Al-Risala · October 1992

Customer is always right.

Al-Risala, October 1992, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ طریقہ جو بینک اپنے کسٹمر کے ساتھ اختیار کرتا ہے، وہی طریقہ داعی اپنے مدعو کے ساتھ اختیار داعی اپنے مدعو سے کسی بات پر نہیں الجھتا۔ داعی یک طرفہ طور پر اپنے مدعو کی تلخ باتوں کو برداشت کرتا ہے تاکہ اس کے اور مدعو کے درمیان ہمدردی کی فضا قائم ہو سکے۔ دعوت کی لازمی شرط صبر ہے۔ اگر صبر نہیں تو دعوت بھی نہیں۔ صبر کوئی پسپائی یا خودسپردگی نہیں۔ یہ ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر اپنے جذبات پر قابو پانا ہے۔ یہ خدا کے دین کے تقاضوں کے لیے اپنی ذات کے تقاضوں کو قربان کرنا ہے۔

مدعو وہ ہے جو ابھی گمراہی میں پڑا ہوا ہو۔ اور جو لوگ گمراہی میں پڑے ہوئے ہوں، ان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ حق کے اصولوں پر عمل کریں گے۔ وہ تو ابھی اپنی خواہش کے پرستار ہیں پھر وہ خدا کی پرستاری والا رویہ کیوں کر اختیار کر سکتے ہیں۔

داعی کو پیشگی طور پر یہ مان لینا چاہیے کہ مدعو کی طرف سے زیادتی کا سلوک ہوگا۔ مدعو کی طرف سے ایسے قول اور فعل کا مظاہرہ ہوگا جو داعی کے جذبات کو برہم کرنے والے ہوں۔ سب کے باوجود داعی کو برداشت کے رویہ پر قائم رہنا ہے۔ اس برداشت کے بغیر کوئی شخص کبھی داعی نہیں بن سکتا۔

Printed page