Al-Risala · January 1992

تاریخ کا سبق

Al-Risala, January 1992, pp. 48–49

By Maulana Wahiduddin Khan

سر ٹامس رو (Sir Thomas Roe) سترھویں صدی عیسوی کے شروع میں لندن سے ہندوستان آیا اور یہاں تین سال (۱۶۱۸ ۱۶۱۵) تک رہا۔ اس نے مغل حکمراں جہانگیر سے تعلق دوسری اعلیٰ صفات کے ساتھ اس کی ایک صفت یہ تھی کہ وہ ترکی زبان جانتا تھا اور جہانگیر سے براہ راست گفتگو کر سکتا تھا۔

سر ٹامس رو (۱۹۲۴ - ۱۵۸۱) جب ہندوستان آیا، اس وقت جہانگیر اجمیر میں تھا۔ ٹامس رو اجمیر پہنچا اور تین سال تک یہاں رہا۔ جہانگیر کبھی کبھی اس کو اپنے دربار میں بلاتا اور اس سے ادھر ادھر کی گفتگو کرتا۔ ٹامس رو نے اندازہ کیا کہ جہانگیر کو فن مصوری سے بہت دل چسپی ہے۔ اس نے ایک روز جہانگیر کی خدمت میں ایک تصویر پیش کی۔ جہانگیر کو یہ تصویر بہت پسند آئی۔

ٹامس رو نے محسوس کیا کہ وہ جس وقت کا منتظر تھا، وہ وقت اب اس کے لیے آ گیا اس نے بادشاہ سے ایک ایسی چیز مانگی، جو بظاہر بہت معمولی تھی۔ یہ چیز کہتی، ہندوستان کے ساحلی شہر سورت میں فیکٹری (تجارتی اادارہ) قائم کرنے کی اجازت۔ بادشاہ نے ایک فرمان لکھ دیا۔ جس کے مطابق انگریز (ایسٹ انڈیا کمپنی) کو سورت میں اپنا تجارتی ادارہ قائم کرنے کی اجازت مل گئی۔

ہندوستان کے ایک شہر میں تجارتی ادارہ کھولنے کی اجازت بظاہر بہت معمولی چیز تھی۔ کیونکہ اس کے باوجود ہندوستان کا وسیع ملک مغل حکمراں ہی کے حصہ میں تھا۔ عظمت و شان اور قوت و طاقت کے تمام مظاہر پر دوسروں کا قبضہ بدستور باقی تھا۔ مگر سورت میں تجارتی دارہ قائم کرنا انگریز کو وہ سرا دے رہا تھا جو بالآخر اس کو تمام دوسری چیزوں پر قبضہ دلا دے۔ چنانچہ انگریز نے اس کمتر چیز کو قبول کر لیا اور اس کے بعد تاریخ نے بتا یا کہ جو کم تر پر اصلی ہو جائے وہ آخر کار برتر پر بھی قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یہ تاریخ کا سبق ہے، مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس تاریخ سے سبق حاصل کریں۔

اس دنیا میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کو معاملہ کا ابتدائی سرا مل جائے ۔ سرا جس کے ہاتھ میں آجائے وہ آخر کار انتہائی سرے تک پہنچ کر رہے گا۔

ہندوستان کی آزادی کی تحریک ۱۷۹۹ء میں شروع ہوئی جب کہ سلطان ٹیپو انگریزوں سے جنگ کرتے ہوئے مارے گیے۔ اس کے بعد انگریزوں سے لڑنا، انگریز شخصیتوں پر بم مارنا، ان پر حملہ کرنے کے لیے بیرونی حکومتوں کو ابھارنا، جیسے ہنگامے سو سال سے زیادہ مدت تک جاری رہے۔ اس قسم کی تدبیریں اپنی نوعیت میں پر شور تھیں۔ چنانچہ ان کا نام آتے ہی انگریز فوراً چوکس ہو جاتا تھا اور ان کو پوری طاقت سے کچل دیتا تھا۔ اس کے بعد گاندھی میدان سیاست میں آئے تو اچانک صورت حال بدل گئی۔ پہلے لوگ ہنسا کے ذریعہ آزادی کا مطالبہ کرتے تھے ، گاندھی نے اس کے برعکس آہنسا کے طریقہ کو اختیار کیا۔ انھوں نے آزادی کی تحریک کو ایسی بنیاد پر چلانے کا اعلان کیا جو انگریزوں کو ناقابلِ لحاظ دکھائی دے ۔

گاندھی کے اسی طریقہ کا ایک جزو وہ ہے جس کو ڈانڈی مارچ کہا جاتا ہے۔ گجرات کے ساحل پر قدیم زمانہ سے نمک بنایا جاتا تھا۔ انگریز فلمی حکومت نے گجرات میں نمک بنانے کی صنعت کو سرکاری قبضہ میں لے لیا، گاندھی اس قانون کی پر امن خلاف ورزی کے لیے سابرمتی سے پیدل روانہ ہوئے اور ۲۴ دن میں ۲۴۰ میل کا سفر طے کر کے ڈانڈی کے ساحل پر پہنچے اور نمک کا ایک ٹکڑا اپنے ہاتھ میں لے کر سرکاری قانون کی خلاف ورزی کی ۔

گاندھی نے جب اپنے منصوبے کا اعلان کیا تو انگریز عہدیداروں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ موقع پر ایک انگریز افسر نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو اپنا نمک بنانے دو۔ مسٹر گاندھی کو چٹکی بھر نمک سے بہت زیادہ بڑی چیز درکار ہوگی کہ وہ برطانوی شہنشاہیت کو زیر کر سکیں : Let him make his salt. Mr. Gandhi will have to find a great deal more than a pinch of salt to bring down the British Empire. موجودہ دنیا میں کامیاب اقدام وہ ہے جو دیکھنے میں ناقابلِ لحاظ دکھائی دے ، مگر حقیقہ وہ ناقابلِ تسخیر ہو ۔ جو حریف کو بظاہر " چٹکی بھر نمک " نظر آئے ، مگر انجام کو پہونچنے تو وہ " پہاڑ بھر نمک " بن جائے ۔

Printed page