Al-Risala · October 1992

عقل کی بات

Al-Risala, October 1992, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ قرآن میں مختصر طور پر اور بائبل میں مفصل طور پر بیان ہوا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے کئی سو سال پہلے شام وفلسطین کے درمیانی علاقہ میں پیدا ہوئے۔ اس جگہ کا نام عوض (Uz) بتایا گیا ہے۔

بائبل کا بیان ہے کہ حضرت ایوب کے یہاں سات ہزار بھیڑیں اور تین ہزار اونٹ اور پانچ سو جوڑی بیل اور پانچ سو گدھے اور بہت سے نوکر چاکر تھے ، ایسا کہ اہل مشرق میں وہ سب سے بڑا آدمی کچھ عرصہ بعد ایسی آفتیں آئیں کہ حضرت ایوب کا تمام مال و دولت ختم ہو گیا ۔ وہ بالکل مفلس ہو گئے۔ تاہم انھوں نے صبر کیا۔ بائبل کے الفاظ میں :

تب ایوب نے اٹھ کر اپنا پیراہن چاک کیا اور سر منڈایا اور زمین پر گر کر سجدہ کیا۔ اور کہا ننگا میں اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا اور ننگا ہی واپس جاؤں گا۔ خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ نام مبارک ہو (ایوب ، باب ۱)

کچھ سالوں کے بعد حالات بدلے ۔ حضرت ایوب کے پاس دوبارہ ہر قسم کا مال و اسباب مزید اضافہ کے ساتھ جمع ہو گیا۔ بائبل کا بیان ہے : اور خداوند نے ایوب کو جتنا اس کے پاس پہلے تھا اس کا دوچند یوں خداوند نے ایوب کے آخری ایام میں ابتدا کی نسبت زیادہ برکت بخشی ۔ اس کے پاس چودہ ہزار بھیڑبکریاں اور چھ ہزار اونٹ اور ہزار جوڑی بیل اور ہزار گدھے ہو گئے (ایوب ، باب ۴۲) قرآن میں اس واقعہ کا تفصیلی ذکر نہیں ۔ البتہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک نہایت اہم اور سبق آموز بات بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ ایوب کو ہم نے دوبارہ سب چیز دیدی ، اور اس واقعہ میں نصیحت ہے عقل والوں کے لیے (و ذكرى لاولی الألباب ، ص ۴۳)

اس مختصر فقرہ کے بہت سے پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کو اگر محرومی کا تجربہ ہو تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ خدا نے اپنی رحمت سے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی محرومی آخری محرومی نہیں ۔ یہاں ہر محرومی کے بعد دوبارہ یافت ہے ۔ ہر کھونے کے بعد دوبارہ پانا ہے۔ بشرطیکہ آدمی صبر کرے اور خدا کے اعتماد پر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔

Printed page