Al-Risala · September 1992

تعلیم کا میدان

Al-Risala, September 1992, pp. 47–49

By Maulana Wahiduddin Khan

19 ویں صدی کے وسط میں یہ واقعہ ہوا کہ برطانوی حکومت نے انگریزی تعلیم کو باقاعدہ طور پر ملک میں رائج کیا اور فارسی کے بجائے انگریزی کو ملک کی سرکاری زبان کی حیثیت دے دی۔ وقت مسلم قیادت جن لوگوں کے ہاتھ میں تھی وہ انگریزوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اس نفرت کو وہ یہاں تک لے گئے کہ انھوں نے انگریز اور انگریزی میں فرق نہیں کیا۔ وہ بیک وقت انگریزی قوم اور انگریزی زبان اور علوم دونوں کے دشمن بن گئے۔

مسلم قیادت کے اس مزاج کا اثر مسلم عوام پر پڑا۔ مسلمان عام طور پر انگریزی زبان اور انگریزی میں پڑھائے جانے والے علوم سے متنفر ہو گئے۔ حتی کہ سرسید (۱۸۹۸۔ جب انگریزی تعلیم پر زور دیا تو ان کو انگریزوں کا ایجنٹ بتا کر ان کی سخت مخالفت کی گئی۔ ان کو مسلم عوام سے کاٹ دیا گیا۔ اس بنا پر مسلمان دوسرے فرقوں کے مقابلہ میں انگریزی تعلیم میں تقریبا ایک سو سال پیچھے ہو گئے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہمارے یہاں عربی زبان میں عالمی سطح کے علماء موجود ہیں مگر انگریزی زبان میں ہمارے پاس ملکی سطح پر بھی کوئی قابل ذکر مسلم رائٹر موجود نہیں۔ تاہم ۱۹۴۷ کے انقلاب کے بعد حالات کے زیر اثر مسلمانوں کے اندر نیا ذہن پیدا ہو اب مسلمان تیزی سے جدید تعلیم کے میدان میں داخل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ آج ہمارے یہاں

ڈاکٹر خلیل اللہ جیسے میڈیکل ایکسپرٹ اور پروفیسر خسرو جیسے ماہر معاشیات پیدا ہو رہے ہیں۔ میں مسٹر رضوی اور مسٹر سبحانی جیسے نوجوان ابھر رہے ہیں جنہوں نے آئی اے ایس کے مقابلہ میں پورے ملک میں ٹاپ کیا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات دوسرا مسئلہ فرقہ وارانہ فسادات کا ہے۔ ان فسادات نے مسلمانوں کو زبردست نقصان پہنچایا ممگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان فسادات کا تعلق ہندوستان کے موجودہ نظام سے نہیں ہے بلکہ ان کا تعلق خود مسلمانوں کی زرد قیادت اور زرد صحافت سے ہے۔ یہ دراصل ہماری نام نہاد صحافت و قیادت ہے جو فرقہ وارانہ فساد کی اصل ذمہ دار ہے۔

ان فسادات کی منطق کیا ہے۔ اس کے لئے میں دوبارہ آپ کے پڑوسی شہر بمبئی کی مثال آزادی ہند سے تقریباً ۲۰ سال پہلے بمبئی میں ہندوؤں کا ایک جلوس نکلا۔ چلتا ہوا ایک خاص سڑک پر پہنچا جہاں ایک مسجد واقع ہے۔ مسجد کے متولی کو مسجد کے سامنے ہندو جلوس گزارنے پر اختلاف ہوا۔ متولی نے روکا۔ جب جلوس والے نہیں رکے تو اس نے بمبئی کی عدالت میں اس کے خلاف کیس کر دیا۔ متولی کا یہ مطالبہ تھا کہ عدالت یہ حکم جاری کرے کہ آئندہ کوئی ہندو جلوس اس کی مسجد کے سامنے سے نہیں گزرے گا۔

اس وقت بمبئی میں ایک مسلمان وکیل تھے۔ انھوں نے اس کیس میں مسلم متولی کی طرف سے انگریز جج نے یہ حکم جاری کر دیا کہ مذکورہ مسجد کے پاس یہ نوٹس لگادی جائے کہ آئندہ کوئی ہندو جلوس اس مسجد کے سامنے سے نہیں گزارا جائے گا۔ مسلمان وکیل کی اس کامیاب پیروی پر مسلمان خوش ہوگئے ۔ ان کو اتنی مقبولیت ہوئی کہ وہ مسلمانوں کے عظیم لیڈر بن گئے۔ مگر یہ قیادت نہیں تھی بلکہ غلط رہنمائی تھی۔ مذکورہ مسلمان وکیل کو مسلمانوں سے یہ کہنا چاہئے تھا کہ جلوس کے مسئلہ کا حل جلوس کو روکنا نہیں ہے بلکہ اصل کو نظر انداز کرنا ہے۔ تم اپنا الگ ملک بناؤ گے تو وہاں بھی مختلف لوگ جلوس نکالیں گے ۔ پھر تم کیا کرو گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کے لئے انتخاب جلوس اور بے جلوس میں نہیں تھا۔ بلکہ جلوس اور فساد میں تھا۔ گر مسلمانوں کی زرد قیادت اور ان کی زرد صحافت مسلمانوں کو یہ رہنمائی نہ دے سکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس کو روکنے کی کوشش

میں جگہ جگہ فساد ہونے لگے۔ جو آج تک جاری ہیں۔ اسی بنیاد پر ہندوستان میں بھی فساد ہو رہا ہے اور اسی بنیاد پر پاکستان میں بھی۔

اس مسئلے کی امیںیت کو محسوس کرتے ہوئے ۲۵ سال پہلے کی۔ میں نے ایک تعمیری مہم شروع کی۔ ہم نے مسلمانوں کے اندر یہ ذہن پیدا کرنے کی کوشش کی کہ فرقہ وارانہ فساد کا حل جلوس کو روکنا نہیں ہے بلکہ جلوس کو نظر انداز کرنا ہے۔ ۲۵ سالہ کوشش کے بعد اب خدا کے فضل سے اس کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ انڈیا میں سیکڑوں مقامات پر صرف اس لئے فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا کہ مسلمانوں نے اپنے نئے ذہن کے تحت جلوس کو روکنے کے بجائے ان سے اعراض کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ اس کی کچھ مثالیں پچھلے صفحات میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلہ میں مسلمانوں کے اندر یہ جو نیا رجحان پیدا ہوا ہے یہ ان شاء اللہ یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب کہ مسلمانوں کے اندر یہاں کے ماحول میں عدم تحفظ کا احساس مکمل طور پر ختم ہو جائے ۔ وہ ملک میں ترقی کے راستہ پر مزید آگے بڑھیں گے اور خود ملک کی ترقی میں اضافہ کریں گے۔

Printed page