Al-Risala · October 1992

15 المسلمة - اکتوبر ۱۹۹۲

Al-Risala, October 1992, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکی میگزین ٹائم (۱۰ فروری ۱۹۹۲) کی کور اسٹوری کا موضوع ہے ــــــــ امریکہ کے بارہ میں جاپ۴۱ کا ذہن ، اور جاپان کے بارہ میں امریکہ کا ذہن :

America in the mind of Japan, Japan in the mind of America. اس رپورٹ کا خلاصہ ، میگزین کے الفاظ میں، یہ ہے کہ امریکہ اور جاپان کی بظاہر نا اتفاقی ایک زیادہ گہری سچائی کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ یہ کہ دونوں قومیں ایک دوسرے کو اپنی ضرورت سمجھتی ہیں :

Friction between the U.S. and Japan masks a deeper truth :

the two nations need each other. (p.8)

میگزین نے لکھا ہے کہ امریکہ اگر چہ اب بھی بہت طاقت ور اقتصادیات کا مالک ہے مگر اب وہ اپنے بارہ میں محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک تخفیف شدہ چیز ہے۔ پرانا دشمن، سوویت یونین، اب ختم ہو گیا ہے۔ جاپان کے مقابلہ میں امریکہ ان بلین ڈالر کے بقدر تجارتی خسارہ میں ہے۔ اس اعتبار سے کچھ امریکی جاپان کو اپنا نیا دشمن سمجھتے ہیں :

America, still the most powerful economy, nonetheless feels itself to be somehow the diminished thing. The old enemy, the Soviet Union, has vanished. With the U.S. running a $41 billion trade deficit with Japan, the once deferential partner begins to look to some Americans like the new

دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو امریکہ کی حیثیت غالب کی تھی اور جاپان کی حیثیت مغلوب کی۔ یہ ترتیب الٹ گئی ہے۔ اس کی وجہ تمام تر اخلاقی ہے۔ امریکہ نے ہتھیار کے اعتبار سے جاپان کے اوپر غلبہ حاصل کیا تھا۔ مگر آخر کار کردار کی طاقت نے اپنا کام کیا۔ جاپان زیادہ بہتر کردار سے مسلح ہو کر امریکہ کے اوپر غالب آگیا۔

میگزین کے مطابق، اکثر جاپانی اور اسی طرح بہت سے امریکی بھی، امریکہ کے اقتصادی مسائل کی ذمہ داری خود امریکہ کے اوپر ڈالتے ہیں۔ مسادکونی ہیرو (Masao Kunihiro) جو ایک جاپانی اینتھراپولوجسٹ ہیں، انھوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ایمرسن کے قدیم عقیدہ کا کیا ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر تم ایک اچھا چو ہے دان بناؤ گے تو دنیا خود چل کر تمھارے دروازہ پر پہنچ جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہی وہ چیز تھی جس نے امریکہ کو اس اقتصادی اور صنعتی طاقت تک پہنچایا جیسا کہ وہ مگر ہم میں سے اکثر لوگ ، صحیح یا غلط طور پر، یہ خیال رکھتے ہیں کہ امریکہ اب ایسے چو ہے دان نہیں دے رہا ہے جو جاپانی چو ہے دان سے اچھا ہو۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب امریکہ میں کارکردگی کا معیار گھٹ گیا ہے :- Whatever happened to the good old Emersonian credo that if you build a better mousetrap, the world will beat a path to your door. That is what made America what it is today, economically and industrially powerful. But many of us, rightly or wrongly, now feel that the U.S. is no longer turning out mousetraps which are better than ours. (p.14)

ایک اور جاپانی مبصر یوشیو ساکوراچی (Yoshio Sakurauchi) نے امریکہ کی کمی کے بارہ میں عام جاپانی تاثر کو بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے تجارتی مسئلہ کی جڑ امریکی کارکن کی کارکردگی کا ناقص معیار ہے :

The root of America's trade problem lies in the inferior quality of American labor. (p.14)

دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے جاپان کے خلاف جو ظالمانہ سلوک کیا تھا، اگر جاپان یہ کرتا کہ وہ اپنے زبان و قلم کو امریکہ کے ظلم اور اس کی سازش کے خلاف پروپیگنڈے میں لگا دیتاتو جاپان کچھ بھی حاصل نہ بلکہ جنگ کے بعد جو کچھ اس کے پاس بچا تھا اس کو بھی وہ لفظی احتجاج کی مہم میں کھودیتا۔ جاپان نے امریکہ کے سلوک پر صبر کر لیا۔ اس نے امریکہ کے خلاف شور وغل کرنے کے بجائے خود تعمیری کو اپنا مشن بنایا۔ اس کا نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ صرف چالیس سال کی مدت میں تاریخ بدل گئی۔ جو پیچھے تھا وہ آگے ہو گیا۔ اور جس نے آگے کی سیٹ پر قبضہ کر رکھا تھا اس کو مجبور ہو کر پچھلی سیٹ پر واپس جانا پڑا۔

Printed page