Al-Risala · September 1992

قومی ترقی میں حصہ

Al-Risala, September 1992, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر کی تفصیلات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آزادی ہند سے پہلے کے دور کے مقابلہ میں آزادی ہند کے بعد کے دور میں مسلمان ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاہم اس موضوع کا ایک اور اور وہ یہ کہ مجموعی قومی ترقی (total national growth) میں ان کا حصہ کتنا ہے۔ یہاں میں یہ اعتراف کروں گا کہ اس دوسرے اعتبار سے مسلمان یقینی طور پر پیچھے ہیں۔ مثلاً صحافت اور تعلیم کے اداروں میں ان کا حصہ دوسرے فرقوں کے اعتبار سے بہت کم ہے۔ صنعت اور تجارت کے میدان میں وہ ہندو اور جینی اور پارسی کے مقابلہ میں ابھی تک پیچھے ہیں۔

مگر اس معاملہ میں ہمیں حقیقت پسندانہ رائے قائم کرنا چاہئے نہ کہ کوئی جذباتی رائے۔ اصل یہ ہے کہ زمانی اعتبار سے خوش حال ہونے کے لئے تو زمانی عوامل ہی کافی تھے۔ چنانچہ زمانی اسباب کے تحت مسلمانوں کو موجودہ دور میں خوش حالی کا ایک حصہ مل گیا۔ مگر دوسری ہمسایہ قوموں کے مقابلہ میں اپنا مناسب حصہ پانے کے لئے قومی اہلیت کا ثبوت دینا تھا۔ یہاں رہنماؤں کی غلط رہنمائی اس میں مانع بن گئی کہ مسلمان ملک کی قومی ترقی میں اپنا وہ حصہ پا سکیں جو اپنی عددی طاقت کی نسبت سے انہیں ملنا

مسلمانوں کی قیادت نے خاص طور پر پہلوؤں سے مسلمانوں کو نہایت شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک یہ کہ انھوں نے اپنی نااہلی کی بنا پر مسلمانوں کو جدید تعلیم میں پیچھے کر دیا۔ جب کہ جدید تعلیم موجودہ زمانہ میں ہر قسم کی ترقیوں کی واحد لازمی شرط بن چکی ہے۔

مسلم قیادت کی دوسری شدید تر نااہلی یہ ہے کہ وہ اپنی غلط پالیسی کی بنا پر مسلمانوں کو فسادات کی مصیبت میں الجھائے ہوئے ہیں۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں چھوٹے بڑے تقریبا چالیس ہزار فساد ہو چکے ہیں۔ اور ان سب کی اصل ذمہ داری بلاشبہ نااہل مسلم قیادت پر ہے۔ ان فسادات کی بنا پر ہی یہ المیہ پیش آیا کہ مسلمان قومی ترقی میں اپنا قرار واقعی حصہ پانے سے محروم رہے۔ اور جو کچھ پایا تھا اس کا بھی ایک حصہ وہ بار بار کھوتے رہے۔

Printed page