Al-Risala · January 1992

دماغی اضافہ

Al-Risala, January 1992, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

سرسی وی رمن (۱۸۸۸-۱۹۷۰) ہندوستان کے مشہور سائنس داں تھے۔ وہ تروچر اپلی میں پیدا ہوئے اور بنگلور میں ان کی وفات ہوئی۔ آخر وقت میں وہ رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر تھے۔ اس کے علاوہ وہ بہت سے علمی عہدوں پر فائز رہے۔ ۱۹۳۰ میں ان کو فزکس کا نوبیل پرائز دیا گیا۔ رمن کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون سنڈے ریویو ۱۷ مارچ ۱۹۹۱) میں چھپا ہے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے : Raman believed that science came from the brain and not from equip- ment. When one of his pupils in spectroscopy complained that he had only a 1 KW lamp whereas his competitor abroad had a 10 KW lamp, Raman told him: "Don't worry. Put a 10M KW brain to the problem."

رمن کا یقین تھا کہ سائنس دماغ سے آتی ہے نہ کہ ساز و سامان سے۔ ان کے ایک شاگرد نے ایک بار شکایت کی کہ اس کے پاس ریسرچ کا کام کرنے کے لیے صرف ایک کلوواٹ کا لیمپ ہے، جب کہ بیرونی ملکوں میں اس کے برابر کے ایک طالب علم کے پاس ۱۰ کلوواٹ کا لیمپ ہوتا ہے۔ رمن نے اس طالب علم کو جواب دیا کہ تردد نہ کرو، تم اپنے مسئلہ کی تحقیق میں ۱۰ کلوواٹ کا دماغ رکھ لو۔ یہ بات نہایت درست ہے۔ اس دنیا میں ہر کام کا تعلق دماغ سے ہے۔ سامان کی کمی کو دماغ سے پورا کیا جا سکتا ہے، مگر دماغ کی کمی کو سامان سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ دو سو سال اور تین سو سال پہلے مغرب میں جو سائنس داں پیدا ہوئے، ان میں سے کسی کے پاس وہ اعلیٰ سامان نہیں تھا جو آج کسی یونیورسٹی میں ایک ریسرچ طالب علم کے پاس ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے کم سامان کے ساتھ کام کیا۔ مثلاً نیوٹن نے کروسین کے لیمپ کے ذریعہ کام کیا، کیوں کہ اس وقت بجلی کا استعمال ہی شروع نہ ہوا تھا۔ مگر یہی سائنس داں تھے جنھوں نے جدید مغربی سائنس کی بنیادیں

اس اصول کا تعلق ہر انسان سے ہے۔ جب بھی کسی شخص کو محسوس ہو کہ اس کے پاس سرمایہ یا وسائل یا ساز و سامان کی کمی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دماغی محنت کو بڑھا لے۔ اس کی دماغی محنت اس کے لیے ہر دوسری کمی کی تلافی بن جائے گی۔

فطرت نے دماغ کی صورت میں انسان کو حیرت انگیز طاقت دی ہے۔ دماغ کو استعمال کر کے آدمی اپنی ہر کمی کی تلافی کر سکتا ہے۔

مسٹر کمال علیگ (پیدائش ۱۹۵۰) نے یکم فروری ۱۹۸۹ کی ملاقات میں اپنا ایک واقعہ وہ پہلے سگریٹ پیتے تھے۔ ۱۹۸۴ سے انھوں نے مکمل طور پر سگریٹ کو چھوڑ دیا ہے۔ ۱۹۸۱ تک وہ تعلیم کے سلسلہ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تھے۔ اس زمانہ میں وہ "چین اسموکر" تھے۔ ایک روز کا واقعہ ہے۔ امتحان کا زمانہ قریب تھا۔ وہ رات کو دیر تک پڑھنے میں لگے رہے۔ کہ رات کو ایک بجے کا وقت ہو گیا۔ اس وقت انھیں سگریٹ کی طلب ہوئی۔ دیکھا تو دیا سلائی ختم ہو چکی تھی ۔ ہیٹر بھی بگڑا ہوا تھا۔ ایک طرف اندر سے سگریٹ کی سخت طلب اٹھ رہی تھی، دوسری طرف کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جس سے سگریٹ کو جلایا جا سکے ۔

تقریباً آدھ گھنٹہ تک ان کے دماغ پر یہ سوال چھایا رہا۔ وہ اس سوچ میں پڑے رہے کہ سگریٹ کو کس طرح جلایا جائے ۔ آخر ایک تدبیر ان کے ذہن میں آئی ۔ ان کے کمرہ میں بجلی کا سو واٹ کا بلب لٹک رہا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ اس جلتے ہوئے بلب میں اگر کوئی ہلکی چیز لپیٹ دی جائے تو کچھ دیر کے بعد گرم ہو کر وہ جل اٹھے گی ۔ انھوں نے ایک پرانا کپڑا لیا اور اس کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر جلتے ہوئے بلب کے اوپر لپیٹ دیا۔ تقریباً ۵ منٹ گزرے ہوں گے کہ کپڑا جل اٹھا۔ کمال صاحب نے فوراً اس سے اپنا سگریٹ سلگایا اور اس کے کش لینے لگے۔

اسی کا نام "دماغی محنت" ہے۔ عام لوگ محنت کے نام سے صرف جسمانی محنت کو جانتے ہیں۔ مگر محنت کی زیادہ بڑی قسم وہ ہے جس کا نام دماغی محنت ہے۔ دنیا کی تمام بڑی بڑی ترقیاں وہی ہیں جو دماغی محنت کے ذریعہ حاصل کی گئی ہیں۔ جسمانی محنت سچا وڑا چلانے یا ہتھوڑا مارنے کا کام انجام دے سکتی ہے۔ مگر ایک سائنٹفک فارم یا جدید طرز کا ایک کارخانہ بنانے کا کام صرف دماغی محنت کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ جسمانی محنت اگر آپ کو ایک روپیہ فائدہ دے سکتی ہو تو آپ دماغی محنت کے ذریعہ ایک کروڑ روپیہ کما سکتے ہیں۔ جسمانی محنت صرف یہ کر سکتی ہے کہ وہ دوڑ کر بازار جائے اور ایک دیا سلائی خرید کر لائے اور اس کے ذریعہ سے اپنی سگریٹ سلگائے ۔ مگر دماغی محنت ایسی حیرت انگیز طاقت ہے جو دیا سلائی کے بغیر آپ کے سگریٹ کو سلگا دے، جو ظاہری آگ کے بغیر آپ کے گھر کو روشن کر دے۔

Printed page