خلاصہ کلام
Al-Risala, October 1992, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ تعالیٰ نے سورج پیدا کیا، سورج کی پیدائش زمین پر انسان کی آبادی سے بہت پہلے مگر اللہ تعالیٰ کو پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ سورج کی شعاعوں کا ایک جزر (الٹرا وایلیٹ) انسان کے لیے مضر ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر بالائی فضا میں ایک محکم حفاظتی انتظام کر دیا جو انسان کو اس مضر شعاع سے بچا تار ہے۔
دوسری طرف انسانی انجینیروں اور سائنس دانوں نے زمین پر ایک انڈسٹری قائم کی۔ انڈسٹری سے ایک ایسی گیس نکلنے والی تھی جو فضا میں بلند ہو کر اس حفاظتی انتظام میں رخنہ پیدا کر دے جو انسان کو مضر آفتابی شعاعوں سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ مگر انسانی ماہرین کو اس کا علم صرف اس وقت ہوا جب کہ ان کی انڈسٹری کے یہ مضر نتائج عملاً ظہور میں آگئے اور انسان ان کا شکار
یہ تقابلی مثال بتاتی ہے کہ کائنات کی تخلیق نہ صرف یہ کہ ذہن کے بغیر نہیں ہو سکتی، بلکہ انسان جیسی ذہانت بھی اس عمل تخلیق کے لیے ناکافی ہے۔ اس کے لیے مافوق ذہانت (سپر ذہانت) اس قسم کے اعلیٰ ذہن کے بغیر موجودہ با معنی کائنات کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔