خاتمہ کلام
Al-Risala, September 1992, pp. 49–50
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ غالباً یہ سوال کریں کہ تمہاری رائے اور دوسروں کی رائے اتنی زیادہ مختلف کیوں ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے کیس کو دوسرے لوگ مظلومیت کا کیس بتاتے ہیں اور تم ان کے کیس کو قومی ترقی کا کیس بتا رہے ہو۔ اس فرق کا سبب زاویہ نظر کا فرق ہے۔ میرا ریلیٹگ اپروچ ہے اور دوسرے لوگوں کا نان ریلیٹگ اپروچ۔ لوگ چیزوں کو اپنی خواہش کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں یہ دیکھتا ہوں کہ موجودہ دنیا میں کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔ کیونکہ قانون حیات کے تحت جو چیز نا ممکن ہو اس کو آپ اپنی خواہش کے تحت اپنے لئے قابل حصول نہیں بنا سکتے۔ یہ دنیا خدا نے بنائی ہے اور وہ لازماً اسی نظام پر چلے گی جو نظام خدا نے اس کے لئے مقرر کر دیا اس دنیا کے لئے خدا نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ یہاں پھول کے ساتھ کانٹا بھی موجود رہے۔ اب ایک شخص اگر اپنے ذہن میں یہ تصور قائم کرلے کہ پھول کو کانٹے کے بغیر ہونا چاہئے ۔ ایسا شخص جب باغ کو دیکھے گا تو اس کی نظر کانٹے پر اٹک جائے گی۔ وہ باغ کو کانٹوں کا جنگل سمجھنے لگے گا۔
کے برعکس جو شخص یہ جانے کہ پھول کے ساتھ کانٹے کا وجود لازمی ہے، وہ جب باغ کو دیکھے گا تو سارا باغ اس کو پھولوں کا چمنستان نظر آئے گا۔
ایسا ہی کچھ معاملہ انسانی زندگی کا ہے۔ انسانی زندگی کو خدا نے مقابلہ اور مسابقت کی بنیاد پر قائم کیا ہے۔ اس نظام فطرت کی بنا پر اس دنیا میں ہمیشہ ایک دوسرے کے درمیان دوڑ جاری رہتی اس دوڑ میں ٹکراؤ کی نوبت آ جاتی ہے۔ حتی کہ قرآن کے مطابق عداوت کی صورتیں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ خدا کا تخلیقی منصوبہ ہے اور اس منصوبے کا یہ تقاضا ہے کہ دنیا میں خوشگوار باتوں کے ساتھ نا خوشگوار باتیں بھی ضرور موجود رہیں۔ چونکہ یہ خدا کا مقرر کیا ہوا قانون ہے اس لئے اس کے اثرات ہر جگہ پائے جائیں گے، خواہ وہ کوئی ہند و ملک ہو یا کوئی مسلم ملک۔ نقطہ نظر کے اس فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ جس چیز کو لوگ ظلم سمجھتے ہیں اس کو میں چیلنج کہتا ہوں۔ کو لوگ تعصب اور امتیاز کہتے ہیں اس کو میں زندگی کی حقیقت سمجھتا ہوں۔ جس چیز کو لوگ سازش کا نام دیتے ہیں وہ میرے نزدیک مقابلہ کے مظاہر ہوتے ہیں۔
دوسرے لوگ اپنے غیر حقیقت پسندانہ معیار کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں کوئی نا خوشگوار پہلو نہ پایا جائے۔ اور جب وہ ایسا پہلو دیکھتے ہیں تو اس کے خلاف احتجاج شروع کر دیتے ہیں۔ مگر میں اس معاملہ کو حقیقت واقعہ کے معیار پر دیکھتا ہوں۔ اس لئے میں "کانٹے" والے پہلو کو نظر انداز کر کے "پھول" والے پہلو کو دیکھتا ہوں۔ اور پھر مجھے نظر آنے لگتا ہے کہ موجودہ دنیا میں قانون فطرت کے تحت جو کچھ ملنا ممکن ہے وہ مسلمانوں کو بھی اسی طرح مل رہا ہے جس طرح غیر مسلموں کو۔ مسلمان اگر اپنے لئے مزید کچھ چاہتے ہیں تو دوبارہ وہ قانون فطرت کے تحت عمل کر کے اس کو پا سکتے ہیں نہ کہ مطالبہ اور احتجاج کے ذریعہ۔