد آج کس حال میں ہیں۔ آپ یقینی طور پر پائیں گے کہ ان میں سے ہر شخص پہلے سے سوگنا زیادہ بہتر ہو چکا ہے۔ میں ذاتی طور پر ان قائدین میں سے کئی افراد کو جانتا ہوں جو ۱۹۴۷ سے پہلے ایک معمولی خاندان سے تعلق رکھتے تھے آج وہ اور ان کے بچے اسی ملک میں ہر قسم کے مادی ساز و سامان کے ساتھ شاندار زندگی گزار رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ کہنا کہ مسلمان آزادی کے بعد پستی میں ڈال دئے گئے ہیں، ایک قسم کی خلاف زمانہ بات (anachronic statement) ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہم صنعتی دور (industrial age) میں ہیں۔ صنعت و تجارت کی ترقی نے کمائی کے بے حساب نئے طریقے پیدا کر دئے ہیں۔ موجودہ دور صنعت اور روزگار کے انفجار (explosion) کا دور ہے۔ اس کے بعد یہ
بالکل ناممکن ہو چکا ہے کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم کی معاشی ترقی کو روک سکے۔ قدیم زرعی دور میں کسب معاش کے ذرائع بے حد محدود تھے۔ صرف چند سادہ قسم کے کاروبار تھے جن میں مشغول ہو کر کوئی شخص اپنے لئے مختصر آمدنی کر سکتا تھا۔ مگر صنعتی انقلاب نے کمائی کی صورتوں میں ناقابل بیان حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ آج صنعت و حرفت کی اتنی زیادہ قسمیں ظہور میں آچکی ہیں کہ ملین اور بلین کے الفاظ بھی اس کی تعداد کو بتانے کے لئے ناکافی ہیں۔
صنعتی انقلاب کے دور میں روزگار کے پھیلاؤ کی بنا پر اب یہ سرے سے ممکن ہی نہیں رہا ہے کہ کوئی قوم یا حکومت کسی گروہ کو خوش حال بننے سے روک سکے۔ آج کسی شخص یا گروہ کی اپنی بے عملی یا نادانی تو اس کو محروم کر سکتی ہے، مگر کوئی خارجی طاقت اس کو محروم کرنے پر قادر نہیں۔ ایک تقابلی مثال اس معاملہ کو مزید واضح کرتی ہے۔ رومن ایمپائر جو آٹھویں صدی قبل مسیح میں شروع ہو کر پا نچویں صدی عیسوی میں ختم ہو گئی اور اس کی مشرقی شاخ (باز نطینی ایمپائر) جو ساتویں صدی عیسوی تک طاقت و رعالت میں باقی رہی ، اس سلطنت کے ایک ہزار سال سے زیادہ مدت میں ان کی پالیسی یہ تھی کہ ان کی ماتحت قومیں سائنسی علوم میں ترقی نہ کر سکیں۔ کیوں کہ سائنسی ترقی کو وہ اپنی سلطنت کے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔ رومی حکمران اپنے اس منصوبہ میں کامیاب رہے اور ان کے طویل دور حکومت میں ان کی ماتحت قوموں کی ترقی نہ ہو سکی۔
اس کے برعکس بیسویں صدی کے وسط میں دوسری عالمی جنگ ہوئی۔ اس کے بعد امریکہ جاپان کے اوپر قابض ہو گیا۔ امریکہ نے بھی چاہا کہ وہ ہمیشہ کے لئے جاپان کو اپنا محکوم بنائے رہے۔ وہ وہاں ایسی کوئی ترقی نہ ہونے دے جو امریکہ کے لئے چیلنج کے ہم معنی بن جائے ۔ مگر امریکہ اپنے اس منصوبہ میں کامیاب نہ ہو سکا۔ صرف چالیس سال کی مدت میں جاپان ایک صنعتی اور اقتصادی دیو کی صورت میں ظاہر ہو گیا جو امریکہ کے لئے کمیونسٹ حکومتوں سے بھی زیادہ بڑا خطرہ تھا۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ رومن ایمپائر کو صنعتی انقلاب سے پہلے کام کرنے کا موقع ملا۔ ایمپائر کو صنعتی انقلاب کے بعد۔ صنعتی انقلاب سے پہلے ذرائع کی محدودیت کسی حکمران کو اس قسم کا موقع دے دیتی تھی کہ وہ ایک قوم کی ترقی کو روک سکے۔ مگر صنعتی انقلاب کے بعد ذرائع کی غیر معمولی کثرت نے اس قسم کے امکان کو آخری حد تک ختم کر دیا ہے۔ آج اگر کوئی حکومت کسی قوم کے اوپر ترقی کے
ایک سو دروازے بند کرے تو وہاں ترقی کے مزید ایک ہزار دروازے کھلے ہوئے ہوں گے۔ جن سے وہ قوم اپنا راستہ پالے گی اور ترقی کی طرف اپنا سفر شروع کر دے گی۔ کہیں ایک چھوٹا چشمہ ہو تو اس کے بہاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ مگر پانی جب سیلاب کی صورت اختیار کرلے تو اس کے بعد اس کے طوفان کو روکنا کسی کے لئے ممکن نہیں رہتا۔