Al-Risala · October 1992

عبرتناک

Al-Risala, October 1992, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان ٹائمس (۱۸ اپریل ۱۹۹۲) میں صفحہ ۱۳ پر ایک بڑی عبرت ناک رو داد شائع ہوئی مسٹر پرکاش لاہا ہندوستان اسٹیل میں ایک اعلیٰ افسر تھے۔ ان کے دو ہونہار لڑکے تھے جن کا نام پریا جیت لاہا اور پرسن جیت لاہا تھا۔ دونوں لڑکوں کی تعلیم سینٹ زیویرس اسکول میں ہوئی۔ انگلش لٹریچر کا خاص ذوق تھا۔ دونوں شاندار طور پر ترقی کی منزلیں طے کر رہے تھے۔ بظاہر وہ ہر طرح صحت مند تھے۔ اچانک ایک صبح کو پرسن جیت نے محسوس کیا کہ گھر کی سیڑھیاں چڑھنے میں ان کو مشکل ہو رہی ہے۔ چند دن بعد وہ اپنے اسکول میں لڑکھڑا کر گر پڑے۔ ڈاکٹر نے ان کو وہیْل چیئر پر ڈال دیا۔ پورے خاندان کے لیے یہ بڑا سخت صدمہ تھا۔ نوجوان بیٹا چلنے پھرنے سے معذور تھا۔

مگر معاملہ یہیں نہیں رکا۔ اس کے بعد عین یہی بیماری دوسرے بھائی پریا جیت کو بھی ہو گئی۔ دونوں بھائی چلنے پھرنے کے قابل نہ رہے۔ آخر کار ۴ جولائی ۱۹۹۰ کو پرسن جیت کا انتقال ہو گیا۔ پریا جیت کو اندیشہ ہوا کہ وہ بھی زندہ نہیں بچے گا۔ اس نے اپنی آٹو بائیو گرافی لکھنا شروع کیا۔ علاوہ انگریزی نظمیں لکھ کر وہ اپنا دل بہلاتا ۔ مگر تین ماہ بعد ۸ اکتوبر ۱۹۹۰ کو پریا جیت کا بھی انتقال

پریا جیت لاہا کی نظمیں اس کی موت کے بعد شائع کی گئی ہیں۔ اس کی ایک نظم کی دو لائنیں یہ ہیں ۔ بہترین ڈاکٹر بھی آخر کار اپنے مریضوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وقت آنے پر ہر عمارت ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے :

Even the best doctors finally lose their patients. Buildings crumble in اس قسم کی تفصیلات بتاتے ہوئے رپورٹ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ اس طرح تین مہینے کے اندر دونوں بھائی ، جن میں سے ہر ایک ممتاز حیثیت کا مالک تھا اور جن کے لیے شاندار مستقبل متوقع تھا ، وہ اس دنیا سے چلے گئے ، اس کے بغیر کہ وہ اپنی آرزوؤں کو پورا کر سکیں :

اس دنیا میں کسی چیز کو پائیداری حاصل نہیں۔ یہاں کھڑی کی جانے والی تمام عمارتوں کے لیے مقدر ہے کہ ایک روز وہ ڈھ پڑیں۔ مگر کبھی کسی عمارت کو بنتے ہی گرا دیا جاتا ہے تاکہ لوگ چوکنّے ہوں اور غافل لوگ بھی ہونے والے واقعہ پر دھیان دے سکیں۔

یہاں ہر پیدا ہونے والا آخر کار مر جاتا ہے۔ مگر بعض افراد کو کم عمری ہی میں موت دے دی جاتی ہے تاکہ لوگوں کی آنکھیں کھلیں اور جو لوگ ہوشی میں پڑے ہوئے ہیں وہ بھی ہوش میں اگر اپنی اصلاح کر لیں۔

یہاں ہر آدمی کی آرزوئیں غیر تکمیل شدہ رہ جاتی ہیں، یہاں بڑے سے بڑا آدمی بھی اپنی تمناؤں کو اپنے سینے میں لیے ہوئے اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ تاہم کبھی اس حقیقت کو مزید کھولنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے کہ کسی شخص کو مذکورہ صورت میں اٹھا لیا جاتا ہے تاکہ اس معاملہ کی انتہائی مثال دنیا میں قائم ہو اور اندھے لوگ بھی اس کو دیکھیں اور بہرے لوگ بھی اس کو سن لیں۔

ایک بچہ کے ساتھ جب مذکورہ قسم کا واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ ایک نو عمر بچہ کا کیا قصور تھا کہ اس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آیا۔ مگر اصل مسئلہ "قصور" کا نہیں ہے، بلکہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کا یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس حقیقت کو بتانے کے لیے خالق کائنات نے مختلف انتظامات انھیں میں سے ایک انتظام یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں زندگی کی غیر مستقل حیثیت کو بتانے کے لیے انتہائی مثال قائم کردی جائے۔ نو عمری کی موت اسی قسم کی ایک انتہائی مثال ہے۔ موت اور حادثہ کے واقعات آنکھیں کھولنے کے لیے پیش آتے ہیں۔ عقل مند وہ ہے جو ان واقعات سے سبق لے بے نادان وہ ہے جو غیر متعلق سوالات میں الجھ کر رہ جائے۔

Printed page