Al-Risala · October 1992

Los Angeles riots: Myth lies shattered

Al-Risala, October 1992, pp. 28–1

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مضمون امریکہ کے نسلی فسادات کے بارہ میں ہے۔ مئی ۱۹۹۲ میں یہ فسادات اولاً لاس اینجلیز میں ہوئے اور پھر کئی امریکی شہروں میں پھیل گئے۔ ان میں پچاس آدمی مرگئے۔ سیکڑوں زخمی ہوئے۔ کروڑوں روپیہ کی جائداد تباہ ہوئی، آخر کار فوج نے آکر ان کو دبا دیا۔ ۱۶۱۹ء میں امریکہ میں افریقہ کی سیاہ فام نسل کے لوگ بطور زرعی غلام کے لائے گئے یہ لوگ یہاں بس گئے۔ ان کی اولادیں ہوئیں، مگر امریکہ میں انھیں برابر کے شہری حقوق حاصل نہ ہوسکے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر جو ایک تعلیم یافتہ نیگرو تھے ، ان کی قیادت میں ۱۹۶۰ میں برابری کے حقوق حاصل کرنے کی تحریک چلی۔ اب اگر چہ قانونی طور پر امریکہ کی سیاہ فام نسل کو برابر کے شہری حقوق دیے گئے ہیں، مگر عملاً یہ حق انھیں حاصل نہیں۔ چنانچہ ان کے درمیان مسلسل بے چینی موجود رہتی ہے۔ اسی کا ایک شدید اظہار پچھلے فساد میں اس وقت ہوا جب کہ لاس اینجلیز کے ایک سفید فام ڈرائیور نے ایک سیاہ فام ڈرائیور کو سڑک پر مارا۔ مضمون نگار نے اس سلسلہ میں ایک نہایت اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہندوستان کے انتہا پسندوں کے لیے بھی بے حد قابل توجہ ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ برابریہ کوشش کرتا رہا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر سیاہ فام نسل کو سفید فام نسل میں شامل کرے جس میں ہر آدمی سفید فام امریکی نقشہ میں ڈھل جائے۔ مگر حالیہ فساد نے اس نقطہ نظر کی ناکامی کو ثابت کر دیا ہے۔ اب ضروری ہے کہ اس نقطہ نظر میں تبدیلی پیدا کی جائے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ تہذیبی تنوع کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نسلی امتیاز کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یہی دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند جمہوریت میں یک جہتی لانے کی واحد ضمانت ہے :

مضمون نگار کا تبصرہ ہندوستان کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا امریکہ کے لیے۔ اگر چہ دولت اور طاقت کے اعتبار سے دونوں ملکوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ تاہم جہاں تک مذکورہ مسائل کا تعلق ہے، وہ دونوں جگہ یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔

ہندوستان میں بھی ایک طبقہ ہے جو اسی ڈھنگ پر سوچتا ہے جس طرح امریکہ کے سفید فام لوگ سوچتے ہیں۔ ان کے ذہن میں ایک خود ساختہ بھارتیہ ماڈل ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے تمام فرقے اور گروہ اسی ماڈل میں اپنے آپ کو ڈھال لیں۔ اس نقطہ نظر کو کچھ لوگ بھارتیہ کرن کا نام دیتے ہیں اور کچھ لوگ اس کو انڈینائزیشن کہتے ہیں۔

مگر یہ ہندوستان میں بھی اسی طرح نا قابلِ عمل ہے جس طرح وہ امریکہ میں نا قابل عمل ہے۔ قسم کے ہر نظریہ کا مطلب تاریخی حقیقتوں سے لڑنا ہے۔ اور تاریخی حقیقتوں سے لڑنا ایسا ہی ہے جیسے پتھر کی چٹان سے اپنا سر ٹکرانا اور پھر خود اپنا سر توڑ لینا۔

مضمون نگار نے بجا طور پر امریکی مسئلہ کا حل کلچرل پلور لزم کو بتایا ہے۔ یعنی ملک کے ہر تہذیبی گروہ کو اپنے تشخص پر قائم رہنے کا موقع دینا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا یہی ہندوستان کے مسئلہ کا حل بھی ہے۔ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے۔ یہاں مختلف تہذیبی گروہ آباد ہیں۔ گروہوں کے تہذیبی تشخص کو مٹانے کی کوشش ملک میں فساد تو بر پا کر سکتی ہے۔ مگر وہ خود تشخص کو ختم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

اس لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ ہر ایک کے انفرادی تشخص کو تسلیم کیا جائے۔ کو ایک باغ کی حیثیت دی جائے جہاں طرح طرح کے پھول اور پودے دکھائی دے رہے ہوں نہ کہ صرف ایک پھول اور صرف ایک پودا۔ ہندوستانی سماج کی کامیاب تشکیل صرف تنوع کے اصول پر ہو سکتی ہے، وہ یکسانیت کے اصول پر کبھی نہیں ہو سکتی۔

Printed page